پاکستان میں توہین مذہب قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے:مہتمم جامعہ بنوریہ

کراچی:معروف درسگاہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ توہین مذہب کا الزام لگا کر کسی کو قتل کرنا شریعت اور قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پر تشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ عدالتوں کو مضبوط کر کے ملک سے انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا مختلف مکاتب فکر کے علماء کو آپس میں لڑانے سے پرہیز کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا مختلف پروگراموں کے ذریعے مختلف مکاتب فکر کے علماء میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں کچھ شدت پسند طلبانے مشعال نامی ایک طالب علم پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے بے دردی سے تشدد کر کے قتل کیا تھا۔ذرائع کے مطابق دو روز قبل عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں کچھ شدت پسند طلبانے مشعال نامی ایک 23سالہ طالب علم پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر ہلاک اور عبداللہ نام کے ایک دیگر کو شدید زخمی کر دیا تھا۔یہ واردات یونیورسٹی کی حدود میں ہی ہوئی تھی۔جس کے بعد یونیورسٹی کو تا اطلاع ثانی بند کر دیا گیا اور اس کے تمام ہاسٹل خالی کرالیے گئے تھے تاکہ تشدد نہ بھڑکے۔اس معاملہ میں کم از کم 45افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Blasphemy law is being misused in pakistan in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply