صدارتی انتخابات میں شکست پر اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے حزب اختلاف کے لیڈروں کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں

اسلام آباد:پاکستان کے صدارتی انتخابات میں اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے اور خود اپنا محاسبہ کنے کے بجائے حزب اختلاف کی دو بڑی پارٹیوں نے ایک دوسرے کو مود الزام ٹہرانا اور کوسنا شروع کر دیا۔

اپزیشن لیڈروں کی الزام تراشیوں کا سلسلہ ووٹ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹ ہاو¿س میں پہنچنے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعہ نتیجہ کا اعلان کیے جانے کے بعد تک بھی جاری رہا۔

حزب اختلاف کے دونون امیدواروں کو متوقع شکست کے بعد ڈان نیوز سے گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سنیٹر مشاہد اللہ خان نے پاکستان پیپلز پاٹی (پی پی پی) کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی پی پی سربراہ آصف علی زرداری کے حکومت کے ساتھ عشق و محبت کا سلسلہ بلوچستان کی سنگلاخ اور بنجر پہاڑیوں میں اس وقت سے شروع ہوا جب سینیٹ کے انتخابات سے کئی مہینے پہلے ہماری حکومت کو گرانے میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔

اور اس محبت کی داستاں کا سلسلہ دراز ہو کر اسلام آباد کے ہری بھری اور رسیلی پہاڑیوں تک پہنچ گیا۔خان نے کہا کہ ان کی رائے میں پی پی پی نے نہ صرف جمہوریت کو کمزور کیا ہے بلکہ اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے اور خود کو ہی ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔

پی ایم ایل این کے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے زداری نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ زرداری نے اتحاد کا شیرازہ بکھیرا ہے۔کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میاں صاحب (شہباز شریف) کبھی حزب اختلاف میں رہے ہی نہیں۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ppp pml n indulge in blame game after facing humiliation in presidential poll in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply