آئی ایس آئی کے سابق سربراہ سمیت چار سابق اعلیٰ فوجی افسران کےخلاف17سال پرانا مقدمہ کھولنے کے لیے قومی احتساب بیورو کا فیصلہ

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو نے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ایک سابق سربراہ سمیت فوج کے چار سابق اعلیٰ افسران کے خلاف دو ارب روپے کے بدعنوانی کے 17سال پرانے معاملات کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ مقدمات فوجی افسران کے خلاف کوئی کارروائی کرنے مٰں انسداد بدعنوانی واچ ڈاگ کے تذبذب کے باعث گذشتہ17سال سے معرض التوا میں پڑا تھا۔
ان فونجی افسروں پر الزام ہے کہ2001میں اس وقت کے فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں رائل پالم گولڈ اینڈ کنٹری کلب کے عنوان سے ایک گولف کورس بنانے کے لیے ملیشیائی فرم کو لاہور میں ریلوے کی سیکڑوں کروڑ ایکڑ پر پھیلی قیمتی زمین کوڑیوں کے مول دے دی تھی۔گذشتہ ہفتہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریٹائرڈ فوجی افسران فوج کے احتسابی عمل کی آڑ میں چھپ نہیں سکتے۔
احتساب بیورو کے ترجمان نے کہا کہ میٹنگ نے فیصلہ کیا کہ سابق وزیر ریل ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی، سابق ریلوے چیرمین ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل سعید الظفر، سابق جنرل منیجر ریٹائرڈ میجر جنرل حامد حسن بٹ، سابق ممبرریلوے بورڈ ریٹائرڈ بریگیڈیر اختر علی بیگ، سابق جنرل منیجر اقبال صمد خان ،سابق ممبر خورشید احمد خان ، سابق ڈائریکٹر عبد الغفار،سابق سپرنتنڈنٹ محمد رمضان شیخ، ڈائریکٹر حسنین کنسٹرکشن کمپنی پرویز لطیف قریشی، چیف ایکزیکٹیو یونی کون کنسلٹنگ اوسز داتو محمد بن کاسہ بن عدا عزیز ، ڈائریکٹر میکس کارپوریشن ،ڈیولپمنٹ ملیشیا اور دیگر کے خلاف حکومتی خزانے کو2ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Nab reopens case against three ex army generals in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply