ایران میں دہشت گردی کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا:پی ایم او

اسلام آباد: وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کو کہ ماضی میں دہشت گردوں نے ایران کے خلاف حملوں کے لیے سرزمین پاکستان کا ناجائز استعمال کیا تھاسیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

ایک بیان میں پی ایم او نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان پر زبردست بحث چھڑی ہوئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان غیر ریاستی عناصر کے ذریعہ پاکستان میں سرگرمیاں چلانے کے لیے پاکستان کی سرزمین کا استعمال کرنے کی بات کر رہے تھے۔

اس ضمن میں انہوں نے ہندوستانی جاسوس کلبھوشن جادھو جیسے افراد اور ان کے مقامی سہولت کاروں کی مثال دی ۔ پی ایم او نے مزید کہا کہ اسی طرح ایران اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہی بات وزیر اعظم نے دورہ ایران کے دوران بلوچستان کی تازہ واردات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح طور پر کہی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم نے یہ سب کچھ اس لیے کہا ہے کیونکہ وہ پورے خطہ میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

واضح ہو کہ پیر کے روز تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اورماڑاخونریزی کے حوالے سے کہا تھا ”چند روز ہوئے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں نے ہمارے14سیکورٹی اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتا ردیا۔

اور میں جانتا ہوں کہ ایران پاکستان کے اندر سرگرم دہشت پسند گروپوں کی دہشت گردی جھیل رہا ہے۔اس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے سیکورٹی سربراہ اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ بیٹھیں گے اور تعاون کی راہوں پر تبادلہ خیال کریں گے تاکہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے ہر دو ممالک تہیہ کریں کہ وہ اپنی سر زمین سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pm office says imrans statement in iran taken largely out of context in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.