پاکستان میں ہندو میرج بل منظور،ہندو خاتون بیوہ ہونے کے 6ماہ بعد دوسری شادی کر سکتی ہے

اسلام آباد: پاکستان کی قومی اسمبلی نے کل ہندو میرج بل 2016 کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد اب پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کو شادی رجسٹریشن کا حق مل جائے گا اور اس قانون کے تحت ہندو خواتین کے حقوق کو تحفظ حاصل ہوگا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں ہندو میرج ایکٹ کو انسانی حقوق کے وزیر کامران مائیکل نے پیش کیا اور ایوان نے اسے بغیر کسی مخالفت کے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
یہ بل اب حتمی منظوری کے سنیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے فوری منظوری ملنے کا امکان ہے۔ سنیٹ کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ اس بل میں ہندوؤں کی شادی کے لئے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر مذاہب کی شادیوں میں لڑکے کی عمر 18 سال اور لڑکی کی عمر 16 سال مقرر ہے۔ اس قانون میں ہندو بیوہ کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد چھ ماہ بعد دوبارہ شادی کا حق دیا گیا ہے۔ بل کے بارے میں ایک چھو ٹا اعتراض پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن نے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے زبردستی تبدیلی مذہب کو فروغ ملے گا۔ لیکن انسانی حقوق کے وزیر نے ان اعتراض کو مسترد کر دیا۔ پاکستان مسلم لیگ کے ڈاکٹر رمیش کمار بنکوامی نے کہا کہ پاکستان میں 66 سال تک ہندو شادی کے لئے کوئی قانون نہیں تھا۔ملک کی قیادت اور سیاسی جماعتوں نے ہندوؤں کی شادی کے لئے قانون بنا کر قابل ستائش کام کیا ہے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistani lawmakers adopt landmark hindu marriage bill in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply