بے نظیر قتل مقدمہ حتمی مرحلہ میں داخل ، فیصلہ اب کسی بھی وقت متوقع

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمہ میں تمام68 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرز دلائل کی تکمیل سمیت تمام مراحل سے گذرنے کے بعد اب حتمی مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے۔ جس سے یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ عید الاضحیٰ سے قبل ہی اس مقدمے کا فیصلہ سامنے آجائے گا۔ جسٹس محمد اصغر خان کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے اسپیشل پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز نے نیشنل کرائسس منیجمنٹ سیل کے سابق ڈائریکٹر جنرل ریٹائرڈ بریگیڈیر جاوید اقبال چیما ،دسمبر2007کے دہشت گردانہ حملہ میں ہلاک ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں اور ریسکیو رضاکاروں اور پولس اہلکاروں کے بیانات پڑھ کر سنائے۔انہوں نے ایس ایس پی خرم شہزاد اور ڈی آئی جی پولس سعود عزیز کے خلاف حلفیہ بیان دینے والے ایس ایس پی اشفاق نور کا بھی بیان پڑھ کر سنایا۔
پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز نے بتایا کہ باکس سیکیورٹی کے ذمہ دار ایس پی اشفاق انور تھے جو بے نظیر کو صرف تیرہ منٹ میں فیض آباد سے لیاقت باغ لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ باکس سیکیورٹی سی پی او سعود عزیز نے دانستہ طور پر کچھ دیر کے لیے سیکیورٹی ہٹا کر حملہ آوروں کو آسان ٹارگٹ دیا اور پھر بعد میں جلد ہی تمام شواہد مٹانے کی خاطر جگہ کو دھو دیا گیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ جان بوجھ کر پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم کروانا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے جسے پورا نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر مصدق کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین مرتبہ سی پی او سے پوسٹ مارٹم کی اجازت مانگی لیکن انہوں نے منع کر دیا۔واضح رہے کہ سرکاری دلائل میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے جرم شواہد کے ساتھ ثابت کر دیا ہے لہذا مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Benazir murder case may conclude soon in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply