ہندوستان کے بعد پاکستان میں بھی خواجہ سراؤں کے لیے اسکول کھول دیا گیا

سلام آباد: پاکستان میں خواجہ سراؤں کے لیے پہلا اسکول باقاعدہ طور پر کھل گیا اور پیر سے وہاں درس و تدریس کا کام بھی شروع ہو گیا۔’دی جیندر گارجین ‘ کے نام سے کھولے جانے والے اساسکول کا افتتاح ایکسپلورنگ فیوچر فاؤنڈیشن نام کی ایک این جی او نے کیا ۔
یہ اس این جی او کا پہلا پراجکٹ ہے۔فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر معیزہ طارق نے کہا کہ یہاں خواجہ سراؤں کو تربیت اور نصاب تعلیم ہنر کی بنیاد پر ہو گا۔ان میں سے اکثریت ان خواجہ سراؤں کی ہے جو فیشن کے ہنر مند بننا چاہتے ہیں ۔
مثلاً فیشن ڈیز ائننگ، کڑھائی،کاسمیٹکس ،اور سلائی کا ہنر سیکھنے کے خواہشمند ہیں۔اسکول کے مالک آصف شہزاد نے کہا کہ فی الحال اسکول میں 30خواجہ سراؤں نے داخلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قابل خواجہ سراؤں کے لیے ایک اسکول انڈونیشیا میں بھی تھا جس میں2016میں بم دھماکہ ہو ا تھا۔ یہکسئی اسلامی ملک میں پہلا خواجہ سرا اسکول تھا۔ہندوستان میں پہلا خواجہ سرا اسکول کیرل کے کوچی میں 2016میں کھولا گیا تھا۔

Title: pakistans first ever transgender school opened in lahore | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply