تاریخ کاخوفناک منظر

سمیع اللہ ملک، لندن
سوچتاہوں کیاوہ وقت نزدیک آپہنچاہے جب اس امت کے خوابوں،امنگوں خواہشوں اورامیدوں کے ساتھ کھیلنے والوں،اسے اپنے اقتدار کی قربان گاہ پرذبح کرنے والوں،ان کی معصومیت کامذاق اڑانے والوں کے دن گنے جائیں گے،ان کی حیات ان پرتنگ ہوجائے گی،انہیں جائے امان نہیں ملے گی۔ لیکن وقت کی طنابیں تواس مالک کائنات کے ہاتھ میں ہیں جس کافرمان ہے کہ میں ظالم کوڈھیل دیتاہوں،اسے مہلت ملتی رہتی ہے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آجائے۔ لیکن جب زمین پربسنے والوں کی آہیں،سسکیاں اور فریادیں بے تکان آسمان کی جانب سفرکرنے لگتی ہیں توپھراللہ فرماتاہے اورتیرے رب کی پکڑ بہت شدیدہے۔ یہ پکڑاس وقت آتی ہے جب ظلم کرنے والوں کویقین ہوجاتاہے کہ اب ان کا ہاتھ کوئی نہیں روک سکتا اوربستیوں کے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہاں اب کوئی ہمیں اس دورجبرسے نجات نہیں دلاسکتا۔ایسے میں میرے رب کے فیصلے کالمحہ آپہنچتاہے ۔صفائی کا موسم ، سزا کافیصلہ،زمین پرفسادبرپاکرنے، عدل وانصاف کی تضحیک اڑانے اوربے بس،مجبور اوربے نوالوگوں پرعرصہ حیات تنگ کرنے کی فرد جرم پرفیصلہ سنادیاجاتاہے۔ سیدالانبیائ نے فرمایا کہ میری امت پرعذاب نہیں آئے گا سوائے اس کے کہ تم گروہوں میں تقسیم ہوکرایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے پھرو اور یوں عذاب کامزاچکھ لو۔
ایم کیو ایم کے ایک زیر حراست ملزم کی اسلحے کی نشاندہی پر پارٹی کے گڑھ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے ایک سیکٹرانچارج کے ایک سوبیس گزکے گھرکی پانی کی ٹینکی میں چھپایاہوا خوفناک حدتک کثیرتعدادمیں نیٹوکاجدید ترین اسلحہ برآمد ہوا ہے جس میں اینٹی ایئر کرافٹ گنیں، راکٹ لانچر، بلٹ پروف جیکٹس اورپانچ لاکھ سے زائدگولیوں کاذخیرہ قبضہ میں لیاگیاہے جس کوموسمی حالات اورزنگ سے بچاؤ کیلئے ایک” مخصوص گریس جوکہ پاکستان میں دستیاب نہیں“کالیپ کرکے اخبارات میں لپیٹ کررکھاہواتھا جسے بعد ازاںفوج کے چاربڑے ٹرک کے ذریعے محفوظ مقام پرمنتقل کردیاگیا۔ یادرہے کہ مشرف کے زمانے میں پورٹ اینڈشپنگ کے مرکزی وزیر ایم کیوایم بابر غوری پرنیٹوکے سینکڑوں کنٹینر غائب کرنے کے کئی مرتبہ الزامات بھی لگائے گئے تھے جس کی ابھی صرف دس فیصد برآمدگی ہوئی ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ کے مطابق اسلحے کے ذخیرے کے سارے اشارے اس پارٹی کی طرف جارہے ہیں جس کااس علاقے میںنہ صرف مرکزی دفتربلکہ مکمل کنٹرول ہے اوران کی مرضی کے بغیروہاں کوئی اجنبی جانے کی جرات نہیں کرسکتااورسارے علاقے کی سیکورٹی کیمروں سے کڑی نگرانی بھی ہوتی تھی۔ کرا چی مےں اس جما عت (فاشرم منشور رکھنے والی جماعت جس کے ہر رکن کیلئے ا پنے قائد سے وفاداری کا حلف اٹھانالازم تھا )نے ا پنے ظلم کی اےسی دھاک بٹھائی تھی کہ کراچی کے بے شمار صنعت کا روں نے وہاں سے اپنے بڑے بڑے کاروبار کو سمےٹ کر اپنا سرماےہ کرا چی سے نکال لےا تھاکےونکہ وہ بھا ری بھتہ دےنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔کرا چی شہر کے ما تھے پر اس فاشسٹ جماعت کے ہا تھوں شہےد ہونے والے بے شمار لوگوں مےں حکےم محمد سعےد شہےد اور صلاح الدےن شہےد کا خون نا حق اس لسانی اور بھتہ خورجماعت کے قا ئد کے ما تھے پرہمےشہ اےک کلنک کا ٹےکہ بن کرتا رےخ کے سےاہ اوراق میں محفوظ ہو چکاہے۔
نجانے کےوں ماہ نومبر1971کا ےہ واقعہ قلم کی نوک پر آگےاجب جنر ل ےحےیٰ خان ا پنے اقتدار کے آخری دنوں میں لاہور گورنر ہاؤس میںکسی کام کے سلسلے میں آئے تھے ۔جنرل عتےق الرحمان اس وقت گورنر تھے۔ گورنر ہاؤس کے باہر جنر ل ےحےیٰ خان کے خلا ف اےک بھر پور جلوس غصے مےں ہا ئے ہا ئے،اوئے اوئے اور دوسرے نعرے بلند آواز میں لگا رہے تھے ۔ ان نعروں کی آوازیں گورنر ہاؤس کی د ےوا ریں عبور کرکے سبزہ زار تک پہنچ رہی تھیں۔ جنر ل ےحےیٰ خان نے بڑے غصے سے پو چھا ”عتےق! ےہ کےا چا ہتے ہیں؟“جنرل عتےق جو حا لات سے بری طرح چڑ چکے تھے اور وقت کی نبض پر ان کا صحےح ہا تھ تھا،انہوں نے دا ئیں با ئیں دےکھ کر فو ری طو ر پر وہ تا رےخی فقرہ کہا جو جنر ل ےحےیٰ خان کے سا تھ ہمےشہ کےلئے چپک گےا ”سر ےہ لوگ آپ کا سر ما نگتے ہیں“۔ جنر ل ےحےیٰ خان اپنے ما تحت سے اےسے جواب کی ہر گز توقع نہیں رکھتے تھے۔ا نہوں نے جنرل عتےق الرحمان کو انتہا ئی گھور کر دےکھااور غصے سے با ہر جا نے لگے۔جنر ل ےحےیٰ خان جب دروازے کے پاس پہنچے تو جنرل عتےق الرحمان تےزی سے سا منے آئے ،اےک اورتا رےخی فقرہ کہا‘”جنرل صاحب ! میں تا رےخ کا کےڑا ہوں،میں نے تا رےخ میں پڑھا ہے آج تک کوئی آمر ا قتدار سے عزت اور توقےر سے رخصت نہیںہوا ،مےرا خےال ہے کہ آپ بھی عزت کے ساتھ نہیں جا ئیں گے لےکن اس کے با وجود مےری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنا اور ہمارا سر بچا ئیں،عزت کے ساتھ استعفیٰ دے دیں، ےہ ملک بھی بچ جا ئے گا اور ہم بھی“۔
تاریخ کے اس اصول سے مفرنہیں جو دنےا کے ہر آمر،ڈکٹےٹر،ظالم اور فرعون کو اس کے دور مےں ہو نے والے قتل،لوٹ مار،تشدد اور سےاسی اموات کا ذمہ دار ٹھہر اتے ہوئے ایک دن ضرورکٹہرے میں لاکھڑاکرتاہے اور کسی ظا لم کو بھا گنے کا با عزت را ستہ نہیں دےتا۔ےہی وہ کسوٹی ہے جو بتا تی ہے کہ اگر قتل کرنے والے ،ظلم کر نے والے ،تشدد روا رکھنے والے اور انسانی جا نوں سے کھےلنے والے کسی دور مےں سرفراز تھے،اعلیٰ عہدوں پریاسیاسی جماعتوں کوفرعونی اندازمیںچلاتے تھے ےا ہیں مگر ابھی تک کسی وجہ سے ان پر فرد جرم عا ئد نہےںکی گئی لےکن اےک دن ان کو اسی طرح عدالت کے کٹہرے مےںکھڑا ہو نا پڑے گاچا ہے ا ن کو سروں پر قصر سفےد کے فرعون کا ساےہ ہو،چا ہے ان کو وقت کے نمرود نے بھی اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہو ۔ےہ کےسے ممکن ہے کہ ہزاروں بے گناہوں کی لا شےں بند بوری مےں ڈال کر سر عام سڑکوں پر ڈال دی جا ئیں،نوجوان بے گناہ بچوں کے لا شے نا قابل شنا خت حالت میںان کے ورثاءکو اس تحرےر کے ساتھ ملیں کہ”جو قا ئد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے“۔جو پا رٹی کے فاشزم کے خلاف ز بان کھولے تو اس کے جسم میں ڈرل مشےن کے سا تھ سو راخ کر کے اس کی زبان ہمےشہ کےلئے خا موش کر دی جائے۔جرائم کاایسانامہ اعمال پڑھ کر آنکھےں پھٹی کی پھٹی رہ جا تی ہےں کہ ا نسان اس قدر وحشی اور ظا لم بھی ہو سکتا ہے۔
جو حکمران اپنے ذاتی اقتدارکے مفادکیلئے اس طرح کے مجرموںپر عدا لتیں نہیں بٹھاتیں،انصاف نہیںکر تیںوہاں تو ا بےن کی تحرےک کی صورت میں مختار ثقفی ضرور اٹھتا ہے اور تا رےخ کا وہ منظر کتنا خوفناک ہے کہ اسی دربار میں اےک روز چبوترے پر ابن زےاد کا سر عبرت کے طور پر لا کر رکھا جاتا ہے۔ ےہی اصول تھا جس کی کسو ٹی پر ےزےد بن معاوےہ ا پنی تقا رےر میں لا کھ صفا ئےاں دےنے کے با وجود سےد نا امام حسےن ؓ کے نا حق خون کا ذمہ دار ٹھہرا،کےونکہ قا تلین حسےنؓ اسی کے دور مےں دندناتے پھرتے رہے اور سب جا نتے ہیں کہ با لآخر ان سے امام حسےنؓ کا انتقام مختار ثقفی نے لےا تھا۔ اگرآپ اس انجام سے بچناچاہتے ہیں توکراچی سے برآمدہونے والے اسلحے کے ذمہ داروں کوکیفرکردارتک پہنچاناہوگا۔
رابطے کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Has the time come for in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply