طلوع آفتاب سے پہلے کی تاریکی

رحیم اللہ یوسف زئی

انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے سائے میں پاکستان کے نئے وزیر اعظم منتخب نے اپنے عزائم ظاہر کیے۔رحیم اللہ یوسف زئی نے عمران خان کی مجوزہ داخلہ و خارجہ پالیسیوں اور ان پر عمل آوری میں درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا ۔

کرکٹر سے سیاستداں بننے والے عمران خان اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 25جولائی کے عام انتخابات میں شاندار کامیابی سے ہمکنا رکر کے ملک کے وزیر اعظم بننے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ تقریباً تما م ہی سیاسی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی اور فریب دہی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو مسترد کر دیا اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔وفاقی دارالخلافہ اسلام آباد میں ایک کل جماعتی اجلاس کے بعد ایک بیان جاری کر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ میں ملک گیر پیمانے پر احتجاج کی کال دی۔لیکن عمران خان نے پہلے ہی فتح کا بگل بجا دیا اور اپنی تقریر میں اپنی حکومت کی داخلہ و خارجہ پایسیوں کا ذکر کیا۔عمران خان کے مشیر و پارٹی ساتھیوں نے عمران کے وسیع و عریض بنی گالہ بنگلے میں اجلاس کر کے حکومت کے خد و خال پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے لیڈروں نے وفاق اور صوبائی ریاستوں میں حکومت سازی کے امکانات تلاش کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این ) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو چھوڑ کرتما م چھوٹیبڑی سیاسی پارٹیوںکے اور آزاد ممبران اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔عمران خان نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ باری باری حکومت کر کے زبردست بدعنوانیوں میں ملوث موروثی حکمرانی کی حامی پی ایم ایل این اور پی پی پی جیسی پارٹیوں کے ساتھ ہر گز کوئی اتحاد نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی نے 272رکنی اسمبلی میںپی ٹی آئی نے 116سیٹیںجیت کر سب سے بڑی واحد پارٹی ہونے کااعزازحاصل کر لیا۔تاہم وہ معمولی اکثریت سے137سے21سیٹیں کم ہے۔ لیکن پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ وہ آزاد امیدواروں اور کچھ چھوٹی پارٹیوں کے قانون سازوں کو منانے میں کامیاب ہو جائے گی اور قومی اسمبلی میں اسے اتنے اراکین کی حما یت حاصل ہوجائے گی کہ وہ بغیر کسی دقت کے حکومت بنا سکے۔ پی ٹی آئی پنجاب، خیبر پختون خوا اور سندھ میں تو سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی لیکن آبادی کے لحاظ سے مختصر ترین اور رقبہ کے حساب سے طویل و عریض ترین بلوچستان میں وہ اپنا کھاتہ تک نہ کھول سکی۔

زبردست سیاسی سوجھ بوجھ کے حامل شریف خاندان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این)64سیٹیں جیت کر قومی اسمبلی میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)تےسرے نمبر پر ہے۔پی ایم ایل این نے زیادہ تر سیٹیں اپنے گڑھ اور کثیر آبادی والے صوبہ پنجاب میں، جہاں شریف خاندان گذشتہ دس سال سے برسر اقتدار تھا، جیتی ہیں۔اس وقت پی ایم ایل این کی قیادت پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر عظم نواز شریف کے برادر خورد شہباز شریف کر رہے ہیں۔اپنی املاک ظاہر نہ کرنے اور معلوم ذرائع سے زائد آمدنی رکھنے کے جرم میں نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن محمد صفدر جیل میں ہیں۔جہاں تک پی پی پی کا جسے1960میں مصلوب وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے1960 میں قائم کیا اورجس کی والد کی پھانسی کے بعد مقتول وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے دسمبر2007میں اپنے قتل والے دن تک قیادت کی،تعلق ہے تو اسے43سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔پی پی پی یک طویل عرصہ تک ملک پر حکمرانی کے بعدحالیہ برسوں میں کافی زوال ہوا ۔ اور وہ اتنی زوال پذیر ہے کہ اب سمٹ کر بھٹو اور زداری خاندان کے آبائی صوبہ سندھ تک ہی رہ گئی۔لیکن یہ بات دیگر ہے کہ پارٹی سندھ کو جیتنے میں کامیاب ہو گئی اور 2013سے2018تک بر سر اقتدار رہنے کے بعد آئندہ پانچ سال کے لیے اپنی حکومت ہی تشکیل دینے کی پوزیشن میں ہے۔
پانچ مذہبی و سیاسی پارٹیوں کے اتحاد ایم ایم اے 2013کے انتخابات سے پہلے ہی انتشار کا شکار ہوجانے کے بعد حالیہ انتخابات سے پہلے فعال ہو گئی لیکن بری طرح ہاری۔وہ بمشکل تمام 12سیٹیں جیتنے میں ہی کامیاب ہو سکی۔2013میں اس نے 9سیٹیں جیتی تھیں۔ 2002کے انتخابات کے مقابلہ میں اس بار وہ دور دور تک نظر نہیں آرہی جبکہ2002میں اس نے شاندار کامیابی حاصل کر کے خیبر پختون خوا اور بلوچستان میںحکومت بنا کر 5سال تک راج کیا تھا۔ایم ایم اے کی دو بڑی پارٹیوںجے یو آئی ایف اور جماعت اسلامی نے ہمیشہ ہی مغرب اور خاص طور پر امریکہ کے خلاف نہایت سخت موقف اختیار کیا اور حماس سے طالبان تک تمام اسلامی تحریکوں کی حمایت کی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم کیاکرتے ہیں؟آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ عمران خان 1996میں سیاست میں داخل ہوئے لیکن 2011تک کامیابی ان کے قریب بھی نہ پھٹکی۔لیکن اس کے بعد انہوں نے لاہور میں ایک بڑا جلسہ عام کیا اور عوام سے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا۔ نوجوان طبقہ جو کچھ توکرکٹ سے عمران خان کی وابستگی اور1992میں ورلڈ کپ جیتنے کے باعث پہلے ہی عمران خان کا گرویدہ تھا حالیہ انتخابی وعدوں کے باعث عمران خان کے کچھ اور قریب ہو گیا۔نوجوان لڑکے و لڑکیاں انسانیت کے لیے ان کے کام اور جدوجہد سے بہت متاثر تھے ۔اور جب انہوں نے اپنے آبائی وطن لاہور میں ایک کینسر اسپتال اور میان والی میں جو کہ ان کا اصل آبائی ضلع ہے ایک یونیورسٹی بنانے کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کیاتو ان کی نوجوان نسل میں قدر و منزلت اور بڑھ گئی۔

جیسا کہ خان نے انتخابات کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ انہوں نے22سال پہلے اپنی پارٹی تشکیل دے کر جدوجہد شروع کی تھی۔ اور انتخابات میںتسلسل سے شکست اور اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو مضبوط کرنے میں اپنی نااہلیت کے باوجود جدوجہد جاری رکھی ۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آخرکار انہیں ایک موقع ملا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔اور ملک کو اس انداز سے چلائیں جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں چلایا گیا۔65سالہ عمران خان اس بار ہر حال میں وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے لیے ان کے پاس یہ آخری موقع ہے کیونکہ2023کے عام انتخابات میں وہ70سال کے ہو جائیں گے۔اور اس وقت اگر انہیں وزارت عظمیٰ کا عہدہ ملاتو ان کے ناتواں کندھے ذمہ داریاں سنبھال نہیں سکیں گے۔عمران خان نے وقت ضائع کیے بغیر اپنی حکومت کی داخلی و خارجہ پایسیوں کا ذکر کر دیا۔ داخلی سطح پر انہوں نے غریبوں کی مدد کے منصوبوں،سب پر قانون کا یکساں نفاذ یقینی بنانے اور کرپشن سے پاک پاکستان بنانے کا عہد کیا ۔انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کی حکومت ہندوستان، افغانستان اور امیریکہ سے تعلقات میں بہتری لانا چاہتی ہے اور چین ۔ ایران اور سعودی عرب سے پہلے ہی سے مستحکم تعلقات کو اورزیادہ استحکام بخشنا چاہتی ہے۔انہوں نے ہندوستان سے کشمیر سمیت تمام معاملات طے کرنے اور تجارتی تعلقات میں اضافہ کے لیے مذاکرات کرنے پر زور دیا۔

نئے وزیر اعظم نے افغانستان میں قیام امن کی خاطر دونوں سابق اتحادیوں کے درمیان مساوات اور تعاون کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کی اپیل کی۔تاہم وہ اس وقت تک اپنے کسی خیال کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے جب تک کہ نئے سرے سے انتخابات کا مطالبہ کرنے والی متحدہ حزب اختلاف سے فہم و فراست سے معاملات طے نہ کر لیں۔حزب اختلاف ، جس کے یورپی یونین کی مانیٹرنگ ٹیم کی اس رپورٹ سے حوصلے اور بلند ہو گئے ہیںکہ انتخابی مہم میں مساوات اور مواقع کا فقدان تھا،انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر تبادلہ خیال کرنے کی عمران خان کی پیش کش پہلے ہی مستر د کر چکی ہے۔کچھ کا تو یہ خیال ہے کہ عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کی کامیابی کے پس پشت فوجی اور غیر فوجی اداروں کا ہاتھ اور دماغ کارفرما ہے۔

بہر حال حالات اور آثار و قرائن تو اسی امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ عمران خان کے لیے راہیں کٹھن ہیں ۔ ان کے لیے بڑا مشکل اور آزمائشی وقت آنے والا ہے ۔کیونکہ انہیں ایک ایسے ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی پڑ رہی ہے جو سیاسی طور پر غیر مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ شدید اقتصادی و سلامتی مسائل سے دوچار ہے۔

( رحیم اللہ یوسف زئی کا یہ مضمون لندن سے انگریزی میں شائع ہونے والے ایک ماہانہ موقر جریدے ’ایشئین افئیرز (ASIAN AFFAIRS)کے اگست2018 ایڈیشن میں شائع ہوچکا ہے۔رحیم اللہ یوسفزئی ایک پاکستانی صحافی ہیں اور افغانستان و پاکستان کے امور پر دسترس رکھتے ہیں۔ رحیم اللہ پہلے اور واحد رپورٹر ہیں جنہوں نے 1998میں افغانستان میں طالبا ن لیڈر ملا محمد عمر کا یک بار اور اوسامہ بن لادن کا دو بار انٹرویو لیا۔ رحیم اللہ کو ان کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کے اعتراف میں تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز سمیت کئی پر وقار ایوارڈز سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔)

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Darkness before th dawn in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply