پاکستان آخر دہشت گردی کو کب تک فروغ دیتا رہے گا

پاکستان میں جس طرح فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ ساتھ حکومتی سرپرستی میں جہادی گروپ نشوونما پارہے ہیں اس سے جہاں ایک جانب خطہ میں امن و استحکام عنقا ہوتا جارہا ہے وہیں یہ جہادی گروپ پاکستان میں مذہبی و نسلی اقلیت کا قافیہ تنگ کیے ہیں ۔ان جہادی گروپوں کا جن کے سربراہ انتہاپسند وہ ” ملا“ ہیں جن کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ پاکستانی حکام کوخواہ وہ فوجی ہوں یا غیر فوجی اللہ سے اتنا ڈر نہیں لگتا جتنا ”ملا“ سے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کوتحفظ بہم پہنچانے کے لیے سپریم کورٹ نے جو ایک تاریخی حکم صادرکیا تھا،جی ہاں اسے تاریخی ہی کہاجائے گا کیونکہ اس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پشاور کے ایک چرچ میں2013میں ہوئے اس بم دھماکے کا جس میں چرچ میں عبادت میں مصروف کم از کم127عیسائی ہلاک اور 250سے زائد زخمی ہوئے تھے، از خود نوٹس لیتے ہوئے جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ فیصلہ سنایاتھا، اس پر آج ساڑھے تین سال گذر جانے کے باوجود عمل آوری نہیں ہو سکی ہے۔

کیونکہ ملک کے فوجی و غیر فوجی اور سیاسی ارباب اقتدار اس بات سے کما حقہ واقف تھے کہ اگر اس پر عمل آوری کی گئی تو خود ان کی زندگی کا قافیہ تنگ کر دیا جائے گا۔ اور ان جہادیوں کو کھلی چھوٹ دے کر وہ فوجی و غیر فوجی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اپنے اپنے عہدوں پر جو توانائی اور بے فکری کا احساس دے رہے ہیں جہادیوںکی لگام کھینچنے کو تصور کرنے سے ہی اڑن چھو ہو جائے گا۔کیونکہ انہوں نے جسٹس تصدق حسین جیلانی کا حشر دیکھ لیا تھا کہ جب 2014کے عام انتخابات سے قبل نگراں وزیر اعظم کے تقرر کے لیے ان کا بھی نام تجویز کیا گیا تو پاکستان کا سابق چیف جسٹس کا اعزاز حاصل ہونے کے باوجود جہادی گروپوں کے دباؤ میںمیر ہزار کھوسو کو ان پر ترجیح دے کرنگراں وزیر اعظم بنانا پسندکیا گیا جبکہ کھوسو محض ایک سابق جج تھے۔ اسی لیے جہادی گروپوں کی”کتاب طلائی“ میں مندرج موجودہ فوجی وغیر فوجی حکام بالا نے چند برسوں کی پر تعیش زندگی کی خاطر ان جہادی گروپوں کی درپردہ حمایت، حفاظت،سرپرستی، پشت پناہی اور مالی اعانت اور ان کی ہر حرکت کو صرف نظر کر کے مختلف مذہبی اقلیتوں کی زندگی خطرے میں ڈال رکھی ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے تو یہ تک سننے میں آیا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے علمبرداروں اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو موبائل فون پریہ پیغام بھیجا جا رہا ہے کہ جو ملک یعنی پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیا ہو اس میں غیر مسلموں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ” غیر سنی مسلمان اور غیر مسلم اقلیت مکت“ پاکستان بنانے کی دن رات سازش رچتے رہنے والے جہادیوں کی حکومتی اور فوجی سطح پرحمایت کی جا سکتی ہے اور حمایت میں جو جتنا زیادہ پیش پیش رہے گا حکومت اور فوج میں بھی اسے اتنی ہی ترقی ملتی رہے گی ۔ لیکن اگر اقلیتوں کے حقوق یا ان کے تحفظ کے لیے ”مٹکے “ میں منھ ڈال کر بھی صدا لگائی تو ان کو ٹیلی فونوں پر دھمکیاں اور موبائیل پر دیس نکالا پیغامات ارسال کرنا شروع کر دیے جاتے ہیں ۔اور ان دھمکیوں کوجاری کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے میںحافظ سعید اور اس کی لشکر طیبہ اور جماعت الدعویٰ پیش پیش رہتی ہے ۔

سب اس سے واقف بھی ہیں لیکن اس کے خلاف اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی کیونکہ لشکر طیبہ جیسی تنظیموںکو” اقلیتی چارے“ کی ضرورت ہے اور یہ چارہ ظاہری طور پر اقلیتوں کے تئیں بھائی چارے کے اظہار سے بآسانی دستیاب ہوجاتا ہے ۔کیونکہ بھائی بنا کر انہیں چارہ بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔یعنی انہیں دھوکے میں رکھ کر یا دھوکا دے کر شکار بنا لیا جاتا ہے ۔ حافظ سعید پاکستان میں بر سر اقتدار آنے والی کسی بھی سیاسی یا فوجی حکومت کامنظور نظر ہوجاتا ہے اور اس کی جماعت نہایت مراعات یافتہ ہوجاتی ہے۔ حافظ سعید 3عشروں سے زائد مدت سے پاکستان کی ہر حکومت کی آنکھ کا تارہ بنا ہواہے۔اس کے سپاہیوں کوکشمیر میں دہشت گردی مچانے کے لیے پاکستانی فوج نے تاحیات لائسنس دے رکھا ہے۔کیونکہ پاکستانی فوج اورآئی ایس آئی کے لیے حافظ سعید بڑے کام کی چیز ہے ۔ جو ان کے حکم کی تعمیل میں اپنے سپاہیوں کو جب چاہے اور جہاں چاہے بھیج کر دہشت گردانہ کارروائیاں کرا دیتا ہے۔

فی الحال جموں و کشمیر اس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا اصل ہدف ہے۔ اور جب حافظ سعید کی لشکر طیبہ کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تو پاکستانی فوج و آئی ایس آئی کی ایماءپر ہی حافظ سعید نے جماعت الدعویٰ نام کا ذیلی ادارہ کھولا تھا اور اسے فلاحی ادارے کا نام دیا تھا ۔اسی کی آڑ میں حافظ سعید نے غزوہ ہند کا نعرہ دیا۔اور درپردہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے پاکستانی عوام کو یہ باور کرنے پر مجبور کر دیا کہ ”حافظ صاحب“ تو محسن پاکستان ہیں۔ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت،فرقہ و زبان و نسل ہر کس و ناکس کی فلاح و بہبود کے غم میں ”گھلتے“ رہتے ہیں۔اور خوب دل کھول کر مدد کرتے ہیں۔کچھ پاکستانی تو انہیں ہیرو آف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کا ہیرو تک قرار دینے سے خود کو نہیں روک پاتے۔در اصل یہ وہ لوگ ہیں جو حافظ سعید کے ایک اشارے پر ناچنے والے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کی کارروائی سے محفوظ ہیں۔کیونکہ وہ ہندو، سکھ، عیسائی، احمدی، شیعہ ،ہزارہ، بلوچ اور غیر سنی نہیں ہیں۔

حافظ سعید پاکستانی حکمرانوں ،فوجی جرنیلوں اور آئی ایس آئی ڈائریکٹروںکو کتنا محبوب اور ہر دلعزیز ہے کہ اس کو اور اس کی دہشت پسند تنظیم کے گرگوں کو ایوان اقتدار تک نہ سہی کم از کم قومی اسمبلی میں ہی پہنچانے کی راہ پر ڈالنے کے لیے اسے ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی پارٹی بنانے کا مشورہ دیا جو اس نے بلا تاخیر بنا لی ۔اب وہ2018کے عام انتخابات میں فوجی جرنیلوں کے پسندیدہ حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑا کرے گا۔تاکہ فوج کے پسندیدہ امیدوار وں کی قومی اسمبلی تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو جائے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند ماہ میں حافظ سعید پاکستانیوں میں اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے ہندوستان اور پاکستان کی غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف کیا کیا کارروائیاں کرتا ہے جس سے عوام اس کی دیوانہ ہو کر اسکی پارٹی کے امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ ووٹ دے سکیں اور الیکشن کے نتائج پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی منشا کے عین مطابق بر آمد ہوں۔جس میں حافظ سعید کا مرکزی کردار ہو اور آئندہ حافظ سعید کا استعمال اور زیادہ موثر انداز میں کیا جاسکے۔
(اردو تہذیب )

Title: how long pakistan will nurture terrorism | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply