جب تک طالبان و حقانی گروہ کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے دستیاب رہیں گے افغانستان میں کامیابی نہایت مشکل:امریکی فوجی سربراہ

واشنگٹن:یہ بات وثوق سے کہتے ہوئے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کے سرحدی علاقوں میں محفوط پناہ گاہیں دستیاب ہیں امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک اے میلی نے سینیٹ کو بتایا کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہے گا جنگ زدہ افغانستان میں بغاوت کچلنا نہایت مشکل ہے۔
انہوں نے قانون سازوں سے کہا کہ اگر بغاوت کسی دوسرے ملک میں پنپ رہی اوروہاں اس کی نشوونما کی جارہی ہو تو کسی بھی بغاوت کو کچلنا بہت بہت مشکل کام ہے۔
لیکن فی الحال طالبان اور ھقانی اور دیگر تنظیمیں سرحد پر پاکستان کے علاقہ میںمحفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔پاکستان بھی اس مسئلہ کے حل کا ایک جزو بن گیا ہے۔
سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے انہوںنے مزید کہا کہ حکومت افغانستان صحیح سمت میں پیش رفت کرتے ہوئے کئی مخالف گروپوں کے ساتھ سیاسی مصالحت کی مساعی کرر ہی ہے ۔اور امریکہ ان کوششوں میں افغانستان کے ساتھ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان مین فوجیں رکھان امریکہ کے قومی سلامتی مفاد میں ہے۔یہ بہت اہم بات ہے اور امریکی فوجیں اسی لیے وہاں ہیں ۔ کیونکہ 2001کے بعد سے امریکہ کے مقاصدمیں سے ایک یہ بھی ہے کہ براعظم امریکہ پر حملوں کے لیے افغانستان اب دہشت گرووں کا مسکن نہ بن سکے۔

Title: taliban haqqani network enjoy safe havens in border regions of pakistan says pentagon | In Category: خبریں  ( news )

Leave a Reply