راحیل شریف نے سعودی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالی تو پاکستان میں مسلکی فسادات کا خدشہ: عام خیال

اسلام آباد:خارجہ سکریٹری تہمینہ جنجوعہ نے سابق فوجی سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کے سعودی قیادت والے اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے حوالے سے کہا ہے کہ کوئی بھی سبکدوش فوجی افسر کوئی بھی پیشہ یا ملازمت اختیار کرنے کے لیے آزاد ہے۔اسے کسی کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سردار اویس خان لغاری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور کمیٹی کو مختلف امور پر بریفنگ دی ہے۔
خارجہ سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ نے قومی اسمبلی کی خارجہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ راحیل شریف کی سعودی عسکری اتحاد میں شمولیت سے کسی اسلامی ملک کو نقصان نہیں ہوگا۔ سعودی عسکری اتحاد کا قیام کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تمام اسلامی ممالک ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ تہمینہ نے سعودی عسکری اتحاد کو خطے میں ایران کے خلاف استعمال ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راحیل شریف کبھی ایران کے خلاف کام نہیں کریں گے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں اور بڑی سطح پر دونوں ممالک میں تجارت ہو رہی ہے۔
پاکستان کا ایران کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ ریٹائرڈجنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور قائدین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ راحیل شریف کی سربراہی سے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات جنم لے سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے دو سال قبل سعودیہ اور یمن کے درمیان جاری جنگ میں غیرجانبدار رہنے کی قراداد منظور کی تھی۔

Title: retired military officers are free to accept any job tehmina janjua | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply