یہی وقتِ دعاء و دوا ہے

تحریر : محمد عنصر عثمانی ، کراچی

ملک میں پانچ سال بعد الیکشن ہونے کو ہیں۔یوں کہ لیں کہ عوام و خواص (سیاست دان )کے بیچ حائل پردوں کے گر جانے کا وقت ہے۔اس دور میں امیداورں کے پتھر دل موم بن جاتے ہیں ،اور اس میں نرمی و انسیت کا مادہ موجزن ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ جوشیلے کارکن جو چیلہ بازیوں سے باز نہیں آتے، متحرک ہو جاتے ہیں۔ہر ایک اپنے ہنر کا بھر پور استعمال کرتا ہے۔تاکہ اپنے جان سے پیارے امیدوار کو جتوایا جایے ،کہ وہ اگلے پانچ سال تک پھر کبھی حلقے میں نہ دیکھے۔یعنی امیدوار کے یار ایک طرح سے اسے پانچ سال کے لیے ” انڈر گراؤنڈ“ کرانے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔الیکشن سے ایک سیاسی فائدہ یہ بھی نکالا جاتاہے کہ جو پارٹی پانچ سال مرکز میں گزار کرجاتی ہے،اور اس نے جس کسی پارٹی کے ساتھ بھی کوئی رنجشانہ رویہ روا رکھا تھا، مخالف پارٹی ان دنوں میں خوب بھڑاس نکالتی ہیں۔پھر ان دنوں کو بدلے کا مؤثر ترین ذریعہ سمجھ کر انتقامی کارروائیاں جاری رکھی جاتی ہیں۔گویا عوام کو مخالف پارٹی کے کالے کرتوتوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ لوگ تمہارے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔انہوں نے تمہیں پچھلے پانچ سالوں میں کیا دیا ہے۔لہذا انہیں ووٹ نہ دو ۔ گویا عوام کو اندھی ، گونگی ، بہری جان کر جو کچھ اناپ شناپ بولنا ہوتا ہے بول دیا جاتا ۔

امیداوروں کے اخلاقیات کے جنازے تو ہر جگہ دیکھنے کو ملے۔یعنی سیاست کے حمام میں سب الف ہیں۔کسی نے کسی کو نہیں بخشا۔دشنام اندازی کے وہ اول فول اسٹال لگے کہ پہلوبدلتے ایک نیا بیانیہ بریکنگ نیوز بن جاتا ۔اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم کہ بڑے چھوٹے کی تمیز کیے بغیر جوشیلے سیاست دان، کارکنان جوش میں ہوش کھو بیٹھے۔اور ان کی طرف سے نازیبا القابات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ۔نوجوان کارکن چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی انہیں اپنے دائرہ اخلاق کو نہیں پھلانگنا چاہیے ۔اس بارے میں سب سے بڑی ذمہ داری اس جماعت کے لیڈروں کی بنتی ہے کہ وہ کارکنان کو ایک پلیٹ فارم دیں۔ کام کرکے دکھائیں ۔ مخالفین کی طرف سے کی جانے والی ہرزہ سرائی کا جو اب اگر اینٹ اور پتھر سے دیں گے تو پھر فرق کہاں باقی رہا۔

قرآن مجید کا حکم ہے کہ جاننے والے (علم والے) اور جاہل(اَن پڑھ) ایک سے نہیں ہو سکتے۔لیکن سیاست اور اقتدار کی اس جنگ میںسیاست دانوں کو عوامی مسائل سے روگرداں کر کے ایک صف میں کھڑا کر دیا۔الیکشن کسی بھی زندہ قوم کے لئے پُل ہوتا ہے۔اس پُل پر سے گزر کر قوم ایسا میدان تلاش کرنا چاہتی ہے جہان سابقہ عفریتیں نہ ہوں۔اور اس پُل پر جوش سے نہیں ہوش سے چلا جاتا ہے ۔یہاں توازن کا برقرار رہنا لازمی ہے۔کسی کو پروموٹ کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کا احتساب لازمی کریں کہ آپ نے جس کی عزت افزائی کے لیے دوسروں پر کیچڑ اچھالا ، وہ اورآپ خود، کس پیرائے کے مسلمان ہیں۔آپ اپنے حلقے میں جس کسی کو بھی ووٹ دیں یہ ضرور دیکھ لیں کہ کیا وہ انسان اس حلقے کی عوام کا محافظ بھی ہے کہ نہیں۔کیوں کہ آپ ووٹ کسی شخص کو نہیں دے رہے ہوتے، بلکہ اس حلقے سے اپنے لیے ترجمان چن رہے ہوتے ہیں۔ووٹ کو کاغذکا ٹکڑا نہ سمجھیں۔اس کاغذ میں حلقے کی زبوں حالی ، سماجی لاش ،اور عوامی مسائل کی نمائندگی کو سامنے رکھ کر وہ کاغذ کا قیمتی ٹکرا اس امیدوار کے حوالے کریں۔ امیدوار ایسا ہو جو ان مسائل کی پوٹلی بنا کر کسی سیاسی پارٹی کی ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کی بجائے آپ کے مسائل کو حل کرے۔
18ءکے الیکشن کو نوجوانوں کا الیکشن کہا جارہا ہے۔اور یہ ایک طرح سے مستقبل کودرست کرنے کی کوشش بھی ہے ۔

نوجوان کو آگے آنا چاہیے ۔ملکوں کی ترقی کا راز نوجوان ہوتے ہیں ،مگر نوجوانوں کو جذبات کی لہروں میں بہنے کی بجائے ملک و قوم کی خاطر اپنے ووٹ کوکاسٹ کرنا ہوگا ۔25 جولائی کو ووٹ کاسٹ کرنے نکلیں ،اور ایسے امیدوار کو جتوائیں جو اس ملک کا بیٹا ہو۔جو عوام کا خیر خواہ ہو۔کسی بھی لسانی ، مذہبی ، برادری ذات کی بنا پر کسی کو ووٹ نہ دیں ۔کیوں کہ آپ کے ووٹ میں وہ طاقت ہے جو ملک کو اگلے پانچ سال توانائی بخشے گا۔آپ کا ووٹ صرف ووٹ ہی نہیں ،یہ نسلوں کو زندگی کی رمقیں پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ووٹ ایک ذمہ دار شہری کا بنیادی ، آئینی حق ہے۔ اس ذمہ داری کو دیانت داری سے استعمال کریں ۔یہ وہ قرض ہے جو آئندہ کی نسلوں کو چکانا ہے۔اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ انہیں پھول دیتے ہیں یا کانٹے۔

اس کے ساتھ اللہ سے یہ بھی دعا عوام کی ورد زبان ہو کہ 25جولائی کا دن خیر و سلامتی سے گزر جائے۔جس طرح کے حالات بنے رہے ۔اور سکیورٹی اداروں کی حساس رپوٹوں کے مطابق 25 جولائی کو ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات ہو سکتے ہیں،رب کریم وطن عزیز کی حفاظت فرمایے،اور صالح قیادت سے بہرہ ور فرمایے۔ لٹیروں ،چوروں سے ملک کے غداروں سے قوم کی حفاظت فرمایے۔عوامی فلاح وبہبود کی فکر کرنے والے ،مخلص و محب وطن امیدوار اس بار منتخب ہوں ۔اللہ قوم کو ایسے ڈاکوؤں اور ایسے سانپوں سے سے ، جو ملک کو پیوند زد کرکے اور ڈس کر گوروں کے ملک میں چھپ جائیں ، بچائے۔یہی وقت ِ دعا و دوا ہے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan elections 2018 in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply