پشتون کی حالت زار

(رحیم اللہ یوسف زئی کی ایک پریشر گروپ سے متعلق رپورٹ جو پاکستان کی ستم رسیدہ اقلیتوں میں سے ایک کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے اور ملک کی طاقتور فوج کو ناراض کر رہا ہے)

شمال مغربی پاکستان میں نسلی پشتون گروپ کے اراکین کی چلائی گئی تحریک برائے حقوق ملک میں سیاسی و حقوق انسانی گروپوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر رہا ہے ۔تحریک تحفظ پشتون (پی ٹی ایم) یا پشتون پروٹیکشن موومنٹ بھی بین الاقوامی میڈیا میں غیر معمولی کووریج مل رہا ہے۔جو کہ پاکستان کے متعدد ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعہ اس کی سرگرمیوں کا بلیک آؤٹ کرنے کا ازالہ کر رہاہے۔ پی ٹی ایم اور اس کے حامیوں نے بھی اپنا پیغام اور اپنی پالیسیوں سے دنیا کو روشناس کرانے کے لیے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا کا استعمال شرو ع کر دیا ہے۔

ایک26سالہ ویٹرنیری میڈیسن گریجویٹ منظور احمد پشین کی زیرقیادت پی ٹی ایم لاپتہ افراد اور نہ صرف قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں بلکہ خیبر پختون خوا صوبہ میں واقع لب سڑک سیکورٹی چیک پوائنٹس پر بہت سے قبائلی لوگوں کی بے عزتی کا معاملہ اجاگر کر رہی ہے ۔یہ گروپپشتون عوام سے، جو ایک طویل عرصہ سے اپنے شورش زدہ علاقوں میں انتہاپسندی اور فوجی کارروائی کا شکار بنے ہوئے ہیں ،حسن سلوک کا مطالبہ کر رہاہے۔پی ٹی ایم کے دیگر مطالبات میں فاٹا میں وسیع پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کا باعث بننے والی بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور لاپتہ ہوجانے یا ماؤرائے عدالت قتل اور فرضی انکاؤنٹر میں ہلاکتوںکے معاملات کی تحقیقات کرانا سمیت کئی مطالبات شامل ہیں۔

ایک معاملہ جس نے پی ٹی ایم کی تحریک میں جان ڈال دی وہ ایک نوجوان قبائلی نقیب اللہ محسود کے قتل کا ہے جسے اس سال جنوری میں کراچی میں پولس نے ایک جعلی انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا تھا۔محسودکو ،جو فاٹا کے سات قبائلی علاقوں میںسے ایک جنوبی وزیرستان کا ایک عالی ہمت و بلند حوصلہ مثالی نوجوان تھا ،سینیئر پولس افسر انوارحمد خان کے حکم پر پولس نے اس کی دکان سے اغوا کر لیا تھا۔بعد ازاں اسے دیگر تین افراد کے ساتھ دہشت گردی کے الزام میں ہلاک کر دیا گیا۔ بعد میں ایک پولس تحقیقات میں پتہ چلا کہ محسود بے قصور تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی مداخلت کے بعدانوار کو ہفتوں گرفتاری سے بچنے کے بعد آخر کار خود سپردگی پر مجبور ہونا پڑا۔ پی ٹی ایم کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ انوار کو گرفتاری کر کے اسے سزا دی جائے۔اب یہ مقدمہ عدلت میں زیر سماعت ہے لیکن پی ٹی ایم کا دباؤ برقرار ہے اور اس نے محسود کی نوجوان بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو انصاف دلانے کا عزم کر رکھا ہے

تاہم پی ٹی ایم نے پاکستان کی طاقتور فوج پر راست تنقید کر کے اور اس کو فاٹا کے لوگوں کی تکلیف کا ذمہ دار بتا کر اسے ناراض کر دیا۔اس کے احتجاجی جلسوں میں فوج کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ فوج پراتنی شدید تنقید کی گئی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ مظاہرے کرائے جا رہے ہیں اور یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملک کے دفاع میں جن سپاہیوں نے جان قربان کی ہے وہی اصل ہیر و ہیں۔ فوجی حکام نے نشاندہی کی کہ پی ٹی ایم کو پاکستان سے معاندانہ جذبات رکھنے والے عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ اس ضمن میںانہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر افغان حکام کے پی ٹی ایم کی حمایت میں بیانات اور مغربی میڈیا خاص طور پر امریکی ابلاغی ذرائع میں اس کی کوریج کو ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے پی ٹی ایم لیڈروں نے کہا کہ وہ پرامن سیاسی طریقہ سے اپنے عوام کی حالت زار کی جانب توجہ دلا نے لیے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج کی ایماءپر پاکستانی میڈیا ان کے احتجاجی جلسوں کی کوریج نہیں کر رہا۔زبردست بیان بازی کے باوجود پی ٹی ایم اور حکومت بشمول فوج ملاقاتوںاور مذاکرا ت کے توسط سے باہم رابطہ قائم کیے ہیں۔فوج نے پی ٹی ایم لیڈروں کی شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں ،جو کہ ٹکراؤ کے باعث پاکستان میں سب سے زیادہ متاثرہ دو علاقے ہیں،جنرلز کمانڈنگ فوجوں اور فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئک ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے ساتھ ملاقاتوں کا بندوبست کیا۔

پی ٹی ایم اور قبائلی بزرگوں اور اراکین پارلیماں پر مشتمل حکومت کے تشکیل کردہ جرگہ کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ لیکن فی الحال کوئی نتیجہ برآمد نہیںہوا ہے۔پی ٹی ایم کے جرگہ کی نمئاندگی حیثیت اور اختیارات پر تحفظات ہیں۔لیکن پھر بھی اس نے مذاکرات سے خود کو باہر نہیں کیاہے۔

فوج فاٹا کی قبائلی آبادی اور سوات و مالاکنڈ ڈویژن کے،جو کہ خیبر پختون کوا کا ایک حصہ ہے، لوگوںکے مسائل دور کرنے کے پہلے ہی اقدامات کر چکی ہے ۔تقریباً دو لاکھ فوجی مالاکنڈ ڈویژن میں تعینات ہیں۔فاٹا اور افغانستان سے متصل سرحد پر پاکستانی فوج کو سلامتی کا ماحول برقرار رکھنے اور پاکستانی فوج کی تسلسل سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں میں پسپائی اختیارکر کے ڈورنڈ لائن پھلانگ کر افغانستان فرار ہوجانے والے مقامی و غیر ملکی انتہا پسندوں کو واپس پاکستان آنے سے باز رکھنے کے لیے نہایت اہم رول ادا کرنا پڑ تا ہے۔۔فوج نے سیکورٹی چیک پوائنٹس میں قابل ذکر کمی ، پشتو زبان بولنے والے سپاہیوں کو چوکیوں پر تعینات کر کے انہیں چیک پوسٹس سے گذرنے والے لوگوں کے ساتھ نرمی کا لہجہ اختیار کرنے کی ہدایت کر کے ،فاٹا میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور2ملین قبائلیوں کے لیے ،جو اندرون ملک نقل مکانی کرگئے تھے اور اب اپنے گھروں اور گاوؤں میں واپس آرہے ہیں، تعلیم، صحت ، زراعت اور دیگر شعبہ حیات میں حالات بہتر کرنے کے اقدامات کر کے معاملات سدھارنے کی کوشش کی۔

تاہم پی ٹی ایم پھر بھی پوری طرح سے مطمئن نہیں ہے ۔ہر عوامی جلسہ کے بعد جس میں کثیر تعداد میں لوگ پہنچتے ہیں،گروپ کو اور بھی اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔ حقوق انسانی کارکنوں، ترقی پسند سیاسی کارکنوںاور اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے دیگر نسلی گروپوں سے ملنے والی حمایت کے باعث اس کے حوصلے بلند ہیں۔پی ٹی ایم کی اب بھی افغانستان کی سرحد پر واقع فاٹا میں جڑیں مضبوط ہیںاور پڑوسی صوبہ خیبر پختون خوا میں اس کے انضمام کے حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں بل کی منظور ی کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر تبدیلی متوقع ہے۔

حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز کا فاٹا کا خصوصی درجہ ختم کرنے کا فیصلہ حکومت کی پانچ سالہ میعاد ختم ہونے سے ہفتہ بھر پہلے کیا گیا۔اگرچہ فاٹا کا خیبر پختون خوا میں مکمل انضمام ہونے اور ملک کے عدالتی اور انتظامی طریقہ کار کو ابھی تک نظر انداز کیے جاتے رہے قبائلی علاقوں تک لے جانے میں کافی وقت لگے گا ۔2019تک انضمام کے لیے پہلا قدم پہلے ہی اٹھایا جا چکا ہے۔

فاٹا کو دھارے میں لانا بے شمار قبائلیوں کی دیرینہ خواہش اور کم و بیش تمام ہی سیاسی پارٹیوں او ر حقوق انسانی گروپوں کا پرانا مطالبہ ہے۔یہ عمل 2016سے ہی اس وقت سے جاری تھا جب وزیر اعظم نواز شریف کی وزارت عظمیٰ میں پی ایم ایل قیادت والی وفاقی حکومت نے قبائلی علاقہ جات کو سیاسی، آئینی اور اقتصادی اصلاحات کے توسط سے قومی دھارے میں لانے کی سفارشات کرنے کے لیے فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی تھی۔
حکومت کو فاٹا ریفارمز کمیٹی کی سفارشات پر ایک سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے دو سال کی تگ و دو کے بعد صورت حال کے تقاضے کا تجزیہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔قبائلی لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو زیادہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔نوجوانوں کی اکثریت والی پی ٹی ایم نے نہ صرف فاٹا میں، جہاں اس کی داغ بیل پڑی ، بلکہ خیبر پختون خوا ، بلوچستان اور یہان تک کہ پاکستان کے گھنی آبادی والے شہر کراچی میں بھی مقبولیت حاصلکرنا شروع کر دی ۔جہاں ایک طرف پی ایم ایل این تاریخی فاٹا اصلاحات کی،جسے اسی نے کرایا تھا اور اگر ان پر عمل آوری ہوجاتی تو وہ اس کے کریڈٹ لینے کا بھی دعویٰ کر سکتی تھی کی اہمیت کو سمجھتی ہے ،وہیں دوسری جانب اس کی حکومت مولانا فضل الرحمٰن کی جمیعت علمائے اسلام اور محمود خان اچک زئی کی قیادت والی پی ایم اے پی کی جانب سے فاٹا کے انضمام کی مخالفت سے معذور ہے۔

باوجود اس کے کہ اعلان ہو چکا ہے اور بل بھی منظور ہو چکا ہے،خیبر پختون خوا میں فاٹا کے انضمام کے لیے وقت درکار ہے ۔ فاٹا میں نہایت سخت فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن کی جگہ ایک مناسب عدالتی نظام اور ایک نیا انتظامیہ اور پالیسی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے پائیدار سیاسی عہد اور وسائل کی ضرورت ہے۔

پی ٹی ایم نے جو معاملات اٹھائے ہیں وہ فاٹا کے خیبر پختوان کا حصہ بن جانے کے باوجودقابل عمل رہیںگے۔فوج قابل قیاس مستقبل کے لیے فاٹا میں فوج تعینات رہے گی۔علاوہ ازیں جب تک پڑوسی افغانستان پر امن اور مستحکم نہ ہوجائے فاٹا بھی پوری طرح مستحکم نہیں ہو سکتا۔

پی ٹی ایم نے فاٹا اصلاحات ،انضمام اور کئی دیگر معاملات پر کوئی عوامی موقف اختیار نہیں کیا۔اگر وہ خیبر پختون خوا میں فاٹا کے انضمام پر موافقت یا مخالفت کرت ہے توخود اسی کے اندر اختلافات نمایاں ہو جائیںگے۔یہی وجہ ہے کہ وہ انضمام اور اصلاحات پر اپنا موقف عام نہیں کر رہی۔ایک ایشو جو پی ٹی ایم کی پیش رفت جاری رکھنے میں معاون کر سکتا ہے وہ لاپتہ ا فراد کا ہے جس سے اسے جذباتی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔تاہم گروپ فاٹا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور تغیرات اور تجدید شدہ جوش سے جس سے حکومت خاص طور پر فوج قبائلییوں کو درپیش مسائل حل کرنے او ر ان کی زندگی آسان تر بنانے کی کوشش کے پیش نظر اپنی اپیل کو برقرار کھنے کے لیے کافی مشکلات محسوس کرے گا۔

( رحیم اللہ یوسزئی کا یہ مضمون لندن سے انگریزی میں شائع ہونے والے ایک ماہانہ موقر جریدے ’ایشئین افئیرز کے جون2018 ایڈیشن میں شائع ہوچکا ہے۔رحیم اللہ یوسفزئی ایک پاکستانی صحافی ہیں اور افغانستان کے امور پر دسترس رکھتے ہیں۔ رحیم اللہ پہلے اور واحد رپورٹر ہیں جنہوں نے 1998میں افغانستان میں طالبا ن لیڈر ملا محمد عمر کا یک بار اور اوسامہ بن لادن کا دو بار انٹرویو لیا۔ رحیم اللہ کو ان کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کے اعتراف میں تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز سمیت کئی پر وقار ایوارڈز سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔)

(آرٹیکل پاکستان میں31مئی کو وفاقی حکومت کی میعاد مکمل ہونے اور نگراں وزیر اعظم کی نامزدگی سے قبل لکھا گیا)

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Plight of the pashtun in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply