مجھے دوران قید زبردست اذیتیں پہنچائی گئیں:شہباز تاثیر

لاہور: پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیرنے، جنہیں اغوا کے چار سال بعد اسی سال مارچ میں بازیاب کرایا گیا ، بتایا کہ وہ اسلامی تحریک ازبکستان کی قید میں تھے ۔ اور قید کے دوران ان پر اسلامی تحریک کے کارکنوں نے زبردست تشدد ڈھایا اور ہر قسم کی اذیت پہنچائی۔بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شہباز نے انکشاف کیا کہ اسلامی تحریک ازبکستان کے بیعت کے تنازعہ پر افغان طالبان سے بر سر پیکار رہنے تک وہ اسلامی تحریک ازبکستان کی قید میں تھے۔
چونکہ اسلامی تحریک ازبکستان افغان طالبان کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) کی تابعداری کرنے کے حق میں تھے اس لیے بیعت کے معاملہ پر اس کا افغان طالبان سے تنازعہ چل رہا تھا۔شہباز نے بتایا کہ ازبکستان کی تنظیم نے انہیں لاہور سے اغوا کیا تھا اور وہاں سے انہیں وزیرستان کے میر علی علاقہ لے جایا گیا۔ اس کے بعد ہر ماہ میرا مستقر تبدیل کیا جاتا رہا۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ جب کراچی ہوائی اڈے پر ازبیکون نے حملہ کیا تو وہ اس وقت میر علی میں تھے۔لیکن وہ جانتے تھے کہ حکومت پاکستان اور فوج کیا قدم اٹھائے گی اس لیے انہیں دتہ خیل منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں فروری2015تک رکھا گیا۔
تنازعہ کے دوران افغان طالبان نے ازبیکوں پر حملہ کر کے انہیں تہ تیغ کرکے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ پورا گروپ بمع قیادت مارا گیا۔ تین روز تک وہاں صرف موت رقص کرتی رہی۔اس وقت مجھے فرار ہونے کا موقع ملا تھا اور ایسا ہی ہوا لیکن افغان طالبان نے مجھے ازبیک سمجھ کر گرفتار کر لیا۔میں دیگر قیدیوں کے ساتھ ایک گاو¿ں لے جایا گیا جہاں ایک جج آیا اور ہم سب کو 6ماہ تا دو سال قید کی سزا سنادی گئی۔اور ہمیں افغان جیل بھیج دیا گیا۔جہاں مجھے ایک طالبان قیدی ملا جس نے ان کی رہائی میں مدد کی۔

Title: i was badly tortured during captivity reveals shahbaz taseer | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply