بہت ہوچکا، کئی قومی مسائل پاناما لیکس کی دھول میں گم

سمیع اللہ ملک،لندن
اپوزیشن کے قومی اسمبلی اورسینیٹ سے باربارواک آؤٹ اورمیڈیاپرتندوتیزاورتلخ بیانات نے بالآخرنوازشریف کوقومی اسمبلی میں آنے پرمجبورتوکردیالیکن اپوزیشن کے مجوزہ سات سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پراپوزیشن لیڈرکی دومنٹ کی مختصراحتجاجی تقریر کے بعددوبارہ واک آو¿ٹ اورپھرمیڈیاپرالزامات کی جنگ نے سیاست کے میدان کواس قدر گرم کردیاکہ ملک کے دیگرتمام مسائل اس پاناما لیکس کی دھول میں گم ہوتے نظرآرہے ہیں۔وزیراعظم میاںمحمد نوازشریف اس سے پہلے اسی سلسلے میں ٹی وی پردومرتبہ قوم سے خطاب اوراسی پانامالیکس ایشوکے سامنے آنے کے بعدمولانافضل الرحمان کی ترتیب دی گئی حکمت عملی کے تحت کئی عوامی جلسوں سے خطاب کرکے کئی منصوبوں کے آغازاورلمبی چوڑی گرانٹس کااعلان کرکے مشترکہ سیاسی حریف عمران خان کوچاروں شانے چت کرنے کی کوششوں میں بھی مگن ہیںلیکن اس کے باوجودوہ اس موضوع پرشروع میں پارلیمنٹ کے سامنے لب کشائی کومشکل مرحلہ سمجھ رہے تھے مگرپیرکی شام اپوزیشن کایہ مرحلہ شوق بھی انہوں نے طے کرلیااوربہت سوں کے نزدیک خوب طے کیاہے۔
میاںمحمد نوازشریف کے ساتھ ارادت کے تعلق میں بندھے ہوئے دانشورہی نہیں بلکہ ان کے بعض مخالفین بھی میاں صاحب کی اسمبلی میں آمداورخوب بولنے کوان کی بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں جبکہ اپوزیشن کی حکمت عملی کے ناکام رہنے کونہیں،متحدہ اپوزیشن کی حالیہ دنوں میں بروئے کاررہنے والی اصلاح بھی بے معنی نظرآرہی ہے۔پیپلزپارٹی سمیت بعض جماعتوں کے حکومت کے ساتھ اس معاملے پربھی بیک ڈوررابطے ،اہم فیصلوں خصوصاًپیرکی شام قومی اسمبلی کے اجلاس کاوزیراعظم کی تقریرکے بعداچانک واک آو¿ٹ اورمنگل کے روزایم کیوایم کارخ بدل کراپوزیشن کی ٹوکری سے اچھل کرباہرجاگرنامسلسل اوربڑی علامتیں ہیں۔ بالآخرحکومت اوراپوزیشن کے درجن بھر افرادکی ایک کمیٹی اب پاناماکی تحقیق کیلئے ضابطہ اخلاق اور طریقہ کار طے کرے گی لیکن اس کمیٹی میںاپوزیشن کے افرادکی نامزدگی میں ایم کیوایم کی جس طرح بے توقیری سامنے آئی اورآخراسی پرانی تنخواہ پراسے بھی شامل کرلیاگیاجس سے ساری قوم نے ایم کیوایم کی وقعت کوملاحظہ کرلیا۔
دوسری جانب خودتحریک انصاف جس کے ساتھ بہت سے مبصرین کے مطابق پیپلزپارٹی نے ہاتھ کردیااورعملاًعمران خان کے سارے نوٹس،تیاریاں،سوالات،وضاحتیں،خطابی جولانیوں کی ممکنہ آمداوردستاویزاتی شواہددھرے کے دھرے رہ گئے اور”پہ تماشانہ ہوا“کی روایت برقراررہی اوراس پرمستزادجب پارلیمنٹ کے باہرمشترکہ اپوزیشن کے ہمراہ خورشیدشاہ احتجاج کیلئے پریس سے خطاب کررہے تھے تووقت نے عوام کویہ منظربھی دکھایاکہ عمران خان جوکل خورشیدشاہ کی کرپشن کے حوالے سے خوب خبرلیاکرتے تھے،ان کے پیچھے مو¿دب اوربے بس کھڑے تھے۔
وزیراعظم نوازشریف نے بعض اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تقریباًڈیڑھ ماہ سے پانامالیکس کے بارے میں کئے جانے والے شوراورمطالبات کے بعد16مئی کوقومی اسمبلی سے خطاب کیا۔قومی اسمبلی میں ان کی یہ آمدمیڈیارپورٹس کے مطابق ۱۸دن کے طویل وقفے کے بعدممکن ہوئی۔اتفاق ہے کہ وزیراعظم کی پارلیمنٹ سے اپنے پارٹی کے اعلیٰ ترین فورمزتک دستیابی اورعدم دستیابی کی بحث چلتی رہتی ہے۔وزیراعظم کے بارے میں یہ تاثرپارلیمنٹ کی حدتک تودرست ہوسکتاہے لیکن جہاں تک مسلم لیگ(نواز)کاتعلق ہے اس کا کم ازکم پچھلے 38ماہ سے ایساکوئی اجلاس سرے سے ہواہے،طلب کیاگیاہے جس میں وزیراعظم کی عدم شرکت کااعتراض کیاجاسکتاہو؟ سچی بات تویہ ہے کہ اقبال ظفرجھگڑاکے گورنر خیبر پختونخواہ بننے کے بعدایک جانب پارٹی کے سیکرٹری جنرل کاعہدہ خالی ہے تودوسری جانب مرکزی سیکرٹریٹ کاایشوبھی چندماہ سے چل رہاہے۔نیزیہ کہ میاں نوازشریف کی اہم سیاسی وجمہوری فورمزکیلئے آسانی سے دستیاب نہ ہونے کااعتراض صرف ان کے سیاسی مخالفین ہی کرتے ہیں۔پارٹی کے کسی بھی فردنے کبھی اس جانب خودتوجہ کی ہے نہ ان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔
بہرحال وزیراعظم گزشتہ پیرکی شام پانامالیکس کے حوالے سے قومی اسمبلی میں آئے اورانہوں نے اپنی تقریرسے بظاہرمیدان مارلیا،اپوزیشن اس تقریر دلپذیرکی قطعاً توقع نہ کرتی تھی اگرکرتی بھی تواسمبلی اجلاس سے بعدازاں واک آو¿ٹ کے باعث اپوزیشن جماعتوں نے اس پربرسرپارلیمان نقدونظرکے اپنے پارلیمانی حق سے خودہی دستبرداری اختیار کر لی ۔اپوزیشن کی یہ دستبرداری کس کس کی کوشش،خواہش اورشاہی فرمان یامجبوری کے سبب ممکن ہوئی اس پرابھی جرح چلتی رہے گی۔وزیراعظم کی تقریرختم ہوتے ہی خورشیدشاہ کے جادو¿ئی اختصاراورخاموش اظہارکے ساتھ ہی اپوزیشن کی دیگرجماعتوں اورمیڈیاکومحسوس ہوگیاتھاکہ پس پردہ بھی کچھ کھیل جاری ہے۔گویاوفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی ہدائت کی روشنی میں جورابطے ہورہے تھے اورجوپیغام رحمان ملک کے ذریعے سابق آصف علی زرداری کوبھجوایاگیاتھاوہ اپنااثردکھاگیااورپیپلزپارٹی نے ایک جانب بڑی خوبصورتی کے ساتھ خودکوحقیقی اپوزیشن کے تعارف سے لیس کرنے کی کامیاب کوشش کی اوردوسری جانب پاکستان تحریک انصاف سمیت سبھی اپوزیشن جماعتوں کوغیررسمی طورپریہ باورکرادیاہے کہ تلناہے توسبھی کوایک ہی تکڑی میں تلناہوگا۔یہ نہیں ہوسکتاکسی کوتوگندگی میں لت پت دکھایاجائے اوردوسری کے کپڑوں سے خوشبوکادعویٰ کیاجائے۔اپنااہم پتہ پھینک کروزیراعظم نے اپوزیشن جماعتوں کوعملاًکام پرلگادیاہے۔
وزیراعظم کی تقریرکے بعدایک جانب اپوزیشن جماعتوں کویہ سوچنے کاموقع فراہم کردیاگیاہے کہ ان کی اس معاملے میں اہلیت اورباہمی اتفاق کی حدکیاہے نیزیہ کہ کون سی جماعت کس وجہ سے کس حدتک ساتھ دے سکتی ہے اورکس حدتک جانااس کے پروں کے جلنے کاسبب بن سکتاہے۔اپوزیشن جوپارلیمنٹ میں تماشادیکھنے یالگانے کی کوشش اورامید لیکرگئی تھی ،اس میں توبری طرح ناکام ہوگئی البتہ اگلے دن وزیراعظم کی عدم موجودگی میں اپوزیشن لیڈراورعمران خان نے دل کے بھڑاس تونکالی لیکن اس کے جواب میں حکومتی ارکان نے بھی انہیں لمبے ہاتھوں لیا۔اب اپوزیشن بالخصوص عمران خان اپنے بکھرے پتوں کومختلف شہروں میں جلسے کرکے سمیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن وزیراعظم بھی جوابی جلسوں میں اپنے بہترپتے کھیلنے کاتاثردے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیامیں بالعموم اپوزیشن جماعتوں کی کمزوری اور صلاحیت ہی نہیں بروقت اورٹھیک ردّعمل دینے میں بھی اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کے فلورکوچھوڑکرپارلیمنٹ سے باہرجاکربولنے کاآپشن استعمال کرکے پارلیمنٹ پربھی ایک طرح کاعدم اعتمادظاہرکردیاہے۔یہی بات نواز شریف کے حوالے سے اپوزیشن کررہی ہے کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں اپوزیشن کے سات سوالوں کاجواب نہ دیکرسب سے بڑے قومی فورم کی اہمیت کوکم کرتے ہوئے اپوزیشن کی بھی توہین کی ہے۔
بلاشبہ وزیراعظم نے جس اندازسے اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماو¿ں کانام لئے بغیرانہیں تیرونشترکی زدمیں لانے کی کوشش کی اس پرمتعلقہ رہنماو¿ں کا تڑپنا،بھڑکنااورپھڑکنا بنتاہے لیکن اس اعتراض کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ وزیراعظم نے بطورقائدایوان جہاں اپنے خاندان کی کاروباری تاریخ کاقبل ازپاکستان تفصیلی جائزہ پیش کیاوہیں ایوان کو اعتمادمیں لیتے ہوئے کم ازکم یہ ضرورکہہ سکتے تھے کہ ہاتھ کنگن کوآرسی کیا،میں اپوزیشن جماعتوں کے ہرسنجیدہ سوال کاجواب دینے کوتیارہوںلیکن اس پرابھی کام ہورہاہے اورجیسے ہی یہ کام مکمل ہوجائے گا،یہ معتبرایوان کے سامنے آجائے گا،خواہ یہ پارلیمان کی مجوزہ کمیٹی کے ٹی اوآرزکی بنیادپرقوم کے سامنے آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے سوالات کے جوابات نہ دیکرایوان کے ماحول کوخوشگوارکرنے اورایک بڑے لیڈرکی طرح سب کوساتھ لیکرچلنے کے داعیے سے کام نہیں لیا بلکہ اپوزیشن کی بعض جماعتوں کواپنے غیرمصلحانہ خطاب سے مزیدناراض کردیاہے۔یہ اوربات کہ ان جماعتوں کی قیادت خودبھی دفاعی پوزیشن پرآجانے کے باعث پہلے والی شدومدکے ساتھ وزیراعظم کے خلاف اب اپنی مہم جاری رکھ سکتی ہے یانہیں۔
بلاشبہ پی ٹی آئی اورپی پی کے بعض لوگوں کی آف شورکمپنیوں کاریکارڈسامنے آنے کے بعدبالعموم عمران خان کی اپنی آف شورکمپنی کے انکشاف کے بعدبالخصوص معاملہ پہلے سے مختلف ہوچکاہے اورعمران خان دفاعی پوزیشن پرمجبورہوچکے ہیں۔انہیں اس مرتبہ پارٹی کے کئی رہنماو¿ں کے پورے ساتھ کابھی یقین نہیں جبکہ پیپلزپارٹی جس نے اپنی قیادت کے خلاف بہت سارے مقدمات کی وجہ سے جنرل مشرف کے ساتھ این آراوکرناضروری سمجھاتھا،ابھی تک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کم ازکم کرپشن کے خلاف ایک کھلی جنگ لڑسکے یاکسی کھلے عام حصہ بن سکے۔اس تناظرمیں وزیراعظم کی جانب سے اپنی تقریرمیں میثاق جمہوریت کے تحت نئے احتسابی ڈھانچے کیلئے مل کرکام کرنے کے پیپلزپارٹی کے ساتھ پر ا نے ساتھ اتفاق کاحوالہ دیکرایسا پتہ پھینکاکہ پی پی اس پیشکش کوکسی بھی صورت ردنہیں کرسکتی ۔
بلاشبہ ضربِ عضب کاحصہ بن جانے والی کرپشن مخالف لہرکے ہوتے ہوئے پی پی کیلئے یہ اوربھی ضروری ہے کہ ایک جانب حکومتی تحفظ کی چھتری تلے رہے اوراحتساب کے کوڑے کوکسی اورکے ہاتھ میں جانے دینے کی بجائے میثاق جمہوریت کے تحت نئے احتسابی فورم کی داغ بیل خودڈالنے میں اپناکرداراداکرتے ہوئے خودکوزیادہ محفوظ بنائے ،رہی بات خورشیدشاہ کی سیاسی ترنگ کی کہ وزیراعظم سات سوالوں کے جواب نہ دیکر سترسوال کھڑے کردیئے ہیں،اس میں سنجیدگی کی تلاش مشکل ہے۔ تاہم اس کے باوجوداپوزیشن اپنی زبان کابھرم قائم رکھنے کیلئے ۰۷سوالوں کاتحفہ پیش کردیاہے۔بہرحال سوال جتنے زیادہ ہوتے جائیں گے ان کی اثرپذیری اورسنجیدگی ومعنویت اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔ان ستر سوالوں کی اثرپذیری کے فوری کم ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کوپارلیمنٹ کابائیکاٹ ختم کرنے کامل کرفیصلہ کرناپڑگیا۔آئندہ دنوں جوں جوں وقت آگے بڑھے گا حکومت اس پانامالیکس کے معاملے میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مزیدلیکس پیداکرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے،اس کی ایک واضح مثال اپوزیشن کے چھ رکنی وفدمیں آفتاب شیرپاو¿ کابظاہررضاکارانہ دستبردارہوکرایم کیوایم کی شمولیت سے بھی حکومت کو ایک کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔
خیبرپختونخواہ حکومت کے اتحادی آفتاب شیرپاو¿ کی جماعت پہلے بھی ایک حدسے زیادہ آگے جانے کوتیارنہیں تھی اورایک اطلاع کے مطابق سی پیک کے حوالے سے ایک اہم ذمہ داری کیلئے آفتاب شیرپاو¿ کانام وفاقی حکومت کے زیرغورہے۔ اس لئے یہ کہناشائدمشکل ہورہاہے کہ اب پانامالیکس کے حوالے سے حکومت پرمزیدکوئی دباو¿ بڑھ سکتاہے کہ نہیں لیکن یہ اپنی جگہ ابھرتی ہوئی حقیقت ہے کہ ملک میں شفافیت کیلئے کوششیں ایک مرتبہ پھرالجھاو¿کاشکارہونے جارہی ہیں۔ایک ایسے مرحلے پرجب عسکری قیادت ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ٹیررفنانسنگ کیلئے کرپشن کے پیسے کے کام آنے کوایک خاص زاویہ¿ نگاہ سے دیکھتی ہے ،کی کوشش کے مستقبل پربھی سوال اٹھیں گے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کی ایک اوراتحادی جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کرپشن کے خلاف ایک باضابطہ مہم شروع کئے ہوئے ہیں اوراس سلسلے میں جہاں وہ نوازشریف کے خلاف بلاامتیازاحتساب کی بات کررہے ہیں وہاں وہ تحریک انصاف کے آف شورکمپنیاں رکھنے والے رہنماو¿ں کے ساتھ بھی کسی نرمی کے حامی نہیں ہیںلیکن سوال یہ ہے کہ ایسے مبینہ کرپٹ اتحادیوں سے اپنافاصلہ بڑھانے یاقربت میں کمی کافیصلہ بھی امیرجماعت اسلامی اوران کی مجلس شوریٰ کے سامنے زیرغورابھی تک ہے یانہیں،اگرایساکچھ نہیںتولامحالہ سراج الحق سے بھی میڈیاپوچھ سکتاہے کہ آپ اس بارے میں اپنی پوزیشن کب واضح کریں گے جبکہ خیبربینک کے بارے میں بھی تنازعے کاابھی تک کوئی حل سامنے نہیں آیا۔
وزیراعظم نے بڑی صفائی کے ساتھ پانامالیکس کے ایشوسے سپریم کورٹ کوبھی عملاًدوررکھنے کی کامیاب کوشش کرلی ہے کہ معاملہ اب ایک مجوزہ پارلیمانی کمیٹی کے مرہونِ منت ہوگا پہلے کمیٹی متفقہ ٹی اوآرزتیارکرے گی جس کیلئے یقیناوقت درکارہوگااوراس کے بعدتحقیقات کی ذمہ داری کسی ادارے کے سپردہوگی ،گویااس زلف کے سرہونے میں کئی مراحل طے ہوناہوں گے جبکہ اس وقت تک بہت ساپانی پلوں کے نیچے سے گزرچکاہوگا۔وزیراعظم کی طرف سے یہ پتے بہرحال بڑی مہارت اورتجربہ کاری کے سے کھیلے گئے ہیں جس کاسیاسی سطح پراعتراف بہرحال کیاگیااورکیاجارہاہے لیکن یادرکھئے ایک اورادارہ اس کھیل کوبغوردیکھ رہاہے جس کے ہاں دیرتوہے لیکن اندھیرنہیں۔اس کی لاٹھی اس دفعہ نہ توبے آوازہوگی اورنہ ہی کڑے احتساب کے بغیرجان چھوٹے گی کہ بہت ہوچکااب اللہ کے نام پربنائی گئی ریاست میںغریبوں کی آہ وپکارکی قبولیت کاوقت آن پہنچاہے!
رابطے کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Title: pakistan and panama leaks | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply