پاکستان کا کوئی تو وزیر اعظم میعاد پوری کرنے کا کارنامہ انجام دے دے

 پاکستان میں جمہوری طور پر منتخب وزراءاعظم کو کبھی باعزت طریقہ سے اپنی میعاد مکمل کر نے کا موقع نہیں دیا گیا ۔اسے کبھی قتل کرادیا گیا تو کبھی فوج نے الوداع کہا تو کبھی ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ وزیر اعظم خود الوداع کہنے پر مجبور ہو گیا۔اور اب یہ حال ہو گیا ہے کہ عدالتوں کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔اس کے لیے کبھی کرپشن کو بہانہ بنایا گیا تو کبھی معلوم آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کو عذر بنایا گیا۔ اور انہیں عدالت سے برطر ف کرا دیا گیا۔اس کا آغاز لیاقت علی خان سے ہوا تھا۔

جنہیں ان کے دور وزارت عظمیٰ میں ہی 16اکتوبر1951کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ کے دوران پیچھے سے گولی مار کر ہلاک کر دیاگیا۔لیاقت علی خان کے بعد خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم بنے۔ لیکن ابھی ان کی پانچ سالہ میعاد کے دو سال بھی مکمل نہیںہوئے تھے کہ 17اپریل1953کو انہیں اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935کے رو سے حاصل اختیارات کا استعمال کر کے برطرف کر دیا۔ان کی جگہ محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنایا گیا لیکن انہیں بھی وزیر اعظم بنے دو سال ہی ہوئے تھے کہ12اگست1955کو انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر کے ان کے وزیر مالیات محمد علی کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔اس کے بعد برطرفی ، استعفے دینے اور استعفیٰ دینے پر مجبو کرنے کا سلسلہ سر فیروز ان نون تک جاری رہا جنہیں انہی کی پارٹی کے اپنے صدر اسکندر مرزا نے اپنی میعاد میں توسیع کے لالچ میں 1958میں مارشل لاءنافذ کر دیا اور فیروز نون حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا ۔اس دوران عوامی لیگ کے حسین شہید ایک سال ایک مہینہ اور مسلم لیگ کے ابراہیم اسماعیل چندریگرمحض ایک ماہ 29دن تک ہی وزیر اعظم کے عہدے پر رہ سکے۔

لیکن یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں برطانوی طرز حکومت تھا اور گورنر جنرل کا راج ہوتا تھا۔قائد عوام اور بابائے آئین کا لقب پانے والے پاکستان کے مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تک کو نہیں بخشا گیا ۔ لیکن انہوں نے پاکستانی عوام کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے جب بینکوں کو قومیایا تو غیر ملکی ان کے دشمن جاں ہو گئے کیونکہ وہی ان پاکستانی بینکوں کا نظم و نسق چلاتے تھے۔یسا کرنے پر انہیں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے یہ کہہ کر دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں ایک عبرتناک اور دہشتناک مثال بنا دیں گے ۔اور واقعتاً بھٹو کو انہی کے مقرر کردہ فوجی سربراہ جنرل ضیاءالحق نے یہ صلہ دیا کہ فوجی بغاوت کر کے ان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور مقدمہ چلا کر انہیں پھانسی دے دی۔وہ بھی صرف3سال دس مہینے وزیرا عظم کے عہدے پر رہے۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ڈالی جس کے پرچم تلے انکی بیٹی بے نظیر بھٹو دو بار وزیر اعظم بنیں لیکن بد قسمتی سے وہ بھی اپنے پانچ سال پورے نہ کر سکیں۔وہ پہلی بار1988میں وزیر اعظم منتخب ہوئیں لیکن محض1سال 8مہینے ہی اس عہدے پر رہ سکیں۔ دوسری بار وہ1993میں وزیر اعظم بنیں تو تین سال 17روز تک ہی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ سکیں۔ اس درمیان نیشنل پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ جتوئی (تین ماہ)،پاکستان مسلم لیگ کے میان محمد نواز شریف (دو سال پانچ ماہ)،پی پی پی کے بلخ شیر مزاری(ایک ماہ8روز کارگذار)، پاکستان مسلم لیگ میں تقسیم کے بعدپاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این) کے میاں محمد نواز شریف(ایک ماہ22روز) اور نگراں وزیر اعظم معین الدین احمد قریشی(تین ماہ ایک دن) پانچ وزیر اعظم بدلے گئے۔بے نظیر کے بعد نگراں وزیر اعظم کے طور پر ملک معراج خالد کا تقرر عمل میںآیا اور وہ تین ماہ 12روز تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔پھر انتخابات ہوئے اور پی ایم ایل این بر سر اقتدار آئی اور میاں محمد نواز شریف پھر ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔لیکن وہی ڈھاک کے تین پات دو سال سات ماہ تک ہی وزیر اعظم رہ سکے ۔12اکتوبر1999کو اس وقت کے فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے انہیں برطرف کر کے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا۔

تین سال بعد ملک میں پھر عام انتخابات کرائے گئے اور پاکستان مسلم لیگ (قائد ) کو پہلی بار قومی سطح پر کامیابی ملی اور میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔لیکن وہ بھی محض ایک سال سات ماہ تک ہی وزیر اعظم کے عہدے پر رہے ا لیکن نامعلوم اسباب سے وہ مستعفی ہو گئے۔ان کی جگہ انہی کی پارٹی کے چودھری شجاعت حسین کو وزیر اعظم بنایا گیا لیکن وہ بمشکل تمام ایک ماہ 27روز تک ہی برداشت کیے گئے۔اور انہی کی پارٹی کے شوکت عزیز کو باقاعدہ وزیر اعظم بنا دیاگیا۔لیکن وہ بھی صرف تین سال دو ماہ 18دن وزیر اعظم کے فرائض منصبی ادا کر پائے۔ یہ بات دیگر ہے کہ مسلم لیگ قائد نے پارلیمنٹ کی پوری پانچ سالہ میعاد ضرور پوری کر لی۔اور وزیر اعظم بھی اسی کی پارٹی کے آتے جاتے رہے۔ اسی پارٹی کے محمد میاں سومرو کو2007میں نگراں وزیر اعظم بنایا گیا وہ بھی4ماہ8دن ہی حکومت کر سکے۔ مارچ 2008میں پی پی پی کے یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنایا گیا لیکن2012میںسپریم کورٹ نے توہین عدالت کی مہر لگا کر انہیں اقتدار سے معزول کر دیا۔اور یہیں سے شروع ہوا پاکستان میں سیاستدانوں کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ شروع کیا ہوگئیں قطاریں لگ گئیں آئے روز ایک دو بڑی توپ لڑھکتی رہی۔ گیلانی کی جگہ پر کرنے کے لیے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنایا گیا لیکن انہیںبھی سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا مجرم قرار دے کر نااہل قرار دے دیا ۔

وہ محض9ماہ دو روز ہی مسند اقتدار پر بیٹھ سکے۔ چھٹے نگراں وزیر اعظم کے طور پر آزاد ممبر پارلیمنٹ میر ہزار خان کھوسو کو ذمہ داری تفویض کی گئی ۔لیکن 5جون 2013کو عام انتخابات میں پی ایم ایل این بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور میاں محمد نواز شریف پھر وزیراعظم بنا دیے گئے اور اس بار ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ پانچ سال وپرے کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہوں گے ۔لیکن چا سال ایک ماہ بعد ہی انہیں سپریم کورٹ نے معلوم ذرائع سے زائد اثاثہ جات رکھنے اور کرپشن ریفرنسز میں مجرم قرر دے کر نااہل قرار دے دیا اور ایک اور وزیر اعظم اپنی پانچ سالہ میعاد قریب پہنچ کر بھی پوری کرنے سے محروم کر دیا گیا۔شاہد خاقان عباسی ان کی جگہ وزیر اعظم بنائے گئے تو الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی پانچ سالہ مدت کے اختتام کے باعث انتخابات کا اعلان کر دیا۔اور یکم جون 2018کوجسٹس نصیر الملک نگراں وزیر اعظم بنائے گئے اور یہ بھی چند روز کے مہمان ہیں۔البتہ نواز شریف کی پی ایم ایل این کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پی ایم ایل ق کی طرح اس نے بھی دو وزیر اعظموں کے ساتھ اپنی پارلیمانی میعاد ضرور پوری کر لی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا آئندہ وزیر اعظم کون ”خوش قسمت“ بنتا ہے اور کتنے روز تک اس کی حکمرانی چلتی ہے۔

(اردو تہذیب)

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Not a single pm of pakistan has completed 5 years in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply