ہندوستان نے حملہ کیا تو پاکستان بھی فوراً جواب دے گا اور پھر جنگ کہاں تک جائے گی کوئی نہیں جانتا: عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ گذشتہ ہفتہ پلوامہ میں ہندوستان کی فورس سی آر پی ایف اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے ہندوستان جو ثبوت دے گا اس پر ہم کارروائی کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم یہ پیش کش اس لیے نہیں کر رہے کہ ہم دباؤ میں ہیں بلکہ یہ ہماری پالیسی ہے۔عمران نے حکومت ہند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اول تو یہ کہ آپ نے پاکستان پر الزام لگایا۔لیکن کوئی ثبوت نہیں ہے۔

آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس سے پاکستان کا کیا بھلا ہوگا؟ کوئی احمق بھی اپنی ہی کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسی حرکت کر سکتا ہے؟اور اگر ولیعہد شہزادہ نہیں بھی آرہے تھے تو بھی اس قسم کی واردات سے پاکستان کو کیا حاصل ہونا تھا؟ پاکستان ایسے مرحلہ پر جب وہ استحکام کی جانب گامزن ہے ایسی حرکت کیوں کرے گا؟ہم15سال سے دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہیں 70ہزار پاکستانی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔

اب دہشت گردی کم ہو رہی ہے،امن و استحکام بحال ہورہا ہے ۔ایسی صورت میں اس قسم کی حرکت سے ہمیں کیا فائدہ ہو گا۔ آپ ماضی سے ہی لپٹے بیٹھے ہیں اور جب بھی کشمیر میں کوئی واردات ہوتی ہے آپ پاکستان کو ذمہ دار ٹہرانا چاہتے ہیں۔اور مسئلہ کشمیر کا تصفیہ کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے یا آگے بڑھنے کے بجائے بار بار پاکستان کی ایک بچے کی طرح گوشمالی کرتے رہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم ہندوستان میں اٹھتی آوزیں سن رہے ہیں کہ ’پاکستان کو سبق سکھایا جائے‘ ’پاکستان سے انتقام لیا جائے‘اس پر حملہ کیا جانا چاہئے۔

عمران نے کہا کہ کون سا قانون کسی ملک کو منصف، عدالت اور جلاد بننے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ دوئم یہ کہ آپ کو انتخابات کا سامنا ہے ۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے دوران اگر آپ ”پاکستان کو سبق سکھائیں “ تو اس سے آپ کو بہت فائدہ پہنچے گااور انتخابات میں آپ کی پارٹی کوتقویت حاصل ہو گی۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان پر کسی قسم کا حملہ کر سکتے ہیں تو پاکستان جواب دینے کا سوچے گا نہیں بلکہ فوراً جواب دے گا۔جواب دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔اور اس کے بعد معاملہ کہاں تک جائے گا؟ یہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ جنگ کرنا بہت آسان ہے ۔اسے انسان شروع کرتا ہے لیکن اس کا خاتمہ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اس جنگ کا رخ کیا ہوگا اور کہاں تک جائے گی خدا زیادہ بہترجانتا ہے۔اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ ہوش سے کام لیا جائے گا۔

یہ معاملہ صرف اور صرف مذاکرات سے ہی طے پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ اس حملہ کے بعد پاکستان پر الزام تراشیوں کا فوری طور پر جواب دینا چاہتے تھے کیونکہ ہندوستان نے الزام لگایا تھا کہ اس حملہ میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ لیکن چونکہ سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر تھے اورسرمایہ کاری کے حوالے سے وہ کانفرنس ہو رہی تھی جس کی ہم طویل عرصہ سے تیاری کر رہے تھے ۔

ا س لیے میں نے اس وقت اس کا جواب نہ دینے کا فیصلہ کیاکیونکہ اس سے اس دورے اور اس دورے کے دوران ہونے والے سرمایہ کاری معاہدوں سے ہماری توجہ بھٹکتی ۔

انہوں نے کہاکہ کوئی کیوں اپنی ہی کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسی حرکت کیوں کرے گا۔ لیکن اب ولیعہد شہزادہ وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں اس کیے اب میں جواب دے رہا ہوں۔عمران خان نے مزید کہا کہ وہ وہ حکومت ہند کو پیشکش کرنا اور یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پاکستان کو دکھائے پاکستان اس کی تحقیقا ت کرے گا۔اور کارروائی بھی کرے گا۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan will not hesitate in retaliation to a provocation imran khan in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.