وہاں بچے توہوتے ہیں مگربچپن نہیں ہوتا،یہ ہے پاکستان کی تصویر

سمیع اللہ ملک، لندن
ہائے تشویش ہمیں تیرا خیال ہے ،جب دیکھو ہم تجھ میں مبتلا رہتے ہیں ۔تجھ سے محبت کرتے ہیں ، ہائے ہائے کا درد کرتے ہیں ۔ ہاں ہم اظہار یکجہتی بھی کرتے ہیں تصویر یں کھنچوا تے ہیں اور پھر اخبارات میں چھپواتے ہیں تا کہ سندر ہے کہ ہم تشویش کی بیماری میں یکجہتی بھی کرتے ہیں ۔یہ دیکھو تصویر ی ثبوت، ہم دن مناتے ہیں ماں کا دن ، باپ کادن ، محبوبہ کا دن، اور نجانے کتنے دن۔ چنددن پہلے ہم نے یوم اطفال منا یا ، بچوں کے حقوق پربڑی بھرپورتشویش کے ساتھ تقریرفرمائی اورسامعین کووقتی طورپرتشویش میں مبتلاکردیا۔ اخبارات نے جلی حروف میں خبریں بھی شائع کی ہیں ،چند دن پہلے ہم نے ایک خبر دیکھی،ٹی اورچینلز نے اپنے کیمروں کی آنکھ سے یہ منا ظر محفوظ کیے اور پھر چل سو چل ۔اب بھی غربت اور افلا س سے مجبور مائیںاپنے جگر گو شوں کو ایدھی سنٹر کے حوالے کر دیتی ہیں کہ بچوں کی بھوک اوربیماری ان سے برداشت نہیں ہوتی ۔ وہ ایدھی جو گزشتہ سات دہائیوں سے سماج سیوا میں لگے رہے اور ان بیماراورمفلس بچوں کو کھا نا کھلا نے کے لیے بھیک بھی ما نگتے رہے ۔دنیاسے رخصت ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں بھی عطیہ کرگئے اورآج دو پڑھے لکھے نوجوان جوایک بم دہماکے میں اپنی آنکھوں سے محروم ہوگئے تھے، اپنے گھروں کے اکلوتے کفیل تھے،ایک مرتبہ پھرایدھی کی آنکھوں نے ان کی تاریک دنیاروشن کردی۔ وہی بیکس ایدھی جوسڑکوں پرکھڑاسسکتی انسانیت کیلئے اپنی جھولی پھیلائے کھڑارہتاتھااورہرگزرنے والاغریب ریڑھی اوررکشے والابھی اپنی بساط کے مطابق پورے یقین کے ساتھ بخوشی اپناحصہ ڈال کرمطمئن ہوجاتاتھا۔اس کی رخصت کاجب وقت آیاتودنیانے دیکھاکہ ہماری فورسزکے تمام سربراہ باوردی اس کوسلیوٹ پیش کررہے تھے اورپہلی مرتبہ کسی عوامی فقیرکاجنازہ سرکاری توپ پررکھ کربڑی شان سے آخری آرام گاہ تک پہنچایاگیالیکن خیراتی کاموں پراپنی تشہیرکیلئے میڈیاکواستعمال کرنے والے بیشترسرکاری رہنماءایدھی کے جنازے سے بھی محروم رہے یایوں کہیں کہ میرے رب نے ان کواجازت ہی نہیں دی۔
اس سے پہلے ہم نے برداشت کادن منا یا تھا ۔ لیکن آخر کب تک برا دشت!! بس تبلیغ ہی تبلیغ ، لیکچر ہی لیکچر ، باتیں ہی باتیں‘سیمینا ر سجائیے،یہ شداد کی جنت پنج ستارہ ہو ٹل کس لیے ہیں،سجی ہوئی لمبی سی میز ،اس ترتیب سے رکھے ہوئے گلاس جن کے اندر سفید رومال ٹھنسا ہو تا ہے اور پھر منرل واٹر ۔ میز کے کناروں اور درمیان میں تازہ پھولوں کا ڈھیر،گہری سوچ میں ڈوبے ، تشویش زدہ دانش ور ۔ آسودہ حال ، سوشل اور ٹائم پاس سا معین،ٹشوپیپر ، کافی ، چائے ، پیسٹری اور کو کیز کے شوقین ۔ مستعد اور فرمانبر دار ویٹرز، اور ہر لمحے کو محفوظ کرنے والے کیمرے ،کیا خواب ناک ما حول؟ اور پھر سیمینا ر ختم اور پیسہ ہضم ۔ وہی ڈھاک کے تین پات ، چکنے گھڑے ۔ ہر ایک پندرونصائح کا ٹوکر اسر پر اٹھا ئے گھوم رہا ہے۔ باتیں لے لو باتیں کتنے کلو چاہئیں ! لوگ مہنگائی کورورہے ہیں ۔ وہ شکوہ کررہے ہیں ارزانی نہیں ہے ارے کتنی باتیں چاہئیں ، کتنے لیکچر چاہئیںباتیں اور ہاں وہ بھی بالکل مفت ۔ دو چار من تو میں خود بھی تھائے گھوم رہا ہوں ۔ باتوں سے مر عوب کرنے والے روح سے خالی جسم اور ویسی ہی باتیں بس بو لنا ہے ۔ بولتے رہنا ہے کر نا کرانا کچھ نہیں ۔
ہم سب اشتہارکے رسیا ہیں ،بس اشتہار چھپا تو دوڑ پڑتے ہیں ۔ پھر ہر ایک کے دل میںدرد بھر جاتا ہے تصویر کھنچوانی ہے ناں جناب ۔ پھر کوئی راشن لے کر پہنچ جا تا ہے کوئی نو کری دینے لگتا ہے ،سب حاتم طائی کی اولادبن جاتے ہیں ۔ ویسے سو شل ڈنر کر تے ہیں پارٹیاں منعقد کرتے ہیں جھو م برابر جھوم ، دو دو لاکھ کا عروسی جوڑا ، اور لاکھوں روپے کے زیورات ، دکھا وا ہی دکھاوا ۔ پوچھا جائے کہ لائے کہاں سے یہ دولت ؟ تو تیوری پر بل پڑتے ہیں ۔ حج پرحج،عمرے پر عمرہ ،جہاز بھر بھر کر لے کر جاتے ہیں کروڑوں روپے قومی خزانے کے اور ثواب کا ثواب ۔ ابھی دیکھانہیں آپ نے عید ِ قرباں پر ایک سے ایک بڑھ کرخبر آرہی تھی،الیکٹرانک میڈیابارباراپنے ناظرین کوقربانی کے جانوروں کے ساتھ ”سیلفیاں“ بنانے کی ترغیب دے رہے تھے کہ ہم اپنے چینلزپراس کی تشہیرکریں گے۔ الیکٹرانک کاسامان فروخت کرنے والوں کااشتہارچل رہاہے کہ قربانی کے گوشت کومحفوظ کرنے کیلئے ”ڈیپ فریزر “پرسیل لگادی ہے۔
اتنے لاکھ کا بکرا ، اتنے لاکھ کا بچھڑا ،ڈیڈی نے اتنے کر وڑ کے جانورقربان کردئیے لیکن قربانی کاگوشت اپنے ان ملنے والوں کوبھیجاجہاں سے واپس گوشت ملنے کی امیدتھی ۔قربانی کے گوشت کواپنے ڈیپ فریزروں کی زینت بنادیاکہ اگلاپورامہینہ اس کے ساتھ صحیح انصاف کیاجائے گا۔شام کواپنے رشتہ داراوردوستوں کوگھرپردعوت کیلئے بلاکراس کی ”سیلفیاں“دوبارہ ٹی وی چینلزپرچلائی جارہی تھیں ، کیا کسی نے کیایہ خبرلی کہ کہیں اس کے پڑوس میں عیدقرباں کے دن بھی کوئی بھوکایاپھرسے دال پکاکراپنے بچوں کواچھے وقت کی امیدکادلاسہ دیکراپنے زخمی دل کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھ رہاہے۔خاک بسر لوگ قربان ہورہے ہیں کسی کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، سب کچھ اپنے اللے تللوں اور نمائش کےلئے،ہم وہ نمائشی بھکاری ہیںجنہیں اپنے پڑوسی کی خبر نہیں ہے اور رورہا ہوں پورے ملک کو ۔ یہاں کماؤ حلال حرام کے چکر چھوڑو ۔ باہر کے بینکوں کے پیٹ بھر و۔ یہاں بھی عیش اور باہر بھی عیش ۔ رندکے رندرہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔ حج اور عمرہ کرکے پاک پو تر ہو جاؤ۔
تصویرِ شاہکاروہ لاکھوں میں بک گئی  جس میں بغیرروٹی کے بچہ اداس ہے
سب ڈھکو سلہ ، جعلی پن بکواس ڈھٹائی ، بے حسی اور بے غیرتی ، وہ جناب عیسیٰ نے با آواز بلند کہا : مارو ضرور مارو پتھر لیکن پہلا پتھر وہ مارے گا جو پوترہو۔ ہم تو خودترسی کے مریض ہیں خدا کے لیے ترس کھاؤ ہم پر ۔ زندگی کے نام پر بدترین موت ۔ کبھی دو پل نہیں سوچتے کہ کب تک ایسا ہو تا رہے گا کب تک بھیک ما نگیں گے! شرم وحیا کا لفظ ہی ہماری لغت سے غائب ہو گیا ہے، ہمیں بھیک چاہیے دیتے جاؤ ہمارے ساتھ جو چاہے کر لو ہاں جو چاہے کرو بہن لے لو ۔ ہماری بیٹی لے لو ۔ جو چاہو لے لو بس بھیک دے دو۔ لعنت ہے ایسے جینے پر ۔ کچھ نہیں بد لنے کا یہاں کچھ بھی نہیں ۔ ہم خو د کو نہیں بدلتے تو سما ج کیسے بدل جائے گا ! ہر ایک اپنا اُلو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ بس آج کا دن گزارنا ہے اس پیٹ کے دوزخ کو بھر نا ہے چاہے عزت بیچنی پڑے،گا لیاں سننی پڑیں بس پیٹ بھرنے کے لیے راتب دے دو۔ پھر سڑکوں پر آکر یہ جیوے وہ جیوے اورتبدیلی کے نعرے ، کب ہوش میں آئیں گے
وہی عشوہ گری ہے اور وہی رسمِ عزاداری  یہاں طرزِ طرب، نہ شیوئہ ماتم بدلتا ہے
کہیں پر کسی مظلوم پر ظلم ہو تا ہے اور ہم سب تما شا دیکھتے ہیں ۔ پچھلے ماہ ایک خبر چھپی،سر خی تھی قبضہ گروپ کی چنگیزی ، مڈل کی طالبہ کو بر ہنہ کرکے کھمبے سے باندھ کر سر عام تشدد ، اہل محلہ کی منتیں ، حوا کی بیٹی پر چادر ڈالی ۔ آپ کہتے ہیں کہ میں بہت سخت زبان استعما ل کر تا ہوں ۔ ایک معصوم بچی کو پورے محلے کے سامنے برہنہ کیا گیا اور پورا محلہ ان کی منتیں کر تارہا ۔ اسے بے غیر تی نہ کہوں تو کیا کہوں ! اگر وہ متحد ہو جاتے تو کس کے باپ میں اتنادم ہے کہ وہ کسی معصوم بچی کو برہنہ کر تا ۔ لیکن جناب بہت پیاری ہے ہمیں اپنی جان ، بے غیرتی کا شا ہکا ر زندگی ۔ مجرموں کی بعد میں اور ان اہل محلہ کی کھال پہلے کھینچنی چاہیے کہ تم میں سے کوئی ایک بھی غیرت مند نہیں تھا سب کے سب بے غیرتی کا مجسمہ ! میں کہوں گا کہ پھر ایسے بے غیرتوں کو جینے کا حق ہی نہیں ہے ۔
کتنی خبریں سناؤں ، بالکل صحیح کہتی تھی میری ماں : جو سو یا ہوا ہوا سے جگا یا جا سکتا ہے جو سونے کی ایکٹنگ کر رہا ہو اسے کسی کا باپ بھی نہیں اٹھا سکتا۔ مجھے یاد ہے کہ چندبرس پہلے ایدھی صاحب کو بچے دینے والی خواتین اپنے بچوں کو یہ کہہ کر واپس لے گئیں کہ وہ بچوں کو تعلیم کے لیے چھو ڑ گئی تھیں ۔ مگر ٹی وی چینلز پر انہیں دکھا کر ان کی عزت اور غربت کا مذاق اڑایا گیا ۔ اور جناب ستارا یدھی مرحوم انتہائی شرمندگی سے میڈیا میں معاملہ آنے پر معذرت کااظہارفرمارہے تھے ۔ آپ نہیں جان سکتے ناں اُس ماں کا دکھ ! ہم سب نے انہیں زندہ در گور کر دیا جیسے ہمیں تو ایک چٹخار ے دار خبر مل گئی دوسری خبر آنے تک اس سے مزے لیں گے اور دوسری خبرتواس سے بھی زیادہ تکلیف د دہ تھی کہ متعلقہ صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امورنے چائلڈ ایکٹ کے تحت ان والدین کے خلاف کا رروائی کرنے کاحکم دے دیاتھا جنہوں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچے ایدھی کے حوالے کیے،قانون کی حکمرانی زندہ باد ۔ اوہو یہ تو میں بھول گیا ، آج ماہ گیروں کا دن منارہے ہیں،جائیں ضرور جائیں ،میں بھلا کون ہوتا ہوں آپ کو روکنے والا،سیمینار ، سیمینار کھیلیں ، باتیں بیچیں ، باتیں کھائیں ، جو زف ہیلر کے افسانے ”آشوب شہر “ کا ایک جملہ یاد آگیا :”ہمارے گھر آنے والے غربیوں کو ہمارے انداز رہائش سے لطف اٹھا نے کی اجازت ہے “۔
پہلے کون رہا ہے یہاں ، جواب رہے گا۔کچھ بھی تو نہیں رہے گا‘ بس نام رہے گا میرے رب کا !
افلاس کی بستی میں ذراجاکرتودیکھو  وہاں بچے توہوتے ہیں مگربچپن نہیں ہوتا

رابطہ کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Children and childhood in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply