پاکستان کو قرض کے جال میں بری طرح جکڑ دینے والے چوروں کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا:عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے عہد کیا ہے کہ وہ ان چوروں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے ملک کو قرض کے جال میں بری طرح جکڑ دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں مچھلی بازار جیسے سماں والے بجٹ اجلاس اور قومی احتساب بیورو کے ذریعہ پنجاب اسمبلی میں حزب اخلاف کے قائد حمزہ شہبازکی پاکستان میں اور لندن پولس کے ہاتھوں متحدہ قومی تحریک (ایم کیو ایم ) کے سربراہ الطاف حسین کی انگلستان میں گرفتاری کے بعدمنگل کی شب عوام کے نام اپنے نشری خطابمیں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ابتدا میں ملک کی معیشت مستحکم کرنے پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے بعد ان کی توجہ ان افراد پر ہوگی جنہوں نے ملک کو قرض کے عمیق گڑھے میں ڈھکیل کر اسے سنگین صورت حال سے دوچار کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان مستحکم ہے ۔ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا دباہ کم ہوگیا ہے۔اب میں بدعنوان سیاست دانوں کا تعاقب کروں گا۔میں ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے رہا ہوں جو اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاکر صرف اس بات کا پتہ لگائے گی کہ آخر 10سال کی مدت میں ملک پر6ہزار ارب روپے کا قرض 24ہزار ارب روپے بڑھ کر 30ہزار ارب روپے کیسے ہوگیا۔ انہوں نے کہا ایک طرف ملک پر قرضہ چڑھ رہا تھا دوسری جانب ان چوروں کی دولت میں85فیصد اضافہ ہو گیا۔

ایک خاتون 5لاکھ ڈالر لیے ہوائی اڈے پر پکڑی گئی۔ اس کی اور بلاول بھٹو زرداری کی دولت جعلی بینک کھاتوں کے توسط سے ہی آرہی تھی۔ملک کے رہنما منی لانڈرنگ میں ملوث تھے لیکن انہیںکون روکتا وہی حکمراں بھی تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انکوائری کمیشن وفاقی تحقیقات ایجنسی، انٹیلی جنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ، فیڈرل بیورو آف ریونیو اور سیکورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن آف پاکستان پر مشتمل ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں احتجاجی مظاہروں سے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔

ایسی کارروائی میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ مجھے ایک موقع دے دے ۔میں ان لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا۔وہ روپے کی قدر گھٹنے کو تو واویلا کر رہے ہیں ۔لیکن انہیں ملکی معیشت کی چنداں فکر نہیں ہے کہ وہ کیسی بدحال ہوگئی ہے۔انہیں تو ملک کی اقتصادیاگت سنبھالنے میں حکومت سے تعاون کرنا چاہئے تھے۔

ملک کی بڑی بڑی توپوں کی گرفتاری اور ان کے داخل زنداںہوجانے پر عمران خان نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آج ایسی بڑی شخصیات جن کے بارے میں کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ وہ جیل کی ہوا کھاسکتے ہیں آج جیل کی چہار دیواری میں زندگی گذار رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان شخصیات کے خلاف ان کی حکومت نے کوئی مقدمہ نہیں کیا۔ سابقہ حکومتوں کے ہی دائر کیے گئے مقدمات پر کارروائی ہو رہی ہے۔ اب وہ کیوں چیخ پکار کر رہے ہیں۔

میری غلطی صرف یہ ہے کہ میں نے انہیں قومی مفاہمتی فرمان(این آر او) دینے سے انکار کر دیا ہے ۔دو بار قومی مفاہمتی فرمان دینے سے ہی ملک قرضہ کے بھاری بوجھ تلے دبا ہے۔ کیونکہ این آر او جاری ہوتے رہے اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے این آر او میں غسل کر کے خود کو جیل جانے سے بچاتے رہے۔ جولوگ شور مچا رہے ہیں کہ شریف اور زرداری کو جیل بھیج دیا گیا۔ تو انہیں معلوم نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو بدعنوان کہتے رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف تو اپنے2 دورہ اقتدار میں زرداری صاحب کو دو بار جیل بھجوا چکے ہیں۔

آج دونوں ہی جیل میں ہیں اور دیگر رشتہ دار بھی جیل کاٹنے پہنچ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج عدلیہ آزاد ہے ۔یہاں تک کہ ان شخصیات کا احتساب کرنے والا قومی احتساب بیورونہ تو ہمارا تشکیل کردہ ہے اور نہ ہی اس کا چیرمین ہمارا مقرر کردہ ہے۔ سب انہی کے تشکیل کردہ اور مقرر کردہ ہیں جو آج جیل میں ہیں۔وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ شریف اور زرداری نے من ترا حاجی بگوئم ،تو مرا حاجی بگو کے مصداق دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا نہیں کہیں گے اور باری باری پانچ پانچ سال ایک دوسرے کو حکومت کرنے کا موقع دیں گے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pm imran vows to go after the thieves who put country badly in debt in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.