مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی کو حکومت سازی سے روکنے کے لیے چالیں چلنا شروع کر دیں

اسلام آباد: نئی پارلیمنٹ کے قیام سے پہلے ہی حزب اختلاف کا عظیم اتحاد تشکیل ہونے کے امکانات اس وقت روشن ہو گئے جب چار گروپوں کے رہنماؤں نے 25جولائی کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر او باہر مشترکہ طور پر احتجاج کرنے پر اتفاق کر لیا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیئر لیڈروں کا اسلام آباد میں رخصت پذیر قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا جہاں ان سب نے اس پراتفاق کیا کہ وہ اپنے مخالفین کے لیے میدان کھلا اور ہموار نہیں چھوڑیں گے اور آئندہ حکومت بنانےوالی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ناطقہ بند کر دیںگے۔اگرچہ پی ٹی آئی انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن حکومت سازی کے لیے ضروری تعداد اسے حاصل نہیں ہو سکی ۔

سادہ اکثریت کے لیے 137اراکین ضروری ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے115سیٹیں ملی ہیں ۔ دوسری جانب پی ایم ایک این اور پی پی پی کی با لترتیب 64اور43سیٹیں ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے سربراہ و جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے، جو مولانا ڈیزل سے بھی معروف ہیں،تجویز رکھی ہے کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی کی مجموعی طاقت107اراکین کی ہے اور اگر اس میں ان کی جماعت ایم ایم اے کے 12اراکین بھی شامل کر کے ایک اتحاد تشکیل دیا جائے تو پی ٹی آئی کو حکومت سازی سے روکا جا سکتا ہے۔

کیونکہ ایسی صورت میں ان کی مشترکہ تعداد117ہو جائے گی جو پی ٹی آئی کی تعداد سے دو زائد ہو گی۔ لیکن مولانا فضل یہ بھول گئے کہ ان کے اتحاد میں ہی دراڑ پڑ چکی ہے اور انہی کی ایک حلیف پارٹی جماعت اسلامی حلف برداری کے معاملہ پر مولانا فضل کے فیصلے کی کھلی مخالفت کر چکی ہے اور واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ کسی حکمراں جماعت سے ٹکراو¿ نہیں چاہتی اور ایم ایم اے کے منتخب ممبران کو پارلیمنٹ میں ہی حلف لینا چاہیے ۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Grand opposition alliance taking shape in parliament in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply