مولانا فضل نے حزب اختلاف کے اعتراض کے بعد حکومت سے مذاکرات روک دیے

اسلام آباد: آزادی مارچ کے حوالے سے جمیعت علمائے اسلام فضل(جے یو آئی ایف) کی حکومت سے گفتگو کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے سخت اعتراض کے بعد روک دی گئی۔

اس ضمن میں جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی پارٹی کے وفد کو حکومتی نمائندے سینیٹ چیرمین صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ اب 31اکتوبر کے مجوزہ مارچ پر مذاکرات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کرے گی۔

رہبر کمیٹی کا اجلاس ،جس میں حزب اختلاف کی تمام اہم جماعتوں کی نمائندگی ہے، آج شام اسلام آباد میںجے یو آئی ایف کے رہنما اکرم خان درانی کیرہائش گاہ پر ہوگی جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تشکیل کردہ کمیٹی سے بات کی جائے یا نہیں۔

واضح ہوکہ مولٰنا فضل نے سنیچر کے روز پارٹی کے سکریٹری جنرل اور سنیٹر مولانا عبد الغفور حیدری کو سنیٹ چیرمین سنجرانی سے، جنہوں نے حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن کے طور پر ان سے ٹیلی فونی رابطہ کر کے ملاقات چاہی تھی، تبادلہ خیال کرنے کااختیار دے دیا تھا۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے مزید دو ارکان کی حزب اختلاف سے مذاکرات کی میز پر آنے کی ایک اور درخواست کے چند گھنٹے بعدمسٹر سنجرانی نے مولانا حیدری سے رابطہ قائم کیا۔ قبل ازیں مولانا فضل نے دو ٹوک لہجہ میں کہہ دیا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کے بعد ہی حکومت سے بات کریں گے۔

لیکن ان کے اس مطالبہ کو حکومتی مذاکراتی وفد کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Fazl calls off talks with govt after other parties objection in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.