مقتول طالبان سربراہ ملا منصور بیرونی دوروں کے لیے پاکستانی ہوائی اڈوں کا استعمال کرتے تھے

کوئٹہ:سنیچر کے روز امریکی ڈرون حملہ میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان سربراہ ملا اختر منصور ہمہ وقت سفر میں رہتے تھے اور گذشتہ 9سال کے دوران کم از کم دو بار بیرون ملک دورے کے لیے پاکستانی ہوائی اڈوں کا استعمال کیا ۔
جس وقت ان کی کار ڈرون حملہ کی زد میں آئی تو اس وقت وہ کوئٹہ سے تافتان جا رہے تھے۔اس حملہ میں وہ اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہوگئے تھے۔اس جلی کار کے قریب سے جو قومی شناختی کارڈ پایا گیا تھا وہ محمد ولی نام کے شخص کا تھا۔ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ملا منصور جعلی سفری دستاویز سے سفر کر رہے تھے۔ یہ قومی شناختی کارڈ 2002میں ولی کو کوئٹہ سے جاری کیا گیاتھا اور دس سال بعد اس کی میعاد ختم ہونے پر اس کی کراچی سے تجدید کرائی گئی تھی۔
ایک سینیئر افسر کے مطابق ولی آئے روز پاکستانی سرحدہ شہر تافتان کے راستے ایران اور کراچی کے راستے دوبئی آتے جاتے رہتے تھے۔ انہون نے12مارچ کو کراچی ہوائی اڈے سے دوبئی پرواز کر کے اپنے بیرون ملک دوروںکا آغاز کیا تھا۔وہ21مئی کو ایران سے تافتان واپس آئے تھے اور اسی روز دوپہر تین بجے نوسکی ضلع کے کوچکی علاقہ میں امریکی ڈرون حملہ میں مارے گئے۔

Title: frequent flyer mansour used pakistan airports | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply