سول سوسائٹی کی طر ف سے انتخابات 2018 کے لئے انسانی حقوق سے متعلق چارٹر آف ڈیمانڈ

خیبر پختونخوا :سول سوسائٹی ورکنگ گروپ خیبر پختونخوا نوجوانوں ، خواتین،خواجہ سراؤں اور اقلیتوں کے مفادات اور حقوق کے تحفظ اور فروغ کےلئے کام کررہا ہے۔ ہم سب جمہوریت کی ترقی اور بنیادی انسانی حقوق اور وقار کے فروغ اور تحفظ کی جدوجہد میں اکھٹے ہیں۔
قانونی سازی کے فریم ورک اور ریاست کے بین الاقوامی وعدوں کے لحاظ سے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کےلئے ذمہ دار اور پرعزم ہے جسے آئین پاکستان میں کیے گئے وعدوں اور اس کے ساتھ بین الاقوامی ذمہ داریوں بشمول اقوام متحدہ کے معاہدوں، پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز)، جنرل سکیم آف ریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) اور اس طرح کی دوسری بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔
ہم پاکستان کی سول سوسائٹی کے ارکان کی حیثیت سے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیتے ہیںکہ وہ انسانی حقوق کے کم سے کم معیارات اور چارٹر آف ڈیمانڈ میں پیش کردہ سفارشات اور مطالبات کا احترام کریں اور انہیں یقینی بنا ئیں ۔ہم توقع کرتے ہیں کہ مندرجہ ذیل سفارشات سیاسی جماعتوں کے مستقبل کی کوششوں کو مطلع کریں گی اور ان کی پالیسی کی تشکیل اور عمل درآمد کی کوششوں کا بھی حصہ ہوں گی:

خواتین کو بااختیار بنانا

  • جہاں صوبائی کمیشن برائے خواتین کی سہولت میسر نہیں، وہاں اس کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ کمزور اور غیرمحفوظ خواتین کے لیے حفاظتی طریقہ کار کو یقینی بنانے کے لیے بجٹ میں مناسب رقوم مختص کی جائیں۔ جہاں ایسے کمیشن پہلے سے موجود ہیں انہیں مضبوط اور مستحکم بنایا جائے اور ان کی آزادی اور مالیاتی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔
  • سیاسی جماعتوں میں خواتین کارکنوں کی نمائندگی میں اضافہ کے ساتھ ہی انہیں فیصلہ سازی میں ان کے کردار کو فروغ دیا جائے، تمام سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی کے اندر مختص عہدوں پر 30 فیصد تک خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنائیں۔
  • صنف پر مبنی ایک مؤثر پالیسی وضع اور اختیار کریں تاکہ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کا مقابلہ کیا جا سکے اور خواتین کو مالیاتی وسائل اور روزگار کے پروگراموں کے ساتھ بااختیار بنائیں۔
  • خواتین ارکان پارلیمنٹ کی مخصوص نشستوں کو مقرر کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیں اور اس پر نظرثانی کریں۔
  • سیاسی جماعتوں کے اندر صنف پر مبنی پالیسی اور ضابطہ اخلاق متعارف کرائیں اور اس کے ساتھ خواتین کے شعبے اور خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق کمیٹیاں سیاسی جماعتوں کے ڈھانچوں کے اندر قائم کریں۔
  • خواتین کے قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن عمل میں کردار اور شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
  • غیرسرکاری شعبہ میں خواتین کارکنوں کی پہچان اوران کے سماجی تحفظ کا اہتمام کیا جائے اور تمام صوبوں کو گھروں میں مقیم خواتین اور لڑکیوں اور گھریلو کام میں ہاتھ بٹانے والی خواتین کے لیے پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے۔
  • صنف پر مبنی مساوی سلوک کو سیاسی جماعتوں کے ڈھانچوں کے اندر اور عمل اور طریقہ کار میں اداراتی صورت دی جانی چاہیے۔

بچوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا

  • بچوں کی نشوونما اور تحفظ کے لیے ایک مجموعی فریم ورک کے ساتھ قوانین بنائے اور ان کی حمایت کی جائے ، اس کے ساتھ ہی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بچوں کے استحصال اور سزاؤں کی واضح تشریح کی جائے۔
  • بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال کے واقعات کی رپورٹنگ کے لیے مؤثر نگرانی اور اس کے ساتھ مجرموں کے خلاف مفصل تحقیقات اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کے نظام کےقیام کی حمایت کی جائے۔
  • بچوں کے حقوق سے متعلق صوبائی کمیشن کے قیام کی حمایت کی جائے جس کے لیے مناسب بجٹ، فنڈز اور اختیارات دینا تاکہ وہ تفویض کردہ فرائض کو سرانجام دے سکیں۔

نوجوانوں کی تعداد کی مناسبت سے مواقع فراہم کرنا

  • قومی اور صوبائی سطح پر نوجوانوں سے متعلق خصوصی پالیسیاں وضع کی جائیں جو نوجوانوں کے مسائل اور دلچسپیوں پر توجہ مرکوز کر سکیں۔
  • نوجوانوں کے ساتھ تعلیم، روزگار اور مشغولیت (ای ای ای) کے پروگراموں کے ذریعے شراکت استوار کریں،ان پروگراموں کی تفصیلات سیاسی جماعتوں کے منشور میں شامل کرنی چاہئیں۔
  • سیاسی قیادت میں نوجوان اراکین کے لیے مقام پیدا کیا جائے۔
  • نوجوانوں کے لیے نہ صرف بطور ووٹر بلکہ قانون ساز ایوانوں کے اراکین کے طور پر بھی شمولیت کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
  • نوجوانوں کے لیے تجارتی اور مہارتوں کے پروگراموں کی ابتداء کریں اور انہیں فروغ دیں۔
  • نوجوانوں کی صلاحیت استوار کرنے کے پروگراموں کو سیاسی جماعتوں کے اہم منصوبوں سے مربوط کریں۔

قابل رسائی اور معیاری تعلیم فراہم کرنا

  • قومی تعلیمی پالیسی پلان کو پورا کرنے، تعلیم کے شعبہ میں اندرونی ملکی مالیاتی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کی حمایت کی جائے جس میں جی ڈی پی کا 6 فیصد صرف کرنے کا کہا گیا ہے اور تعلیم کے طرف جانے والے صوبائی بجٹ کے وسائل کا کم سے کم 20فیصد ہونا چاہیئے۔
  • صوبوں میں ترقیاتی بجٹ اور غیرتنخواہ والے بجٹوں کے مالیاتی وسائل میں اضافہ کیا جائے۔
  • دولت اور انکم ٹیکس کا 2 فیصد تعلیم کے لیے مختص کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا جائے ۔
  • معاشرتی اور اقتصادی توازن کی پیمائش کے لیے اشارات تیار کریں اور ان سکولوں کے لیے زیادہ مساویانہ طور پر وسائل مختص کریں جو معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اورجو نقصان اٹھا رہے ہیں۔
  • آئین کے آرٹیکل 25 اے کے نفاذ کی نگرانی اور مناسب تنظیم کا ایک موزوں فریم ورک وضع کریں اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ان نجی سکولوں کی نگرانی کے لیے بھی موزوں فریم ورک ہونا چاہیئے جو کمزور تنظیمی طریقوں میں کام کر رہے ہیں۔
  • نجی سکولوں کی فیسیوں اور نجی سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلبائ کے درمیان معاشرتی تنوع کے بارے میں ڈیٹا جمع کریں اور اسے عوامی دسترس میں لائیں تاکہ عدم مساوات کی شفاف انداز میں نشاندہی کر سکیں اور ان کا ادراک کر سکیں

کارکنوں کے حقوق کو یقینی بنانا

  • ایک موافق صوبائی اور قومی لیبر پالیسی اور قانون سازی کی طرف کام کرنا جو بنیادی بین الاقوامی لیبر معاہدوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ ایک ایسی پالیسی کی تشکیل اور تکمیل سے مطلوبہ اداراتی پالیسیوں کی وضاحت کرنے اور نافذ کرنے میں بھی مدد ملے گی
  • ایسی پالیسیوں کو متعارف کرانا جو غیرمشروط یونین سازی کا حق انٹرنیشنل لیبر کنوینشن کے آرٹیکل 87 اور 89 کے مطابق حاصل کرنے میں مدد اور ترغیب دیں جن میں ان کے اخراج کی شق کی تنسیخ شامل ہو جس کا تعلق ریاست کی انتظامیہ میں کارکن، پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن یا سیکورٹی پیپرز لمیٹیڈ میں ملازم کارکن، سروسز یا تنصیبات میں خصوصی طور پر دوسرے اداروں کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج سے متعلق ملازم کارکن ہو۔
  • سیاسی جماعتوں کو ایک عام اعلان جاری کرنا چاہیئے کہ وہ کسی ایسے شخص کو انتخابات کے لیے ٹکٹ نہیں دیں گے جو غلامانہ اور بچوں کی جبری مشقت کا ملزم ہو یا لیبر قوانین یا معیارات کی بلاواسطہ یا بالواسطہ سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ملزم ہو۔
  • سیاسی جماعتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ بچوں کی جبری مشقت کی ممانعت کے لیے پنجاب کے بریک کلن ایکٹ مجریہ 2016 میں ترمیم کریں اور بچوں کی مشقت کی ممانعت کے قوانین دوسرے صوبوں میں بھی نافذ کریں اور جہاں ضروری ہے وہاں دوسرے قوانین میں ترمیم کریں۔
  • سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اجرتوں کی ادائیگی سے متعلق قانون مجریہ 1936 میں ترمیم کریں تاکہ بینکوں کے ذریعے لین دین کو یقینی بنایا جا سکے اور کم سے کم اجرت کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
  • اجتماعی سودے بازی کو قائم کرنے کا حق ملک کے آٹھ ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز (ای بی زیڈز) میں ممنوع ہے جہاں 40 ہزار سے زائد کارکن ملازم ہیں جن میں سے 70 فیصد خواتین ہیں۔ لیبر قوانین کا اطلاق ای بی زیڈ اور غیرسرکاری شعبہ کے کارکنوں مثلاً زراعت سے وابستہ گھروں میں مقیم اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں پر بھی ہونا چاہیئے۔
  • سہ فریقی حکمت عملی کی تشکیل اہم ڈھانچوں میں جہاں ملازمت دینے والوں، کارکنوں اور حکومت / سیاسی جماعتیں، قوانین اور پالیسی کی اصلاح کے لیے مل کر کام کریں۔ صوبائی اور قومی سطح پر سہہ فریقی لیبر کانفرنس کا باقاعدگی سے انعقاد ہونا چاہیئے۔
  • جسٹس شفیع الرحمن کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے اور اس کی لیبر قوانین کو اقسام، یعنی صنعتی تعلقات، اجرتوں کا قیام، ملازمت کی شرائط، پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت، انسانی وسائل کی ترقی، کارکنوں کی فلاح و بہبود اور معاشرتی سلامتی کو مربوط کرنے کی تجویز پر غور کریں۔
  • بلوچستان کے وفاق اور صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا بی) میں مصروف کار کارکنوں کے حقوق کا لیبر سے متعلق قانون سازی کے تحت احساس کیا جائے۔ مزید برآں عام صوبائی مسائل جیساکہ ای او بی آئی کے دائرہ کار کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں زیر بحث لایا جائے۔
  • جبری مشقت کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوششیں کی جائیں اور مجرموں کو سخت احتساب اور مظلوموں کی داد رسی کو یقینی بنائیں۔
  • لیبر کمیونٹی کو سیاسی دائرہ میں نمائندگی دینی چاہیئے اور سیاسی جماعتوں کو لیبر کمیونٹی کے ارکان کو انتخابات کے ٹکٹ جاری کرنے چاہئیں

مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دینا

  • مذہبی اقلیتوں کی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ فیصلے (19 جون 2014) کی تعمیل کیلئے قومی اور صوبائی سطح پر ایک عمل درآمد کمیٹی قائم کی جائے۔
  • ایسے قوانین کو منسوخ کیا جائے جو مذہب، نسل یا نسلیت کی بنیاد پر کسی شخص میں امتیاز کرتے ہوں۔
  • ان مجرموں کے خلاف مؤثر قانونی چارہ جوئی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط طریقہ کار وضع کریں جو ذاتی مفادات کی خاطر قانون توہین کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
  • سندھ میں بالخصوص مذہب کی جبری تبدیلی کے قانون پر نظرثانی کی حمایت کریں اور وفاقی پارلیمنٹ اور دوسری صوبائی اسمبلیاں مذہب کی جبری تبدیلی کی ممانعت کے قوانین وضع کریں۔
  • مذہبی اقلیتوں کی طرف سے قومی مردم شماری کی گنتی میں ان کی غلط نمائندگی کے بارے میں تحفظات پر غور کریں۔
  • ایسے تعلیمی نصاب کے جائرہ اور متن پر نظرثانی کی حمایت کریں جو کسی مخصوص مذہب، نسل یا کمیونٹی کے خلاف امتیازی ہو۔
  • اقلیتوں کے بارے میں قانونی کمیشن کا قیام عمل میں لائیں اور اسے خودمختارانہ اختیارات اور مناسب مالیاتی وسائل اور ضروری سٹاف تفویض کریں۔
  • مذہبی اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا جائزہ لیں اور ان میں اضافہ کریں تاکہ مذہبی اقلیتوں کو مناسب سیاسی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی جماعتوں کی رکنیت سازی میں بھی اقلیتوں کی نمائندگی پر ازسرغور کریں۔
  • اقلیتوں کے لیے ملازمتوں میں مختص کیے ہوئے 5 فیصد کوٹہ میں اضافہ کرنا چاہیئے اور کوٹہ پر مؤثر عمل درآمد کا مناسب جانچ پڑتال کے عمل کے ذریعے اہتمام کرنا چاہیئے۔
  • مذہبی اقلیتوں مثلاً عیسائی اور سکھ کے معاملہ میں شادیوں کے ٹوٹنے کے مسائل سے متعلق قوانین وضع کریں اور انہیں بہتر بنائیں۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کو یقینی بنانا

  • خواجہ سراؤں کو سیاست میں شرکت کے لیے بااختیار بنانے کے لیے سیاسی طور پر عہد کا مظاہرہ کریں اور لازمی کوششیں کریں کہ اس کمیونٹی کو نہ صرف انتخابی عمل سے بطور ووٹر بلکہ امیدواروں کی حیثیت سے باہر نہ رکھا جائے۔
  • سیاسی جماعتوں کو خواجہ سراؤں اور بین الجنس کمیونٹی کو وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر جماعت کے ڈھانچوں میں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
  • خواجہ سراؤں کو پالیسی وضع کرنے کے مناسب حکمرانی کے ڈھانچوں بشمول وزارتی تناسب میں شامل کرنا چاہیئے اور انہیں اصلاحاتی کمیونٹی مثلاً انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں مناسب نمائندگی دینی چاہیئے۔
  • سیاسی جماعتوں کو خواجہ سراؤں کی کمیونٹی کو اپنی جماعت کے منشور میں شامل کرکے اور انہیں اپنی جماعتوں میں مناسب مقام دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔
  • سیاسی جماعتوں کو سیاسی طور پر سر گرم خواجہ سرا اراکین کی استعداد کو استوار کرنے کے لیے رکنیت سازی کے پروگرام کی ابتداءکرنی چاہیئے۔
  • صنف کی بنیاد پر بلاواسطہ یا بالواسطہ امتیاز کی نگرانی کرنے اور اس کی تلافی کرنے کے لیے موجودہ قانون سازی کے اقدامات کا تجزیہ کریں، متعلقہ ڈیٹا کا جائزہ لیں، اکٹھا کریں اور تجزیہ کریں۔
  • اعلیٰ سیاسی عہدیداروں کو مختلف صنفوں کے انسانی حقوق کے احترام اور بردباری کو فروغ دینے کے لیے ترغیب دیں۔

اظہار آزاد کےلئے ماحول پیدا کرنا

  • منشور میں انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی ایک جامع پالیسی وضع کرنے کی ضرورت کا احساس کیا جائے اور محافظین کی زندگی اور آزادی تقریر کے تحفظ کی ضمانت دینے کے لیے مؤثر تدابیر کا قیام عمل میں لانا چاہیئے۔ اس پالیسی میں صحافیوں کے تحفظ کو بھی شامل کرنا چاہیئے اور اہم سٹیک ہولڈروں کے ساتھ مشاورت کے بعد دفاع اور تحفظ کا قانونی طریقہ کار واضح کرنا چاہیئے۔
  • جہاں پر موجود نہ ہو وہاں ایک انتہائی مؤثر قانون تحفظ بنایا جائے تاکہ صحافیوں،سرکاری ملازمین، سیاسی کارندوں وغیرہ کو ایسی اطلاعات استعمال کرکے قانونی چارہ جوئی اور نقصان سے تحفظ فراہم کیا جا سکے جس سے ٹیکس گزاروں کی رقوم سے چلائے جانے والے دفاتر میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
  • الیکٹرانک سائبر کرائم کی روک تھام کا ایکٹ (پی ای سی اے) جسے 2016 ءمیں قانون کی شکل دی گئی پر نظرثانی کی جائے تاکہ آن لائن آزادی اظہار کو جرائم سے پاک کیا جا سکے۔ یوزر ڈیٹا کی پابندی کی ہدایات کو توجیح کریں اور اس کی عمل درآمد کے طریق کار میں احتیاط پسندی اور شفافیت کے لیے اس کی گنجائش بڑھائی جائے۔
  • آن لائن یا دیگر ذرائع سے آزادی اظہار اور غیرسرکاری تنظیموں/ سول سوسائٹی آرگنائزیشن کو ہراساں کرنے اور ان پر حملوں پر سزاؤں سے استثناءپر بھی لازماً توجہ دی جائے۔
  • سول سوسائٹی آرگنائزیشن/ غیرسرکاری تنظیموں کو غیرحکومتی/ معاشرتی شعبہ کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک وضع کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اس کے علاوہ این جی اوز کو اپنا کام سرانجام دینے کے مددگار ماحول فراہم کرنا چاہیئے۔
  • طلباء کی یونینوں پر یک طرفہ پابندی کو فوراً اٹھا لینا چاہیئے۔
  • حکام کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہیئے کہ دفعہ 144 کو پرامن اجتماع کی آزادی کے حق پر غیرمناسب طریقے سے قدغن لگانے کے لیے کبھی استعمال نہ کریں اور اسے منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔
  • سیاسی جماعتوں اور حکومت کو عمومی طور پر سول سوسائٹی کے ارکان کو اس جدوجہد میں بطور ساتھی دیکھنا چاہیئے جو ملک کو درپیش مسائل اور مشترکہ آزمائشوں پر قابو پانے کے لیے کی جاتی ہے، سول سوسائٹی کے ارکان کے بارے میں مخالفانہ جاری پالیسی اور ارکان کو غیرملکی کارندے قرار دینا ملک کے لیے منفی اثر کی حامل ہے۔

عمومی سفارشات / مطالبات

  • سیاسی جماعتیں اس بات کا عہد کریں کہ مقامی قوانین میں اقوام متحدہ کی ان ذمہ داریوں کے مطابق جن پر پاکستان نے رضامندی ظاہر کی ہے ترمیم کی جائے گی۔
  • ایسی قانون سازی کی ضمانت دیں جس سے وہ تمام معاہدات پارلیمنٹ کی طرف سے چھان بین کی اجازت ملے اور اقوام متحدہ اور دوسرے معاہدہ کرنے والے اداروں کی رپورٹوں کو پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کیا جائے،سیاسی جماعتوں کو اس کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔
  • ان سیاسی جماعتوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق جن علاقوں میں دفاتر موجود نہیں وہاں دفاتر / سیل قائم کریں اور جہاں یہ موجود ہوں انہیں مضبوط اور مستحکم بنائیں۔ ان سیل / دفاتر کو سیاسی جماعت کی تمام پالیسی کی تشکیل کے معاملہ کی چھان بین کرنے کی اجازت دیں تاکہ حقوق پر مبنی ایک طریقہ اختیار کیا جاسکے۔
  • اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق اعلامیہ کے مطابق محافظیں، سیاسی جماعتیں اس بات پر رضامند ہوں کہ ملک میں محافظیں کے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت دینے کے لیے اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
  • سول سوسائٹی اور شہریوں کے ساتھ عمومی طور پر بھرپور مکالمہ کو یقینی بنائیں تاکہ پالیسی کی تشکیل میں تمام مراحل میں شرکت اور حکمرانی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
  • فاٹا اصلاحات کے لیے ترقی سے متعلق پیش رفت خوش آئند ہے۔ اصلاحات کا عمل اور پالیسی پر عمل درآمد فاٹاکے عوام کی طرف سے جوابی رد عمل کے عین مطابق ہونا چاہیئے
  • اس بات کا اہتمام کریں کہ فاٹا اصلاحات کے عمل میں خواتین کی شرکت خصوصی طور پر پالیسی سطح پر نمایاں ہو جوکہ یہ ریاست کی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات سے عہد کی یکسر خلاف ورزی ہے۔
  • جبری غائب کیے جانے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور موجودہ کمیشن کی فریقین کی طرف سے عمل کے فقدان کے پیش نظر ایک نئے خودمختار کمیشن کے قیام کی تجویز دینی چاہیئے جو جبری غائب کیے گئے افراد کے معاملات کو حل کر سکیں یا موجود ہ کمیشن تحقیقاتی ماہرین شامل کرکے ازسر تنظیم کی جائے۔
  • سیاسی جماعتوں کو داخلی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کے لیے ایک قومی پالیسی وضع کرنی چاہیئے اور داخلی طور پر بے گھر افراد کے لیے اقوام متحدہ کے مسلمہ رہنما اصولوں کو بشمول پنہورو(Pinheiro Principle)اصول شامل کرنا چاہیئے تاکہ بے گھر افراد سے غیرامتیازی سلوک اور ان کی بحالی کو یقنیی بنایا جا سکے۔
  • عوام اور میڈیا کے لیے تمام جماعتی مہموں اور سیاسی تائید و حمایت اور پیغامات کا اہتمام کریں تاکہ وہ بردباری، آزادی اظہار رائے، آزادی مذہب اور جینے کا حق کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں

سول سوسائٹی ورکنگ گروپ خیبر پختونخوا:-بلیو وینز، لیگل ایڈ اینڈ اویئرنیس سروسز ( LAAS)، خواندو کور، نور ایجوکیشن ٹرسٹ،تاکرہ قبائلی خواندے، پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ( ایچ آر سی پی )، پاکستان کمیٹی برائے انسانی حقوق، خور، آئی سی ڈی آئی، پی سی ایس این،ال پاکستان اقلیتی کونسل,POHA,TNC

Title: press release of civil society working group khyber pakhtunkhwa | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply