پاکستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے کچھ لکھنا خود کو لاپتہ کرانے کے خطرے سے دوچار کردینا :لندن میں کراچی لٹریچر فیسٹیول

لندن: پاکستان کے70ویں یوم پاکستان کی تقریبات کے طور پر ہفتہ کو لندن کے ساؤتھ بینک سینٹر میں کراچی لٹریچر فسٹیول نے کئی رنگا رنگ اور دلچسپ پروگرام کیے۔ان پروگراموں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ٹکٹوں کی فروخت جیسے ہی شروع ہوئی دیکھتے ہی دیکھے تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے اور فیسٹیول میں منعقد 0 2پروگراموں میں ناظرین کی زبردست بھیڑ رہی۔لنکاسٹر ہاؤس میں ایک فیشن شو ہوا۔اور پہلی بار کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں منعقد ہوا جس میں مجموعی طور پر 65مقررین نے اظہار خیال کیا۔اس عظیم الشان پروگرام میں پاکستان ہائی کمیشن نے فیشن شو کرنے والوں اور مقررین کو ایک مشترکہ شاندار استقبالیہ اور پر تکلف ڈنر دیا ۔
پاکستانی سفیر متعین برطانیہ سید ابن عباس نے بڑے جذباتی و جوشیلے انداز میں دنیا میں پاکستان کی ایک حلیمی مزاج تصویر پیش کی۔ کلیدی خطبہ معروف پاکستانی مصنف محمد حنیف نے دیا۔انہوں نے پاکستان کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ملک کے مصنفین کو درپیش مسائل و دشواریوں کو اجاگر کیا۔انہوں نے اس کا ذکر کیا کہ کس طرح حالیہ دنوں میں ایک مباحثہ منعقد کرنے والے صحافی کو گولی ماردی جاتی ہے اور ایک صحافی کو اس کی رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں اعلیٰ سطحی تحیقات کا سامنا کرنا پڑتاہے ،فوج اور حکومت میں کیسا عدم اتفاق ہے اور ایک تیسرا فیس بک پر کچھ پوسٹ کرنے کی پاداش میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔پاکستان میں لاپتہ ہوجانے کے واقعات پر روشنی ڈالتے اور حقوق انسانی کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر حنیف نے کہا کہ 2016میں 728افراد لاپتہ ہوئے۔جوکہ گذشتہ چھ سال کے دوران لاپتہ ہونے والوں کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ گمشدگی یا لاپتہ کر دیے جانے کے حوالے سے کچھ لکھنا خود کی گمشدگی یا خود کو لاپتہ کرادینے کے خطرے سے دوچار کر دینا ہے۔
پاکستان میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ڈائریکٹر اور فیسٹیول کی ناظمہ امینہ سعید نے کہا کہ پاکستان کی پیش کردہ تصویر کے باوجود پاکستانیوں کی اکثریت صوفی روایات وتعلیمات کے باعث نہایت اعتدال پسند ہے۔محترمہ سعید نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کراچی لٹریچر فیسٹیول اس لیے بر طانیہ کے دارالخلافہ لندن میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ لندن ایک نہایت مناسب مقام تھا کیونکہ یہاں دس لاکھ سے زائد پاکستانی نژادآبادی ہے جو اپنے آباو اجداد کی سرزمین سے دوبارہ وابستگی کی خواہاں ہے۔اس پروگرام میں جن اہم شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں برٹش کنزرویٹیو پارٹی کی شریک چیرمین بیرونس سعیدہ حسین وارثی بھی شامل تھیں جنہوں نے اپنی نئی تصنیف ”دی اینمی ودھ ان : اے ٹیل آف مسلم بریٹین کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔فیسٹیول میں جن دیگر موضوعات کا احاطہ کیا گیا ان میں خواجہ سراؤں کے مسائل،سنیما، طبقاتی سیاست، مذہب اور پرائیویٹ اسکولوں سمیت ملک کی تقسیم پر کئی معاملات شامل ہیں۔لندن میں کراچی لٹریچر فیسٹیول کرانے کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے محترمہ سعید نے کہا کہ وہ میڈیا میں چھائی ہوئی پاکستان کی تصویر سے پرےکچھ پیش کرنے کی امید رکھتی تھیں۔ ان کا مقصد پاکستانی مصنفین کی تصویر کشی کرنا اور پاکستان کی اصل اور کلی تصویر پیش کرنا تھا۔
کئی مقررین نے انہی خطوط پر تقریریں کیں ۔ مثال کے طور پر انہوں نے کراچی کے حوالے سے ایک سیشن میں کہا کہ شہر دنیا کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلہ میں زیادہ پر تشدد نہیں ہے اور کراچی والوں کو جو حقیقی مسائل درپیش ہیں وہ سلامتی کے حوالے سے اتنے نہیںہیں جتنے کہ عدم مساوات اور بنیادی ڈھانچوں کی کمی کے باعث ہیں۔ایک خاتون مقرر نے کہا کہ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ کراچی نیویارک سے زیادہ محفوظ شہر ہے۔پاکستان میں سوشل میڈیا سیاسی منظر نامہ پر کس طرح اثر انداز ہورہا ہے کے حوالے سے کہا گیا کہ یقیناً سوشل میڈیا بڑے موثر انداز سے سیاسی منظر نامے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

Title: karachi literature festival comes to london | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply