جبراً اسلام قبول کرانے کے کمسن لڑکی کے دعوے پر چترال ضلع میں مسلمانوں اور کالاش قبیلہ میں تصادم

اسلام آباد:چترال میں ایک کمسن لڑکی کی اس شکایت کے بعد کہ اس کو جبراً اسلام قبول کرایا گیا ہے مقامی باشندوں اور کالاش قبیلہ کے لوگوں میں جھڑپ ہو گئی۔ کالاش کے ایک سماجی کارکن لوکے رحمت نے بتایا کہ پولس نے چترال ضلع میں کالاش قبائل کی وادی بمبوراتے میں ایک مکان پر، جہاں وہ لڑکی اپنے قبول اسلام کے بارے میں پولس کو بیان دینے پہنچی تھی، حملہ آور گروہ کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔
مکان مالک کے بیان کے مطابق یہ بچی پولس کو بیان دینے کے لیے پڑوس کے مکان میں آئی تھی۔ لیکن اس بات کی خبر پھیلتے ہی وہاں مقامی باشندوں نے جمع ہونا شروع کر دیا۔کالاش قبیلہ نے بھی اس مکان اور اس کے مالک اور بیوی بچوں کی حملہ آوروں سے حفاظت کرنے کے لیے وہاں پہنچنا شروع کر دیالیکن وہاں لاٹھی ڈنڈوں سے لیس پہلے سے موجود مسلمانوں نے کالاش قبائلیوں پر لٹھ برسانا اور پتھراو¿ کرناشروع کرد یا۔
کالاش قبیلے کا ہرفرد اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا۔جائے واردات سے تیزی سے بھا گ کرآنے والے رحمت نام کے ایک شخص نے اپنی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہاس حملہ میں درجنوں زخمی ہو گئے ۔اور اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت کارروائی نہ کرتے تو حملہ آور ہم سب کو مارڈالتے۔رحمت کے مطابق کالاش باشندوں کی اب مجموعی تعداد 4000ہی رہ گئی ہے۔کیونکہ ان کے نوجوانوں کی اکثریت تیزی سے حلقہ بگوش اسلام ہو رہی ہے جس کے باعث سماجی کارکنوں نے اس قبیلے کے رسم و رواج اور روایات کی حفاظت کے لیے ایک مہم شروع کر دی ہے۔

Title: residents clash in chitral over kalash girls forced conversion to islam | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply