احتساب جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے کمیشن تشکیل دینے کی استدعا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے احتساب جج ارشد ملک کے حوالے سے ویڈیو افشا تنازعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کے لیے داخل کی گئی ایک عرضی کو سماعت کے لیے داخل کر لیا۔جس پر آج (منگل) ہی سماعت شروع ہوگئی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیر سربراہی ایک تین ججی بنچ ،جس کے دیگر اراکین جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمارہ عطا بندیال ہیں،ایک وکیل اشتیاق احمد مرزا کے وکیل کے چودھری منیر صادق کے توسط سے داخل کی گئی عذر داری پر سماعت کررہی ہے۔

مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو افشا اسکینڈل نے عدلیہ کی معتبریت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔وکیل صادق نے مزید کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور وقار سے متعلق نہایت حساس معاملہ ہے۔اس لیے عدالت کو اس معاملہ کی تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم کرنا چاہئے کہ اس سارے فساد کی جڑ کون ہے۔ وکیل کے اس استدلال پر کہ اس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے خواہ وہ کمیشن یک نفری ہی کیوں نہ ہو تو چیف جسٹس آف پاکستان نے پوچھا کہ کمیشن کا سربراہ کون ہونا چاہئے تو وکیل نے جواب دیا ”ایک جج“۔

یہ معلوم کیے جانے پر کہ کمیشن کیا تحقیقات کرے تو کیل نے کہاکہ کمیشن معاملہ کی صداقت کا پتہ لگائے اور اگر الزامات ثابت ہوجائیں تو توہین عدالت کی کارروائی کی جانی چاہئے۔معاملہ کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ نے عمارت کے اندر باہر اور اطراف میں بردست حفاظتی بندوبست کیا۔سپریم کورٹ کے دفتر نے وضاحت کی کہ عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں گنجائش کم ہے اس لیے سپریم کورٹ کے ایس پی (سیکورٹی) کے ذریعہ جاری کردہ پاسں سے ہی داخلہ دیا جائے گا۔

واضح ہو کہ پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این) کی نائب صدر مریم نواز نے 6جولائی کو یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا تھا کہ ان کے والد و سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو جیل بھجوانے کے لیے باقاعدہ ایک زبردست سازش رچی گئی تھی جس میں پورے عدالتی عمل کو بری طرح یرغمال بنا کرایسی صورت حال پیدا کر دی گئی تھی جس میں ان کے والد کو مجرم قرار دے کر جیل بھجوانا عدالت کی مجبوری بن گیا تھا۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ،جس میں پی ایم ایل این کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی،مریم نے خفیہ طریقہ سے ریکارڈ کیا گیاا ایک ویڈیوچلایا جس کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں ان کے والد کے قریبی دوست و مداح ناصر بٹ اور گذشتہ سال نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز بدعنوانی کیس میں سات سال کی سزا سنانے او فلیگ شپ انویسٹمنٹ کیس میں بری کرنے کا فیصلہ سنانے والے احتساب جج ارشد ملک کے درمیان ہونے والی گفتگو ریکارڈہے مریم نے الزام لگایا کہ جج نے ناصر سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ نواز شریف کے خلاف غیر منصفانہ فیصلہ سناکر وہ خود کو مجرم محسوس کر رہے ہیں او ر ان کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔

اس لیے انہوں نے ملاقا ت کے لیے ناصر کو اپنی رہائش گاہ پربلایا جہاں یہ گفتگو ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ان کے والد کو مفروضات اور الزامات پر ہی سزا سنادی گئی۔ ان کے خلاف ٹھوس تو کیا کوئی معمولی ثبوت بھی ایسا نہیں تھا جس سے وہ مجرم قرار دیے جاسکتے۔اس ویڈیو کو انہوں نے غیبی مدد سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جج ملک نے نواز کے خلاف کرپشن کیس میںان خامیوں کی نشاندہی کی ہے جن سے وہ نواز شریف کے وکیلوں کو آگاہ کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جج ملک نے اعتراف کیا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے انہیں بلیک میل کیا گیا تھا اور دباو¿ ڈالا گیا تھا۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc asked to form judicial commission on video leak controversy involving accountability judge in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.