ایکزٹ کنٹرول لسٹ میں ہونے کے باوجود بخاری سعودی عرب کیسے چلے گئے: وزیر اعظم کی وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب

اسلام آباد : نگراں وزیر اعظم نصیر الملک نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی کہ بتایا جائے کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیر مین عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری ایکزٹ کنٹرول لسٹ میں اندراج کے باوجود کیسے سعودی عرب چلے گئے۔

وزیر اعظم دفتر نے صحافیوں کو مطلع کیا کہ نگراں وزیر اعظم نے مسٹر بخاری کے ملک سے باہر چلے جانے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا تھا۔کچھ نجی ٹی وی چینلوں کے مطابق وزارت داخل نے رپورٹ داخل کر دی اور اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسٹر بخاری کا نام ایکزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملہ کو بدھ کے روز وفاقی کابینہ نے اٹھایاتھا ۔مسٹر بخاری کے خلاف قومی احتساب بیورو پناما پیپر لیک میں ایک آف شور املاک ان کے نام سے دکھائے جانے کی تحقیقات کر رہا ہے۔جس کے بعد بیورو نے بخاری کا نام ایکزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے کہا تھا۔لیکن جب بخاری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تو بیورو کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بخاری کو صرف ایک بار کے لیے ہی بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ عمرہ کر سکیں۔

Title: pm wants to know how ptis zulfi bukhari flew abroad despite ban | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply