پاکستان میں نصاب تعلیم ہی تعصب، تنگ نظری اور اقلیتوں میں احساس عدم تحفظ کا اصل سبب: پروفیسر ہود بھائی

اسلام آباد:پاکستان میں تعصب، تنگ نظری اور اقلیتوں میں احساس عدم تحفظ کے لئے نصاب تعلیم کو ایک حد تک ذمہ دار گردانتے ہوئے سینئر تجزیہ کار و سائنسدان پروفیسر پرویز امیر علی ہود بھائی نے کرسمس اور قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کے اس قول کو عمل میں بدلنے پر زور دیا کہ ریاست کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہو نا چاہئے کہ کوئی مسجد جاتا ہے یا مندر یا پھر گرجا گھر۔
بطور شہری سب کے حقوق برابر ہیں۔ ڈان نیوز کے پروگرام ‘ان فوکس ‘ میں پاکستانی نیوکلیئر طبیعیات دان نے کہا کہ ہمیں قائد اعظم کا یوم پیدائش ضرور منانا چاہیئے لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ملک میں تعصب اور تنگ نظری ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔
قانون میں لفظ اقلیت کا استعمال توکیا جاتا ہے لیکن اقلیتوں کو مساوی تسلیم نہیں کیا جاتا اس لئے پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتیں خوف کا شکار رہتی ہیں۔ ہم نے ہر شخص کو اس کے مذہب اور مسلک کی بنیاد پر دیکھنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہم پر امن طریقے سے نہیں رہ پائیں گے۔ ڈان کے مطابق پروفیسر ہود بھائی نے مزید کہا کہ” تعصب پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارے یہاں پڑھایا جانے والا نصاب ہے جسے تبدیل کئے جانے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ اس تعلیمی نظام سے جو باہر نکلتا ہے وہ دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتا“۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں پنجاب کے ضلع چکوال کے گاؤں ڈھلمیال میں ایک ہزار کے قریب مشتعل ہجوم نے احمدی برادری کی عبادت گاہ کو گھیرے میں لے لیا تھا۔پولس نے اگرچہ ہجوم کو منتشر کر دیا پھر بھی اس واقعے میں دو لوگوں کے ہلاک اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔چکوال میں احمدی برادری کی عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کے حملے کے بعد غیر محفوظ حالات کے باعث احمدی برادری کے کئی لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کر دی۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: School text fuel bias says parvez hoodbhoy in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply