پاکستانی فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے دہشت گرد کی پھانسی پشاور ہائی کورٹ نے روک دی

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے دہشت گردی کے ایک مجرم کی پھانسی پر حکم امتناعی جاری کر دیا۔عدالت نے وزارت دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملہ کی آئندہ سماعت پر معاملہ کا مکمل ریکارڈ پیش کریں۔

جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کی ایک دو ججی بنچ نے سوات کے کبال تحصیل کے رہائشی اسرار احمد کی داخل کردہ عذر داری پر سماعت کرتے ہوئے یہ روک لگائی۔

اسرار نے اپنی عذر داری میں کہا کہ ستمبر 2009میں فوجیوں نے کبال سے اس کے بیٹے حافظ نثار کو گرفتار کر لیا تھا 20جون2018تک گھر والے کوہاٹ جیل میں اس سے ملاقات کرتے رہے۔

لیکن بعد میں سوات ضلع پولس افسر نے انہیں بتایا کہ نثار کا نام مجرم قرار دیے گئے ان مجرموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جنہیں سزائے موت سنائی گئی ہے اور اس کے قانونی ورثاءکو مطلع کر دیا جانا چاہیے کہ وہ اس سے کوہاٹ جیل جا کر ملاقات کرلیں۔

مدعی نے فریاد کی وہ ایک قابل احترام کنبہ سے تعلق رکھتا ہے اور مجرم قرار دئیے گئے نوجوان یا اس کے گھر والوں کے خلاف کوئی خراب ریکارڈ نہیں ہے۔مدعی کی طرف سے پیش ہونے والے وکیلوں بشمول بیرسٹر میاں تجمل شاہ ، غلام نبی خان اور سردار احمد یوسف زئی نے دلیل دی کہ نثار کو سزائے موت غیر قانونی اور قانونی دائرے میں لائے بغیرکیا جانے والا عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکام کا ایک شرمناک فعل ہے اور اس میں آئین اور قانونی حکمرانی کا کوئی پاس نہیں رکھا گیا۔نثار کو صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور اس کے تمام بنیادی حقوق سلب کرکے سزا سنا دی گئی ۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Death sentence of military court convict halted in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply