کشمیری قیادت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے؟

الطاف حسین ندوی
عرصہ درازسے کشمیری قیادت یک طرفہ نشانہ بنائی جا رہی ہے اورتاثریہ دیاجارہا ہے کہ تمام تربرائیوں کی جڑآزادی پسند قیادت ہے۔”عقلِ عام”حیران ہے کہ آخران چند اصحاب سے ایسی کیاخطا سرزدہوئی کہ ہرایراغیراجی بھرکرحریت قیادت کوہی کوستارہتا ہے گویا نہ پاکستان اورنہ ہی ہندوستان،نہ ہی مغربی طاقتیں اورنہ ہی امریکہ اورنہ ہی روس اورنہ ہی چین”مسئلہ کشمیرکے کینسر ” کے ذمہ دارہیں۔ہرحکومت بری الذمہ ہے اورہرملت بے خطا، اگرکوئی قصور ہے توصرف حریت قیادت کا!جنہوں نے گویامسئلہ کشمیرکو جنم دیکر برصغیرکومیدانِ جنگ بنادیاہے؟تنقید سے انکارتونہیں مگراس کی بھی حدود ہیں۔آج کل ”بے لگام سوشل میڈیا” پربرصغیرہندوپاک کے سرگرم شرکائ جب بھی کشمیر کی بات کرتے ہیں تودوچارحروف کے بعدتنقیدپھرتنقیص اورپھر تحقیرکا ر±خ حریت پسند قیادت کی جانب مڑتاہے جس میں بسااوقات جھوٹی شناخت رکھنے والے ”پروپیگنڈہ باز”جان بوجھ کر یہ کھیل کھیلتے ہیں اورکبھی کبھاراس میں مخلص لوگ بھی شامل ہوکرزورآزمائی کرنے لگتے ہیں۔دلی والوں کی حریت قیادت سے عداوت کوئی نئی بات ہے نہ ہی تحقیق طلب مسئلہ۔مگر حیرت توپاکستان کے بعض عناصر پرہورہی ہے جو دلی کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر حل نہ ہو نے کی ایک وجہ حریت لیڈران کو بھی قرار دیتے ہیں۔معاملہ سنگین تب بن جاتا ہے جب پاکستان میں مقیم ”حریت چیپٹراور جہادی قیادت”کو کوس کوس کے جہاد باللسان کے تمام ترحربے استعمال میں لائے جاتے ہیں اوریہ تاثرتب اوربھی گہراہوجاتاہے جب ہندوستانی زیرانتظام کشمیر سے بعض قلمکار،صحافی،ادبائ،وکلاء اورلیڈران پاکستان یاتراکے بعداس طرح کے سیاسی تبصرے جھاڑتے ہیں۔پاکستان میں مقیم کشمیری جہادی اورعسکری حضرات نہ”معصوم”ہیں اورنہ ہی فرشتے،غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں اورہو رہی ہیں۔غلطیاں چھوٹی بھی ہوتی ہیں بڑی بھی اوربسااوقات ایک غلطی ”لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی”کے مصداق نسلوں کے لئے برباد ی کاباعث بن جاتی ہے۔ان غلطیوں پرکچھ لکھنے کے لئے کالم کافی نہیں ہوسکتاہےمگر سوال پیداہوتا ہے کہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں مقیم جہادی اورسیاسی قیادت کیا”اتنی آزاد”ہے کہ وہ جوچاہے کریں اورجوچاہے کہیں؟جو لوگ پاکستان کی ریاست کے اصولوں سے واقف نہیں ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ شایدسیدصلاح الدین احمد اوردیگرکمانڈران اورلیڈران”ریاست درریاست چلانے” کے اختیارات رکھتے ہیں۔حماقتوں اورنادانیوں کی بھی حد ہوتی ہےاوران پر اصرار اس سب سے بڑی حماقت قرار دی جا سکتی ہے۔پاکستان ہجرت کرکے جانے والے عسکری وسیاسی لوگ پاکستان میں سانس بھی تبھی لے سکتے ہیں جب حکومت پاکستان اوران کی ماتحت ایجنسیوں کی بھی ایسی ہی خواہش ہو،نہیں تو ایک لمحہ انتظار کئے بغیر”افغان طالبان ”اور القائدہ کی طرح اٹھا کے جیلوں میں ٹھونس دیاجا ئے گا۔پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی،عسکری اورمالی معاونت ضرورکرتاہے مگروہ یہ سب صرف اس لئے کرتاہے کہ فی الحال اس سے اس کونقصان نہیں پہنچ رہاہے اوراگر پہنچ بھی رہاہے تواس کو کشمیرکولیکرچلناایک مجبوری بنی ہوئی ہے۔پاکستان اپنی ایک خاص نہج پرتحریک کشمیرکوچلانے کاخواہش مندہے لہذاجب بھی اس کو اس بات کااحساس ہوجاتاہے کہ کشمیری ہمارے مفادات کاخیال رکھے بغیراونچی اڑان بھرنے کی سوچتے ہیں تو وہ شہید محمد مقبول بٹ جیسے عظیم رہنما کو انٹیروگیشن سینٹرپہنچا کرتشددکانشانہ بناتے ہیں۔آج بھی بہت سارے کشمیری کئی معلوم اورکئی نامعلوم وجوہات کی بنائ پرپاکستانی اذیت خانوں میں گھٹ گھٹ کر جینے پرمجبورہیں۔یہاں ان کے رشتہ داراوروالدین یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میرا لعل جہادکشمیرکے کسی محاذ میں مصروف ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس انتہائی افسوس ناک ہے۔پاکستان اسلام کے نام پروجودمیں لایاگیا ایک ایساملک ہے جہاں ابھی بھی یہ رسہ کشی جاری ہے کہ ملک ایک ”اسلامی ریاست ”ہے کہ” مسلم ریاست”؟۔پھر ریاست کا سب سے طاقتور ادارہ فوج ہے جس کے بڑوں نے”تحریک طالبان” کے پس منظر میں اپنی ڈاکٹرین تبدیل کر کے بیرونی خطرات کے برعکس اندرونی انتہا پسندی کے خطرات کو ”گرین بک”میں نمایاں جگہ دیدی۔پاکستانی جمہوری گھوڑے پرسوارسیکولراورلبرل حضرات کے برعکس کسی بھی الیکشن میں سوائے”مشرف دورکے الیکشنز”کے”اسلام پسندوں”نے کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی ہے اوروہ کامیابی مشرف کے طفیل تب ملی جب انتخابات میں ”مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی”کے لئے راہیں تنگ کردی گئیں۔طالبان نفاذ اسلام کے نام پربندوق لیکر سامنے آئے مگرانھوں نے اپنی حماقتوں سے ”اسلام ”کا وہ حشر کیا کہ رہتی دنیا تک ایک مثال قائم کردی۔اب صورتحال یہ ہے کہ طالبان یا توقتل ہورہے ہیں یاافغانستان فرارہو کروہیں مقیم ہیں۔پاکستان نے روسی جارحیت میں افغانوں کی بھرپورمددکی مگرجب روس شکست فاش کے بعدافغانستان سے دم دباکر بھاگ نکلا اورپورے افغانستان پرسوائے کابل کے مجاہدین کوکنٹرول حاصل ہواتو مجاہدین کی خانہ جنگی میں چھوڑکرجس طرح امریکانے تماشائی کا رول اداکیا پاکستان کی غفلت بھی کچھ کم نہیں تھی۔پھر ان مجاہدین کی غلطیوں پر کڑامحاسبہ کرنے کامن بنانے والا پاکستان”طالبان کی پشت پناہ”بن گیااورنتیجہ یہ نکلا کہ مجاہدین دربدرہوگئے اورطالبان نے پورے ملک پر کنٹرول سنبھالا۔ نائن الیون کے بعدمعاملہ اسی طالبان کے خلاف پھربگڑاجب امریکا نے افغانستان میں مقیم اسامہ بن لادن پرورلڈ ٹریڈ سینٹرپر حملے کاالزام تھوپ دیا۔ پاکستان اپنے” کل کے ہیروزاورمجاہدین” کواب چن چن کے اسی امریکا کے حوالے کرنے لگا جن کی وہ تقدیس بیان کیاکرتاتھا۔امریکی اداروں کی واشگاف شدہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی ایجنسیوں کو”دہشت گردی کے نام پر”اس دھندے کی ایسی لت لگی کہ مجاہدین اورطالبان کی حوالگی کے بعد جب قحط الرجال پڑاتواپنے ملک کے بے گناہ اسلام پسندوں کوڈالر وں کے عوض بیچنے لگایہاں تک کہ بیچتے بیچتے مشرف اینڈ کمپنی نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کوبھی امریکا کے حوالے کردیا اورآج اس بے چاری کاکوئی پرسان حال نہیں ہے۔اس پاکستان کی ریاست کاایک اور واقعہ بھی کشمیریوں کوذہن میں ہردم تازہ رکھنا چاہیے کہ کشمیریوں سے بہت پہلے پنجاب کے سکھوں کے ساتھ بھی طالبان سے بھی بدتر سلوک”بے نظیر بھٹو”نے اپنے دورحکومت میں کیااوراس نے کسی لگی لپٹی کے بغیرپوری دنیا کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سکھوں کے خلاف بھارت کی مدد کی اورپھر ہم نے بچشمِ خوداپنی ہمسایہ ریاست میں سکھ نوجوانوں اوران کی بہوبیٹیوں کاحال بھی دیکھا کہ پوری دنیا میں ان کی مظلومیت پرکوئی رونے والی آنکھ باقی نہیں تھی۔سیدابوالاعلیٰ مودودی کی پھانسی کی سزاکوکون کیسے بھول سکتاہے؟لہذا پاکستان کی ریاست کی اس تاریخ جس میں اوربھی انسانی المیے دفن ہیں کے حوالے سے کسی کشمیری کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے کہ شاید”پاکستان میں مقیم عسکری اورسیاسی قیادت”وہاں کے حکمرانوں،جرنیلوں اوربیوروکریسی کے ہم پلہ کوئی شے ہے۔ وہ پاکستان ہجرت کر کے گئے ہوئے مہاجرین ہیں جنہیں وطن کی ابترصورتحال کے حوالے سے ایک محدوددائرے میں کام کرنے کی اجازت ضرورہے۔سچائی یہ ہے کہ سید صلاح الدین احمد کسی گلبدین حکمت یار سے زیادہ اہم نہیں ہے اور نہ ہی غلام محمد صفی کسی ملاضعیف سے زیادہ بڑی شخصیت ہے۔کشمیریوں کو خوش فہمیوں میں مبتلارہنے کی عادت سے بازآجانا چاہیے اور یہ جان لینا چاہیے کہ ہر ریاست کی پہلی ترجیح اپنی ریاست ہوتی ہے ۔لے دے کے پاکستان میں مقیم کشمیری قیادت وہاں آنے جانے والوں کے ذریعے بارباریہ پیغامات بھیجتی ہے کہ کشمیر میں”مقامی خود کفالتی تحریک”کا آغازکیا جائے۔”یہ بہت تاخیر کے بعدبھیجاگیاحقائق اورسچائی پرمبنی درست پیغام ہے ”۔ پاکستان میں مقیم لیڈرشپ کوبہت تاخیر کے بعدہی اگرحالات کا درست ادراک ہواہے تواس پران سے یاپاکستان سے ناراض ہونے کی بجائے”اشتعال اورجذبات سے اوپراٹھ کر”قبول کرتے ہو ئے صحیح اقدامات اٹھائے جانے چاہئے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس دردوکرب سے شہید مقبول بٹ کو بہت پہلے گزرنا پڑا تھا،کوذہن میں رکھتے ہو ئے اگر ہم نے افسانوی قصہ کہانیوں سے اوپر اٹھ کر پاکستان کو”اسلام کا قلعہ یا مجاہدین عالم کی پناہ گاہ” کی بجائے ایک ہمدرد مسلم ریاست کے طورپرقبول کیاہوتااورپھراس کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بے حوصلہ حکمرانوں کی ذہنیت،تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے عالمی حالات،امریکی چودھراہٹ اورپاکستان کی اپنی بعض کمزوریوں کے سبب اس عالمی بدمعاش کے شاطرانہ رویہ کے سامنے بے بسی،بھارت کی پاکستان کی ہرکمزوری کافائدہ اٹھانے کی تاک میں رہنا،عالم عرب کاعیاشی میں غرق ہوکر اپنے وسائل کاغلط استعمال اورعالم اسلام کا ”بے ر±خ”رہ کر بے توقیر ہوجانے جیسے ناقابل تصورجرم کوقبول کرنااورپھر سہہ لیناجیسے مہلک ”ملی امراض” کو مد نظر رکھاہوتا تو آج تین دہائیاں گذر جانے کے بعد ہمیں اس نئی مصیبت سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔ممکن ہے کوئی ان سطور پرپہنچتے پہنچتے یہ سمجھ لے کہ سرحدپارکایہ پیغام مصیبت کیو ں اورکیسے ہے؟توجہ فرمایئے کہ پورے چھبیس برس یعنی تین دہائیاں بعد ایک قیادت جس کوہرچھوٹے بڑے مسئلے میں پاکستان کے تعاون لینے کی عادت کم لت زیادہ لگی ہے، کوآپ اپنے بل بوتے پرتحریک چلانے کی صلاح دیدیں تومیرانہیں خیال کہ یہ لوگ اتنے بڑے بوجھ کوکسی بھی طورپرسہہ لیں گے۔تین دہائیوں سے تحریک چلانے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ ایک شہید کے گھرکواتنی مالی معاونت نہیں کرپاتے ہیں کہ وہ اپنے پاو¿ں پرکھڑے ہوکر خوشگوارزندگی گذارسکیں۔زیادہ سے زیادہ یہ لوگ پانچ سے لیکر دس ہزارروپیہ تک اس کے ہاتھ میں دے کرحاتم طائی ہونے کادعویٰ کرسکتے ہیں۔قیدیوں،لاپتہ افراداوریتیموں کی کہانی اس سب سے الگ بہت ہی دردناک چلینج ہے۔ہماری قیادت کو ”پاکستانی پیسے اورامداد”پرجوبدنامی مقدر ٹھہری،میں نہیں سمجھتا کہ دنیا کی کسی تحریک کی لیڈر شپ کے حصے میں اسے زیادہ بدنامی ہاتھ آئی ہو گی۔اب تین دہائیاں بعد ان لوگوں کے لئے مقامی خود کفیل تحریک پرسوچنابھی دشوارہوگامگرسچائی یہی ہے کہ سرحد پارکے اس پیغام کوسمجھ لیناچاہیے۔اس کا ہرگزمطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان کشمیریوں سے بے تعلق ہوجائے گا،کبھی نہیں اس لئے کہ آزاد کشمیرنامی خطہ کشمیرمیں رہنے والے ہمارے بھائی صرف اور صرف کشمیری ہیں وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں، جب تک” آزاد “کشمیرپاکستان کے پاس اورجموں وکشمیراورلداخ ہندوستان کے پاس ہے یہ دونوں ممالک کشمیریوں سے پنڈچھڑانے کی کوششوں کے باوجودبھی پنڈنہیں چھڑانہیں سکتے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں کشمیرکے لوگ ایک دوسرے کو سچے دل اورخلوص نیت کے ساتھ قبول کرتے ہوئے ممکنات اورناممکنات میں فرق کرتے ہوئے کشمیر کے ناسورکوحل کرنے کی سنجیدہ کوششوں کاباضابط آغازکرنے کے لئے اپنے بل بوتے پرتحریک چلانے کی راہوں پرغورکریں ایسا نہ ہواورخدا نہ کرے کہ کل پاکستان پرکوئی نئی ا±فتاد ٹوٹ پڑے او وہ مکمل لاتعلق ہوکرکشمیریوں کے بوجھ میں اضافے کاباعث بنے۔ابھی وقت ہے حالانکہ کافی دیر ہوچکی ہے ایسا نہ ہو کہ کل کی دیرنئی اور بڑی مہلک مصیبت ثابت ہوجائے۔

نوٹ:کالم نگار جموں و کشمیرکے مشہورعالم دین،دانشوراورکئی کتابوں کے مصنف ہیں،کشمیرمیں جاری تحریک آزادی کے کئی سربستہ رازوں کے نہ صرف امین ہیں بلکہ انتہائی راست گوئی اوردلسوزی کے ساتھ بغیرکسی لپٹی کے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنامافی الضمیربیان کرتے ہیں۔ارباب اقتدار کواختلاف کی بجائے ایمانداری کے ساتھ اپنامحاسبہ کرکے ماضی کی غلطیوں کے تدارک کیلئے فوری ان اقدامات کی طرف بڑھناہوگاجس کی طرف مصنف نے توجہ دلائی ہے۔
رابطے کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Who is responsible for kashmir conflict in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply