داستان کشمیر کا نصف حصہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ دیرینہ تنازعہ میں نئے تغیرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔اس کے دارالخلافہ سری نگر کے گلی کوچے 8جولائی سے یعنی ہندوستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پاکستان میں قائم انتہا پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے وقت سے ہی صدائے احتجاج سے گونج رہے ہیں۔شریف نے پھر وہی راگ الاپا اور ان احتجاجی مظاہروں کو حکومت ہند کے ہاتھوں کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔اور کہا کہ ایسے حالات میں کشمیری عوام کو حق خود اردیت کا استحقاق حاصل ہے۔حکومت ہند نے بھی جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیر میں جو بے چینی، انتہا پسندی اور دہشت گردانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں اس کا ذمہ دار پاکستان ہی ہے جو انتہا پسندوں کو ہندوستان بھیج کر ان سے کشمیر کے حالات خراب کر ا رہا ہے۔اگر دونوں ممالک ایٹمی طاقت نہ ہوتے تو دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کی تنی سیاہ چادر سے اتنا خوف نہ محسوس ہوتا۔ لیکن اتفاق سے دونوں ہی ایٹمی طاقت ہیں۔
پھر بھی ہندوستان اور پاکستان کی بین الاقوامی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو وہ کشمیر کی صرف آدھی داستان سناتی ہے جو کہ ذاتی سیاست کے طور پر اپنے گھریلو سیاسی مسائل اجاگر کرتی ہے۔وہاں تعلیم کا معیار بلند ہو رہا ہے لیکن بے روزگاری خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری زبردست تشویش کا باعث ہے۔(اس لیے یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں میں نوجوان پیش پیش ہیں)کشمیری مسلمانوں کی نئی نسل ہندوستانی مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون کی زد میں آجاتی ہے۔اور اس قانون کے تحت صوبہ میں تعینات فوج ،جس کی موجودگی سے ان نوجوانوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے، کے اختیارات وسیع تر ہو جاتے ہیں ۔ مزید برآںہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کشمیر میں بر سر اقتدار مخلوط حکومت میں شراکت داری ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ وہی پارٹی ہے جو آئین کی اس دفعہ کی تنسیخ چاہتی ہے جو کشمیر کو خود مختاری دیتی ہے۔کشمیری مسلمان جنہیں یاد ہے کہ 1947میں تقسیم ہند کے بعد خود مختاری ہی ہندوستان سے کشمیر کے الحاق کا اصل سبب تھا۔
اس روشنی میں داخلی و بین الاقوامی سیاست دو حصوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔جب سے سری نگر میں احتجاج شروع ہوا ہے مودی کی دھاڑ اور بیان بازی میں اور زیادہ شدت آ گئی۔جو ان امیدوں کے قطعاً بر عکس ہے جو انہوں نے 25دسمبرکو اس وقت جگائی تھیں جب وہ اچانک ہی پاکستان کے دورے پر پہنچے ۔لیکن جلد ہی انہوںنے چولہ بدل لیا اور یوم آزادی پر، جی 20سربراہ اجلاس میں اور پھر ہند آسیان اجلاس میں اپنا رنگ بدل لیا۔مودی کے موقف میں یہ اچانک تبدیلی در اصل ان کی انتخابی حکمت عملی کا ایک جزو ہے۔2017میں ہندوستان کی سب سے بڑی آبادی والے صوبہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونا ہیں۔جو کہ ہندوستانی سیاست میں انتخابی و سیاسی نوعیت سے نہایت اہمیت کی حامل ریاست ہے۔اگر اتر پردیش میں انتخابات جیتنا ہیں تو ایک دوسرے کو شیر کی نگاہ سے دیکھنے والے نچلی ذات کے دلتوں اور اونچی ذات کے برہمنوں دونوں کے ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔مودی کا دلتوں کی خوشنودی حاصل کرنے اور ان کی للو چپو کرنے سے اونچی ذات کے ہندو قوم پرست ناخوش ہو گئے ہیں اور انہیں منانے اوردوبارہ اپنے قریب لانے اور ہندو قوم پرستوں کو خوش کرنے کی چال چلنے کے لیے انہوںنے اپنی تقریروں میں پاکستان پر حملے شروع کر دیے۔
تاہم اب مودی کو نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہئے۔ 18ستمبر کو نامعلوم انتہا پسندوں نے سرحدی شہر اڑی میں ایک فوجی چوکی پر حملہ کر 18ہندوستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ہندوستانی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو مورد الزام ٹہرایا اور اسے دہشت گرد ملک بتایا۔ جبکہ اسلام آباد نے جوابی الزام تراشی کی اور کہا کہ نئی دہلی کے پاس پاکستان کو پھنسانے کے لیے کوئی ٹھوس شہادت نہیں ہے۔لہٰذا ب مودی مخمصہ میں پڑ گئے۔ایک طرف انہیں فوجی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہندو قوم پرستوں کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہے اور دوسری جانب انہیں اپنے جیسے ہی ایٹمی ملک کے ساتھ جنگ کرنے کے دباؤ سے مزاحمت کرنی ہے۔
لیکن وزیر اعظم کو سوچنے کی کچھ مہلت مل گئی۔ 20ستمبر کو ہندوستانی فوجیوں نے پاکستان سے لائن آف کنٹرول کے راستے در اندازی کی کوشش کرنے والے 10انتہا پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ اس قسم کی طاقت کے مظاہرے نے مودی کے قوم پرست ساتھیوں کو ثبوت دے دیا کہ مودی سرحد پار بھرپور حملہ کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کارروائی کرنے کے خواہاں ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ اڑی واقعہ خود شریف کے لیے مسئلہ بن گیا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خود کو دفاعی پوزیشن میں پایا۔ بہر کیف اگر پاکستان واقعتاً یہ حملے کرا رہا جس کا کہ اس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو نواز شریف کے لیے مورال بلند رکھنا بڑا مشکل ہے۔
آخر کار ہندوستان اور پاکستان کو سمجھنا چاہئے کہ وہ دونوں ہی کبھی بھی پورا کشمیر دوبارہ نہیں لے سکتے۔ لیکن پھر بھی مسئلہ ایسا جڑ پکڑ چکا ہے کہ ہندوستانی و پاکستانی ووٹرزاور سرحد کے دونوں پارکے سیاستداںاس کاز کو اٹھاتے رہیں گے ۔ایٹمی اسلحہ کی موجودگی کا مقصد دونوں کی یقینی تباہی کی ہے جو فوجی جذبات کو گرم کریں گے جس کی بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔لیکن یہ خدشات بھی انہیں سیاسی مفاد کے لیے کشمیریوں کی حالت کا استحصال کرنے سے باز نہیں رکھ سکتے۔

بشکریہ :اسٹارٹفور.کوم

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: One half of the story of kashmir in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply