پاکستان میں اقتصادی ذریعہ سے فوج کو ہی اصل طاقت حاصل ہے:عائشہ صدیقہ

سبھاش چوپڑا
پاکستانی فوج کو اب کسی غیر فوجی حکومت کو معزول کرنے یا فوجی بغاوت کر نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب ملک کی اقتصادیات اور تجارت جیسی اصل طاقت کی لگام اب اس کے ہاتھ میں ہے۔ اور اب وہ پیچھے رہ کر کام کرنے میں ہی خوش ہے۔اس کا اظہار پاکستانی مصنفہ عائشہ صدیقہ نے اپنی کتاب ”ملٹری انسائڈ پاکستانس اکنامی“ کے دوسرے ایڈیشن میں کیا ہے جس پر لندن سے شائع ہونے والے انگریزی جریدے ایشین افئیرز میں تبصرہ چھپا ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے جنرل ضیاءالحق سے جنرل پرویز مشرف کے دور تک بڑھتی فوجی اقتصادی طاقت کا ذکر کیا ہے۔یہ جنرل مشرف ہی تھے جنہوں نے نیشنل سیکورٹی کونسل تشکیل دی اور اور فوجی طاقت اس قدر بڑھا دی کہ اب وہ کم نہیںہو سکتی تھی۔پہلی بار فوج نے ملک کے نہایت منفعت بخش اقتصادی زمرے بینک کاری اور امور مالیات میں طبع آزمائی کی۔
جسے صدیقہ نے مل بز(ملٹری بزنس) قرار دیا۔ایشین افئیرز کے ایڈیٹر اور کتاب کے تبصرہ نگار ریمنڈ وائٹیکر نے تجزیہ کیا کہ فوج کی زیر ملکیت اور زیر نگرانی چلائی جارہی کمپنیاں اور فلاحی ادارے ملک کی وسیع زمینوں کے مالک بن گئے ہیں۔(فوجی روایت کے عین مطابق جنرل راحیل شریف کو 90ایکڑ زمین کا ریٹائرمنٹ عطیہ تازہ ترین مثال ہے)۔مختصر یہ کہ لندن مقیم مصنفہ صدیقہ کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں” نرم مارشل لا “ اب بھی نافذ ہے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: military holds real power in pak via business says author in Urdu | In Category: پاکستان  ( pakistan ) Urdu News

Leave a Reply