چودہ سو سال پہلے

شیخ خالد زاہد

چودہ(1400) سو سال پہلے کہیں بھی لکھا ہوا دیکھائی دیتا ہے تو اس سے بات اخذ کر لی جاتی ہے کہ یہ اسلام سے قبل یعنی عربوں کی زمانہ جاہلیت کا تذکرہ ہوگا، اکثر ایسا ہی ہوتا ہے دراصل جاہلیت اور علم میں فرق تو پتہ ہی تب چلا جب اسلام کا سورج طلوع ہوا ۔ایسا قطعی نہیں تھاکہ عرب پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن وہ اپنی روایات کی قید میں تھے اور اسلام کا سورج طلوع ہوا تو یہ معلوم ہوا کہ وہ تو جاہلیت کی زندگی بسر کر رہے تھے اندھیرا انکا مقدر بنا ہوا تھا۔

دنیا میں عورت کے مقام کو لیکر کیا کچھ نہیں ہورہا ، عورت کو معاشی اور معاشرتی تحفظ کا فلسفہ اسلام نے دیا مغرب کو یہ بات آج تک ہضم نہیں ہوئی اور وہ عورت کو اسکے حق کیلئے اکسائے چلے جا رہے ہیں اور اپنی مرضی سے اسے استعمال کررہے ہیں۔ یہ بات بھی اسلام نے بتا دی ہے کہ عورت صنف نازک ہے اور اس قدر نازک کے جذبات و احسات بھی مجروح ہوں تو ٹوٹ جاتی ہے۔ لیکن عورت کو آزادی کے سبز باغ دیکھا کر معاشروں نے اس مقدس ہستی کو کتنا پامال کیاہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عورت مغرب کی ہو یا مشرق کی یا پھر کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اسلام نے عورت کو سب سے بڑھ کر ہر طرح سے تحفظ فراہم کیا ہے ۔ اس دور کی دیگر جاہلانہ رسومات و عقائد ایک طرف اور دوسری طرف لڑکی کا پیدا ہوتے ہی دفنا دینے کا عمل ایک طرف ۔ قابل غور یہ ہے کہ سنگدلی کی انتہا ہوگی کہ ایک جیتی جاگتی ہنستی مسکراتی معصوم بچی کو زندہ دفنا دینا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ لڑکی ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے ایسے میں اگر اسلام نا ہوتا اور نبی پاک ﷺ تبلیغ اسلام نا کرتے اور مکہ والوں کو ایسے عمل سے نا روکتے تو کائنات عدم توازن کا شکار ہوجاتی ۔اب اس بات پر بھی غور کرلیجئے کہ وہ کیا عوامل تھے کہ عرب اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ یقینا جو بات سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ عورت کی معاشرے میں امیر غریب کی تفریق اور اس تفریق کا ناجائز فائدہ غریب عورت کی عزت و عفت کی پامالی ہے۔ جی ہاں ! یہ باتیں اور بہت ساری باتوں کی طرح ہم سب جانتے ہیں یہ سبق کے طور پر ہمارے بنیادی تعلیمی نظام کا حصہ ہے، لیکن لفظوں میں سے روح پرواز کرچکی ہے سب کچھ پڑھنے کی حد تک رہ گیا ہے ۔ جیسے کسی مرنے والے کی تصویر تو دیکھی جا سکتی ہو لیکن اس سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

رواں سال کی ابتداءمیں ایک سات سالہ زینب کیساتھ زیادتی کے بعد قتل کا واقعہ ہوا تھا اس واقعہ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ہر فرد ہی اپنے اپنے طور پر غم و غصے کا اظہار کر رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ سارا ملک ہی اس مجرم کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ہے ۔ اس کیس کہ ساتھ بہت ساری کہانیاں منظر عام پر آئیں لیکن پھر کسی سمندر کی لہروں پر بننے والے جھاگ کی طرح بیٹھ گئیںگوکہ مجرم کو اسکے جرم کے مطابق تو نہیں لیکن قانون کے مطابق سزاسنا دی گئی ہے۔ اس سزا کے بعد ابھی تک سیکڑوں بچوں اور بچیوں کو اس بد فعلی کانشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور موت کی نیند سلا دیا گیا ، سماجی میڈیا کی نظر سے اب کوئی واقع چھپا نہیں رہ سکتا ۔یہ بیہمانہ سلسلے کسی کے قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے کہ اگست کی13 تاریخ کوجب ایک ”نیا پاکستان“ طلوع ہو رہا تھا تو ایک اور واقعہ رونما ہوا جس میں امل عمر نام کی ایک10سالہ بچی جو اپنے والدین کیساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی اور ان کی کار کراچی کی ایک مصروف سڑک کے سگنل پر کھڑی تھی جہاں رہزن اس کے والدین کوپستول کی نال پر لوٹ رہے تھے کہ کسی نامعلوم سمت سے بندوق کی ایک گولی معصوم امل کو ایسی لگی کے اس کی ایک سسکی تک اگلی نشست پر بیٹھے اسکے والدین تک نہ پہنچ سکی ۔ شائد امل کو زندگی جیسی نعمت سے جڑا رکھا جاسکتا تھا لیکن بروقت طبی امداد بہم پہنچانے والے اداروں کی نا اہلی اور انسانی سفاکی آڑے آگئی اور امل یقینا شہادت کے مرتبے پر فائز ہوکر جنت کے گلستان کا پھول بن گئی ۔

یہاں دوباتیں قابل ذکر ہیں ایک تو یہ کہ ابتدائی تحقیقات کی رو سے گولی پولیس کی جانب سے چلائی گئی جو کہ لٹیروں کو لگنی چاہئے تھی لیکن کیا کسی مہذب معاشرے کے قانون نافذ کرنے والے ادارے گنجان آباد شہر میں خطرناک اسلحہ سے اس طرح گولیاں چلاتے پھرتے ہیں یا پھر ہم کشمیر اور فلسطین یا پھر شام کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں چلے گا اور ہم ہمارے بچے کسی بھی نا معلوم بارود کا نشانہ بن جائیں گے۔ دوسری بات یہ کیا پھر سے1400سال پہلے کی سوچ جنم لے چکی ہے کہ یا تو پیدا ہونے والی بیٹی (جسے اللہ نے اپنی رحمت قرار دیا ہے )پیدا ہوتے ہی ماردیا جائے یا پھر بیچ دیا جائے، ہر طرح کا نشہ عام ہوچکا ہے، نوجوان فحاشی کو ترقی سمجھ بیٹھے ہیں۔ خدارا معاشرے کو دورِجاہلیت کی طرف نا دھکیلیں ۔

ساری کی ساری ذمہ داری قانون کے ذمہ ہے کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سہل پسندی سے کام لیتے ہیں، یہ سہل پسندی کا ہی نتیجہ ہے کہ شہر قائد میں موبائل اور گاڑیاں چھیننے کی واداتیں ایک دفعہ پھر بہت بڑھ گئی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والوں کے گھروں یا خاندانوں میں زینب اور امل نہیں ہیں ؟یا پھر یہ بے حسی کی حدوں کو چھو رہے ہیں ۔ ایسی لاپروائی برتنے والوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے ورنہ کل ہم اور ہمارے بچے بھی کسی سہل پسند قانون نافذ کرنے والے کی گولی کا نشانہ بن جائینگے۔

اللہ تعالی ان تمام والدین کو ہمت اور حوصلہ عطاءفرمائے کہ جن کے بچے ایسے کسی بھی حادثے کا شکار ہوچکے ہیں اور باقی تمام بچوں کو اپنی خصوصی حفاظت میں رکھے۔
(آمین یا رب العالمین)

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Is pakistan becoming a slaughterhouse in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply