پاکستان سعودی قیادت والے 41اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوگا،ایران سے رشتے خراب نہ کرنا مقصود

اسلام آباد: میڈیا کے مطابق اپنے مڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہونے سے بچنے کے لیے پاکستان اپنے سابق فوجی سربراہ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل احیل شریف کی سپہ سالاری والے سعودی قیادت میں تشکیل دیے گئے41اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد میں اپنی شمولیت کے حوالے سے اپنے موقف پر نظر ثانی کر رہا ہے۔اس ضمن میں خارجہ ترجمان نفیس ذکریا نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان نے سعودی اتحاد میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک سعودی عسکری اتحاد میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمیں قبل از وقت قیاس آرائیوں کی بجائے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کی میٹنگ کا انتظار کرنا چاہئے اور اس اجلاس میں سعودی عسکری اتحاد کے تمام اہداف و مقاصد کا تعین کیا جائے گا۔دوسری جانب ریاض میں ہونے والی حالیہ عرب اسلامک امریکا سربراہ کانفرنس میں سعودی حکام کے بیانات کے بعد پاکستان نے اس معاملے پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لئے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سعودی حکام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو اتحاد کے مقاصد کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ عنقریب رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے جس میں پاکستان تجویز پیش کرے گا کہ اتحاد کا واضح مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ ہونا چاہیے۔
اس سے انحراف کیا گیا تو فوجی اتحاد کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔تاہم ان واقعات کی روشنی میں عام خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سعودی قیادت والے41ملکی اسلامی عسکری اتحاد کے حوالے سے پاکستان نے اپنا موقف تبدیل کر دیا ہے۔اور جلد یا بدیر وہ اس اتحاد سے دستبردار ہوجائے گا۔

Title: pakistan rethinking saudi led 41 nation military alliance wants to avoid straining iran relationship | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply