سعودی قیادت والا اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد دہشت گردی کے نہیں ایران کے خلاف ہے: فرحت اللہ بابر

اسلام آباد:سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل دیے گئے 41اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد اور جنرل راحیل شریف کا اس اتحاد کی قیادت کرنا ایک بار پھر سینیٹ میں موضوع بحث بن کر ابھر گیا۔ سنیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد اسلامی اتحاد مسلم دنیا میں اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔ علاوہ ازیں اب اس اتحاد کو مسلکی اور ایران مخالف اتحاد قرار دیا جا رہا ہے۔سینیٹ کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سعودی عسکری اتحاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور ریاض کانفرنس کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اتحاد ہمسایہ ملک ایران کے خلاف ہے اور ریاض کانفرنس سے فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔ بابر نے استفسار کیا کہ کیا حکومت جنرل راحیل شریف کو واپس بلانے پر غور کر رہی ہے؟۔
اس موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عسکری اتحاد اب بھی دہشت گردی کے خلاف ہی ہے۔ انہوں نے ایران سے متعلق بیان کو ایک سیاسی بیان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ عسکری اتحاد ایران پر حملہ کرے گا۔ راحیل شریف کو بھی ایران کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کا احساس ہے۔ ہم امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ عالم اسلام میں یہ کہا جارہا ہے کہ مسلم ملک سعودی عرب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تمام مسلمان ممالک کے لئے سربراہی کا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن سعودی عرب کی مسلمانوں کے دشمن امریکہ و اسرائیل سے قریبی وابستگی و دوستی ہے۔ یہی امریکہ ہی ہے جس نے عراق اور افغانستان سمیت کئی مسلمان ممالک پر حملہ کیا تھا اور آج دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ppp senator terms saudi led military alliance anti iran in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply