مجرم قرار دیے گئے سیاستدانوں سے بات کرنے سے الیکٹرانک میڈیا کو روک دیا گیا؟

اسلام آباد: عمران خان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ابلاغی ذرائع کو حکم دے گی کہ وہ مجرم قرار دیے گئے یا جیل میں بند یا زیر سماعت قیدی سیاست دانوں سے بات نہ کرے ۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا کو ان سیاست دانوں کا جنہیں مجرم قرار دیا جا چکا ہے یا وہ زیر سماعت قیدی ہیں،نہ تو انٹرویو لے اور نہ ہی ان کے کسی بیان کو نشر کرے۔

کابینہ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( ّپیمرا)کو ہدیت کر دی ہے کہ وہ برقی ابلاغی ذرائع سے اس قسم کے پروگراموں کو نشر کرنے کے حوالے سے اپنے ضابطہ اخلاق کا نفاذ کرے اور اس قسم کی نشریات کی حوصلہ شکنی کی اپنی ذمہ داری نبھائے۔

احتساب جج ارشد ملک اور میاں محمد نواز شریف کے معتمد خاص ناصر بٹ کے درمیان مبینہ گفتگو کاویڈیو افشاہونے کے معاملہ پر کابینہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ ویڈیو چونکہ نواز شریف کی بیٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی اہم رہنما مریم نواز نے عام کی ہے اس لیے جج کے خلاف الزامات ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کی ہے جج یا عدلیہ کی نہیں۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے کابینی رفقاءنے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ جن لوگون نے ملک کی دولت لوٹی اور ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ان کی عظمت و توقیر نہیں کی جانی چاہیے۔

کوئی بھی جمہوریت ایسے لوگوں کےجو بدعنوانی کے مجرم قرار دیے جا چکے ہیں انٹرویو لینے یا انہیں میڈیا میں کوریج دینے کی اجازت نہیں دیتی۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Convicted politicians not to get media time decides govt in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.