اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این ) کی نائب صدر مریم نواز کے ذریعہ جاری کیے گئے ایک ویڈیو کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جج ملک نے 4دسمبر 2018کو معزول وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملزکرپشن کیس میں مجرم قرار دے کر سات سال کی سا سنائی تھی لیکن فلیگ شپ انویسٹمنٹ کیس میں انہیں بری کر دیا تھا۔6جولائی کو مریم نواز نے یہ دوعویٰ کر کے پنڈارہ باکس کھول دیا کہ جج نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو مجرم قرار دے کر جیل بھیجنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا اور انہیں بلیک میل کیا گیا تھا۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ،جس میں پی ایم ایل این کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی،مریم نے خفیہ طریقہ سے ریکارڈ کیا گیاا ایک ویڈیوچلایا تھاجس کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں ان کے والد معتمد خاص ناصر بٹ اور گذشتہ سال نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز بدعنوانی کیس میں سات سال کی سزا سنانے او فلیگ شپ انویسٹمنٹ کیس میں بری کرنے کا فیصلہ سنانے والے احتساب جج ارشد ملک کے درمیان ہونے والی گفتگوریکارڈ ہے ۔

مریم نے الزام لگایا کہ جج نے ناصر سے رابطہ کیا ھا اور ان سے کہا تھا کہ نواز شریف کے خلاف غیر منصفانہ فیصلہ سناکر خود کو مجرم محسوس کر رہے ہیں او ر ان کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔اس لیے انہوں نے ملاقا ت کے لیے ناصر کو اپنی رہائش گاہ پربلایا جہاں یہ گفتگو ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد کو مفروضات اور الزامات پر ہی سزا سنادی گئی۔ ان کے خلاف ٹھوس تو کیا کوئی معمولی ثبوت بھی ایسا نہیں تھا جس سے وہ مجرم قرار دیے جاسکتے۔اس ویڈیو کو انہوں نے غیبی مدد سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جج ملک نے نواز کے خلاف کرپشن کیس میںان خامیوں کی نشاندہی کی جن سے وہ نواز شریف کے وکیلوں کو آگاہ کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جج ملک نے اعتراف کیا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے انہیں بلیک میل کیا گیا تھا اور دباؤ ڈالا گیا تھا۔لیکن جمعہ کے روز جج ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے نگراں چیف جسٹس عامر فاروق کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں انہوں نے کہا کہ مریم نے جو ویڈیو جاری کیا ہے وہ جعلی ہے انہوں نے اپنے اس خط کے ساتھ ایک حلفیہ بیان بھی منسلک کیا ۔

جسٹس فاروق نے ان کا مکتوب تو پڑھ لیا لیکن چونکہ وہ لاہور ہائی کورٹ کی ذیلی عدالت کے ایک اہلکار ہیں اس لیے کوئی انکوئری کیے بغیرہی انہیں فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ihc decides to remove judge arshad malik after video leak controversy in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.