پاکستان میں لیڈریاڈیلر؟

سمیع اللہ ملک، لندن
یوں لگتاہے کہ پاکستان میں تمام مسائل ہوگئے ہیں،غریبی کانام ونشان باقی نہیںرہا،اب کوئی بھی مہنگائی کے ہاتھوں خودکشی کی واردات سننے یاپڑھنے کونہیں رہی، کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں اوراب بلا تخصیص علاج معالجہ کی سہولتیں بھی سب کودستیاب ہیں لیکن صرف ایک پانامالیکس کا مسئلہ باقی ہے ،جس کوحل کرنے کے بعداس ملک میں دودھ اورشہدکی نہریں بہناشروع ہوجائیں گی جس کیلئے تمام سیاسی جماعتیں شب وروزاپنی تونائیاں صرف کرکے عوام کے سامنے سرخروہونے کیلئے بے تاب ہیں۔جب سے پانامالیکس کاغلغلہ بلندہوا ہے ،ہماری سیاسی جماعتوں کواپنی سیاسی دوکان چمکانے کیلئے میڈیاکابھی مکمل تعاون حاصل ہے کہ میڈیاکوبھی اپنے چینل کوچلانے کیلئے ایک معقول بہانہ ہاتھ لگ گیاہے۔ وزیر اعظم نے بھی فوری طورپرقوم سے تین بارخطاب کرکے اپنی بے گناہی کااظہارکرتے ہوئے پہلے ایک ریٹائرڈجج کے سربراہی میں کمیشن قائم کیالیکن حزب اختلاف کے دباو¿ پربعد ازاں باقاعدہ ایک خط سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کوکمیشن مقررکرنے کی استدعاکی لیکن اس پربھی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی طرف سے ٹرمزآف ریفرنس پراعتراض کرتے ہوئے بالآخراپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ نے اپنے ٹرمزآف ریفرنس کے ساتھ وزیراعظم کوخط تحریرکردیاجس پرحکومتی وزاراءنے اپوزیشن کے اس خط کو“ٹرمزآف ریورنج“ قراردیتے ہوئے مستردکردیالیکن دوسری طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی بعض وجوہات کی بناءپرحکومت سے معذرت کرلی لیکن حیرت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس کواپنی فتح قراردے رہے ہیں۔ بالآخرپارلیمنٹ میں میدان سج گیا،ساری قوم نے یہ تماشہ دیکھا کہ سیاسی رہنماءکس طرح ایک دوسرے کے کپڑے تارتارکررہے ہیں لیکن کیااس ڈرامے کے بعدپاکستانی قوم کے حالات سنورنے کی کوئی امیدنظرآئی ہے؟ یہ ایک عام شکایت ہے کہ سیاستدانوں کا طرز زندگی ان کے منتخب کرنے والے عوام سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے لیکن کل کی بات ہے کہ دنیاکے ایک چھوٹے سے ملک یوراگوائے کے سابقہ صدرنے ایک ایسی مثال قائم کردی ہے کہ اگرہمارے حکمران اس سے کوئی سبق حاصل کرتے توآج ان کانام بھی بڑے فخرکے ساتھ دنیامیں لیاجاتااورپانامالیکس کرپشن کے سمندرکی غلاظت سے محفوظ رہتے۔
یوراگوائے میں ایسا نہیں ہے یہاں کے سابق صدر سے ملئے ،یہ یوراگوائے کے سابق صدر ہوزے موہیکا کی رہائش گاہ ہے جن کا طرز زندگی دنیا کے دوسرے زیادہ تر رہنماو¿ں سے یکسر مختلف ہے جوآج بھی ایک چھوٹے اور ٹوٹے پھوٹے گھر میں رہتے ہیں ۔اپنے دورِ صدارت میں اپنی تنخواہ کا زیادہ تر حصہ خیرات کر دیتے تھے۔ان کے کپڑے دھونے کی جگہ ان کے گھر کے باہر ہے۔ پانی وہ گھر کے قریب موجود کنویں سے حاصل کرتے ہیں جہاں جنگلی پھول اگے ہوئے ہیں۔ دوران صدارت صرف دو پولیس اہلکار اور تین کتے ان کے گھر کے باہر رکھوالی کے لیے تعینات تھے جبکہ آج انہوں نے یہ سہولت بھی حکومت کوواپس کردی ہے کہ اب ان کایہ استحقاق نہیںاورانہیں اس کی ضرورت بھی نہیں۔ صدر موہیکا نے دورانِ اقتدار یوراگوائے حکومت کی جانب سے مراعات سے بھرپور رہائش گاہ کو رد کر دیا اور دارالحکومت کی ایک سڑک کے کنارے اپنی بیوی کے گھر میں رہنا پسند کیا۔ وہ ان کی اہلیہ دوران ِ اقتداراورآج بھی خود کھیتوں میں کام کر کے پھول اگاتے ہیں۔
صدر موہیکا کا یہ طرزِ زندگی اور ان کی تنخواہ کا نوے فیصد حصہ جو بارہ ہزار امریکی ڈالر کے برابر تھا، غریبوں میں بانٹ دیتے تھے اوراسی عمل نے انہیں دنیا کے سب سے غریب صدر کااعزازبخشا۔اپنے باغیچے میں پڑی پرانی کرسی پر بیٹھے وہ کہتے ہیں، میں نے اپنی زیادہ تر زندگی ایسے ہی گزاری ہے۔ جو کچھ میرے پاس ہے میں اسی کے ساتھ اچھی طرح رہ سکتا ہوں۔ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ غریبوں اور چھوٹے تاجروں کی مدد کے لیے مختص ہونے کے بعد ان کی بقیہ تنخواہ ایک یوراگوائے کے ایک عام باشندے کے برابر رہ جاتی تھی جو775 ڈالر ماہانہ تھی ۔ یوراگوائے کے قانون کے مطابق جب انہوں نے2010میں اپنی سالانہ آمدنی ظاہر کی تو وہ ایک ہزار آٹھ سو ڈالر تھی۔ یہ رقم ان کی1987میں خریدی گئی گاڑی کی قیمت کے برابر تھی۔اقتدارسنبھالنے سے قبل انہوں نے اپنی اہلیہ کے اثاثے بھی ظاہر کیے جن میں زمین، ٹریکٹرز، اور ایک گھر شامل تھا اور ان سب کی قیمت دو لاکھ پندرہ ہزار ڈالر کے قریب تھی ۔ یہ رقم بھی ملک کے نائب صدر کی ظاہر کی گئی دولت کادسواں حصہ بنتی تھی۔
صدر موہیکا2009 میں یوراگوائے کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یوراگوائے کی بائیں بازوں کے مسلح گروپ گوریلا ٹوپامسروس کا حصہ رہے۔ انہیں چھ مرتبہ گولی لگی اور وہ چودہ سال جیل میں رہے۔ ان کی سزا کا زیادہ تر وقت سخت حالات اور تنہائی میں گزرا۔1985میں جمہوریت کی بحالی کے بعد انہیں رہائی ملی۔سابق صدر موہیکا کے مطابق قید کے انہی برسوں نے ان کی زندگی کی حالیہ شکل کو ترتیب دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے غریب ترین صدر کہا جاتا ہے لیکن مجھے تو غربت کاقطعی احساس نہیں ہوتا۔ غریب تو وہ ہوتے ہیں جو مہنگا طرز زندگی اپنانے کے لیے کام کرتے ہیں اور ہمیشہ مزید سے مزید کی خواہش کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ آزادی کا معاملہ ہے۔ اگر آپ کے پاس بہت زیادہ املاک نہیں ہیں تو آپ کو اپنی تمام عمر انہیں قائم رکھنے کے لیے کام نہیں کرنا پڑتا اور اس طرح آپ کے پاس اپنے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ میں ایک عجیب بوڑھا شحض لگتا ہوں لیکن یہ میرا آزادانہ انتخاب ہے۔یوراگوائے کے رہنما نے ایسی ہی باتیں ری او پلس ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس میں کہی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا ہم ساری سہ پہر قابلِ تائید ترقی کی باتیں کرتے رہے ہیں، عوام کو غربت سے نکالنے کی باتیںلیکن ہم کیا سوچ رہے ہیں؟ کیا ہم امیر ممالک کی ترقی اور کھپت کو اپنانا چاہتے ہیں؟
میں آپ سے پوچھتا ہوں اگر تمام بھارتی باشندوں کے پاس بھی اتنی ہی گاڑیاں ہوں جتنی جرمن باشندوں کے پاس ہیں تو اس سیارے کا کیا ہوگا؟ ہمارے پاس کتنی آکسیجن رہ جائے گی؟کیا اس سیارے پر اتنے وسائل ہیں کہ سات یا آٹھ ارب لوگوں کو یکساں کھپت اور اخراج ملے، جیسا کے اس وقت امیر معاشروں میں دیکھا جا سکتا ہے؟ یہ کھپت کی زیادتی ہی ہے جو اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔یوراگوائے کے محقق لگنیسو زوینسبر کا کہنا ہے کہ کئی لوگ صدر موہیکا سے ان کے اندازِ رہائش کے باعث ہمدردی کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے ان کی حکومت کی کارکردگی پر تنقید بند نہیں ہوئی۔2009میں انتخاب کے بعد صدر موہیکا کی شہرت میں پچاس فیصد کمی واقع ہوئی اوریوراگوائے کے صدر دو متنازعہ اقدامات کے باعث تنقید کا نشانہ بھی بنے۔یوراگوئے کی کانگرس نے ان کے دورِ اقتدارمیں ایک قانون بھی منظور کیا جس کے مطابق بارہ ہفتے کے حمل کو گرائے جانے کو قانونی قرار دیا گیا لیکن صدر موہیکا نے اس کے لیے ووٹ نہیں کیا تھا۔کیاہم اپنے ملک میں اس کاتصوربھی کرسکتے ہیں؟
انہوں نے قنب کی کھپت سے متعلق ایک قانونی بحث کی بھی حمایت کی جس کے مطابق قنب کی تجارت میں حکومت کو اجارہ داری حاصل ہوگی۔ ان کا کہنا تھاقنب کی کھپت زیادہ پریشان کن بات نہیں ، اصل مسئلہ منشیات کی تجارت ہے۔تاہم اپنی مقبولیت کی کمی کے باعث انہیں زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے2014 کے انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے سے انکارکردیاتھا۔ وہ 77سال کی عمر میں سیاست سے ریٹائر ہوگئے۔اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ریاست کی جانب سے جوپنشن مل رہی ہے ،اپنے محدودخرچ کے بعدانہیں کسی مشکل کاسامنانہیں اوروہ اب بھی اپنے کچھ غریب دوستوں کی خاموشی سے مددکررہے ہیں۔
سوال یہ پیداہوتاہے اپوزیشن سب کااحتساب ایک ساتھ شروع کرنے کے اعلان سے کیوں خوفزدہ ہے؟پانامالیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیشن کاقیام اپوزیشن کاہی متفقہ مطالبہ تھا،بالکل اسی طرح سب سے پہلے نوازشریف اوران کے اہل خانہ کااحتساب بھی اپوزیشن کامتفقہ مطالبہ ہے جس کے بعددوسروں کے خلاف تحقیقات کی جانی چاہئے۔اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کے ۲مئی کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کے مستعفی ہونے پرتواتفاق نہ ہوسکالیکن اگلے دن ایک متفقہ ٹرمزآف ریفرنس میں تین ماہ میںوزیراعظم اوران کے تمام خاندان کے احتساب اوراپوزیشن کے افرادکیلئے ایک سال کی مہلت کامطالبہ کیاگیاجوکہ یقیناعوام کوبھی ایک دھچکالگاکہ آخرملکی دولت کولوٹنے والوں کیلئے دوہرامعیارکیوں؟
کوئی اعتزازجیسے قانون دان سے یہ توپوچھے کہ اپنی پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے پاس اٹھارہ بلین کے اثاثے کیسے آئے ،سرے پیلس سے مکمل لاتعلقی اوربعدازاں برطانیہ کی عدالت میں اس کی فروخت کے موقع پراس کی ملکیت کادعویٰ،نیب کے مفرورواجدشمس الحسن کوبرطانیہ میں سفیرمقررکیاجس نے حق نمک ادا کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈسے زرداری کی کرپشن کاتمام ریکارڈحکومت کے نمائندے کے طورپرموصول کرکے غائب کردیا۔پانامالیکس کے بارے میں سب سے زیادہ احتجاج کرنے والے عمران خان اب خودبرطانیہ میں ایک آف شورکمپنی کی ملکیت کااعتراف اورزمان پارک میں اپنے آبائی وسیع وعریض گھررکھنے کے باوجود2اپریل1987 کو اسی نوازشریف سے اپنے ذاتی گھرکیلئے درخواست گزارہوکرپلاٹ حاصل کیا،اپنی ہی پارٹی کے افرادکی آف شورکمپنیوں پرشور مچانے کی بجائے ستائش کی۔کل کاناقدعمران خان آج ان سے تعاون کی کیوں بھیک مانگ رہاہے؟
یادرکھیں کہ دنیاکے بڑے لوگ اورلیڈر اس لئے ؑعظیم کہلائے کہ انہوں نے مواقع پانے کے باوجوددولت بنانے سے گریزکیااورذاتی مفادات کی بجائے عوامی مفادات کوترجیح دی اورغربت کی زندگی گزارکراپنی قوم کے مستقبل کوروشن کردیا۔آخرہمارے موجودہ حکمران اوراپوزیشن یوراگوئے کے سابق صدرسے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے کہ انہیں لیڈربنناہے یاڈیلر؟
اے مرے دیس کے لوگو!شکائت کیوں نہیں کرتے؟  تم اتنے ظلم سہہ کربھی بغاوت کیوں نہیں کرتے؟
یہ جاگیروں کے مالک اورلٹیرے کیوں چنے تم نے؟  تمہارے اوپرتم جیسے ہی،حکومت کیوں نہیں کرتے؟
یہ بھوک،افلاس تنگ دستی تمہاراہی مقدرکیوں؟   مقدرکوبدلنے کی جسارت کیوں نہیں کرتے ؟

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Are they leaders or dealrs in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply