لڈو کھا کر31اموات کا معمہ حل،حلوائی کے چھوٹے بھائی نے لڈوؤں میں زہر ملانے کا اعتراف کر لیا

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لیہہ شہر میں بچے کی پیدائش کی خوش میں تقسیم کیے گئے لڈو کھا کر 31افراد کی موت کا معمہ اس وقت حل ہو گیا جب حلوائی کے چھوٹے بھائی نے لڈوؤں میں کیڑے مارنے والی زود اثر زہریلی دوا ملانے کا اعتراف کر لیا۔
مٹھائی کی اس دکان کے مالک طارق محمود کے چھوٹے بھائی خالد محمود نے پولس کو بتایا کہ اس نے اپنے بڑے بھائی سے تو تو میں میں کے بعداسے سبق سکھانے کے لیے مٹھائیوں میں زہر ملایا تھا۔ ایک پولس اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ خالد نے اپنے بڑے بھائی کی مٹھائی کی دکان میں مٹھائیاں بنانے کے لیے تیار خمیر میں رقیق زہریلی دوا سے بوتل الٹ دی تھی۔پولس نے خالد کی نشاندہی پرکیڑے مار دوا کی وہ بوتل برآمد کر لی۔فتح پور پولس نے جمعرات کی شام دیر گئے خالد محمود کو کروڑ لال ایسان کے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جہاں اس نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

Title: mystery of 31 deaths resolved shop owners brother mixed poison in sweets | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply