پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل راضی نامہ جرم قرار دینے والا قانون بنایا جائے:سنیٹروں کا مطالبہ

اسلام آباد: سنیٹروں نے ملک میں خواتین کے خلاف تشد د کے اضافہ کااسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل راضی نامہ جرم قراردیا جائے۔
لاہور میں اپنی پسند سے شادی کرنے والی ایک18سالہ لڑکی زینت رفیق کو زندہ جلا دیے جانے کے لرزہ خیز سانحہ پر سنیٹ میں بحث کے دوران سنیٹروں نے کہا کہ ناموس کے نام پر ایسے قتل اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک کہ اس قسم کی ہلاکتوں کو ناقابل راضی نامہ جرم قرار دینے کے لیے قانون نہیں بن جاتا۔
واضح رہے کہ اس لڑکی کی ماں نے اسے بہانے سے گھر بلا کر اس کے اوپر پیٹرل چھڑک دیا تھا اور اسے زندہ جلادینے کے بعد سینہ کوبی کرتے ہوئے محلہ بھر میں چیختی پھری کہ اس نے خاندان اور برادری کی عزت اچھالنے والی اپنی بیٹی کو جان سے مار ڈالا۔
بحث کے بعد سنیٹ چیرمین نے واقعہ کی سخت مذمت کی اور ایوان کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو یہ معاملہ سونپتے ہوئے اس ضمن میں قانون بنانے کی تجویز پیش کرنے کہا۔ بحث کے دوران حزب اختلاف کے قائد اعتزاز احسان اور پی پی پی کے فرحت اللہ بابر نے سی آئی آئی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سی آئی آئی پر الزام لگایا کہ کہ وہ اپنی سفارشات و بیانات میں عورتوں کے تئیں ایسامعاندانہ رویہ رکھتے ہیں جس سے خواتین پر تشدد کرنا جائز سمجھا جاتا ہے
۔سی آئی آئی کے فی الحال سربراہ جمیعت علمائے اسلام فضل کے مولانا محمد خان شیرانی ہیں۔ جس وقت پی پی پی کے سنیٹر ز اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف اظہار خیال کر رہے تھے تو ایوان کے نائب چیرمین عبد الغفور حیدری سمیت جمیعت علمائے اسلام فضل گروپ کے اراکین نے صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cii blamed for rise in incidents of violence against women in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply