شیخ العالمؒ نورالدین نورانی کے 598 واں سالانہ عرس مبارک میں شرکت کرنے والوں میں کشمیری پنڈت بھی شامل

سری نگر: (یو ا ین آئی) وادی کشمیر میں منگل کے روز بلند پایہ ولی کامل، جلیل القدر ریشی و صوفی بزرگ حضرت شیخ العالم نورالدین نورانی ؒ کا 598 واں سالانہ عرس نہایت ہی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں مساجد، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں شب خوانی، درودواذکار، کلام شیخ العالمؒ اور ختمات المعظمات کی روح پرور مجالس منعقد کی گئیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمندوں نے شرکت کی۔ علماءکرام اور ایمہ مساجد نے حضرت شیخ العالمؒ کی سیرت، روحانی کمالات اور خاص طور پر شیخ العالمؒ کے کلام کی عصر حاضر میں معنویت اور افایت پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔
عرس کے موقع پروادی بھر میں عام تعطیل تھی۔ عرس مبارک کے سلسلے میں سب سے بڑی تقریب وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چرار شریف میں واقع شیخ العالمؒکے آستان عالیہ پر منعقد ہوئی جہاں درود واذکار، ختمات المعظمات، کلام شیخ العالمؒ اور نعت خوانی کی بابرکت مجلس رات بھر جاری رہی جبکہ دن بھر جاری رہنے والی مجلس میں کم از کم پچاس ہزارعقیدتمندوں نے شرکت کی۔ .حضرت شیخ العالم نوردین نورانیؒ جنہیں علمدار کشمیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے چھ صدی قبل قرآن اور حدیث کی تعلیم کو کشمیری زبان میں پیش کیا۔ چھ صدیاں گذرجانے کے باوجود ان کے کلام کو روحانی محفلوں، مسجدوں اور اسکولوں میں بڑی عقیدت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور خاص طور پر واعظین و مبلغین پورے جوش وعقیدت کے ساتھ وعظ و تبلیغ میں پڑھتے ہیں۔
شیخ العالمؒ کے سالانہ عرس کے دوران نہ صرف مسلم عقیدتمند ان کے آستان عالیہ پرحاضری دیتے ہیں بلکہ کشمیری پنڈت برادری بھی ان کے آستان عالیہ پر حاضری دے کے شیخ العالمؒ کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتی ہے۔ حسب روایت آج بھی ریاست کے اطراف واکناف اور بیرون ریاست مقیم کشمیری پنڈتوں نے عرس مبارک کے موقع پر آستان عالیہ پر حاضری دی۔ چرار شریف سے تعلق رکھنے والے ایک عقیدت مند نے یو این آئی کو بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کے علاوہ فوجی اہلکاروں نے بھی آستان عالیہ پر حاضری دی۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ کشمیری پنڈت برادری شیخ العالمؒ کو نندریشی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ کمل جیت نامی ایک کشمیری پنڈت کا کہنا ہے ’ہم شیخ العالمؒ جنہیں کشمیری پنڈت نند ریشی کے نام سے یاد کرتے ہیں ، کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔
شیخ العالم نے آپسی بھائی چارے اور یکجہتی کا پیغام عام کیا تھا‘۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کشمیری پنڈت وادی میں نامساعد حالات کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے شیخ العالمؒ کے عرس کے موقع پر یہاں (چرار شریف) آکر اس بلند پایہ ولی کامل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’گذشتہ رات تین ٹمپو (10 سیٹوں والی گاڑی) میں سوار 21 کشمیری پنڈت جموں سے یہاں آپہنچے اور خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد صبح آٹھ بجے واپس سری نگر کی طرف روانہ ہوئے‘۔ تاہم چرار شریف آنے والے پنڈت عقیدتمندوں نے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے مقامی مسلم عقیدتمندوں کو بتایا ہے ’2014 اور 2015 میں بخشی نگر جموں میں گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا، لیکن امسال ایسا کوئی انتظام نہیں تھا جس کے نتیجے ہمیں چرار شریف پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ موجودہ دور میں حضرت شیخ العالم ؒکی تعلیمات انسانیت کے لئے ایک مشعلِ راہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے صوبائی اور ضلع انتظامیوں کو شیخ العالم کی چرارِ شریف میں واقع زیارت گاہ آنے والے عقیدت مندوں کے لئے معقول انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بلند پایہ اولیا، ولی کامل جیل القدر ریشی اور صوفی بزرگ حضرت شیخ العالم نوردین نورانیؒ کے عرس مبارک پر ریاستی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس ولی کامل اور عظیم المرتبت اولیاءنے قرآن اور حدیث کی تعلیم کو اپنی مادری زبان کشمیری میں پیش کرکے ہمیں دین اسلام کی نعمت اور عظمت سے فیضیاب کیا۔ حضرت علمدار کشمیر کی ذات اور درگاہ صدیوں سے ہماری ملی تہذیب وتمدن کا گہوارہ رہی ہے اور ہمیشہ اِس بابرکت اور تاریخی زیارت گاہ پر عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ یہ زیارت گاہ ہمارے دلوں کے لئے سکون اور ہمارا ملی ورثہ ہیں۔ انہوں نے کہا ،کہ حضرت نندہ ریشی کی تعلیم، عبادت، تقوا، کلام ، روحانی کمالات ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
عرس کی تقریب پر کارگذار صدر عمر عبداللہ نے بھی عقیدت مندوں کو عرس مبارک پر مبارکباد دپیش کیا ہے۔ درایں اثنا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر عبدالرحیم راتھر نے بھی عقیدت مندوں کو عرس مبارک پر مبارکباد دی ہے۔ حج اور اوقاف کے وزیر مملکت سید فاروق احمد اندرابی نے بھی ریاستی عوام کو حضرت شیخ نور الدین ولی (رح) کے سالانہ عرس کے موقعہ پر مبارکباد دی ہے۔ اپنے پیغام میں وزیر موصوف نے کہا کہ دورِ جدید کے مشکلات سے چھٹکارہ پانے کے لئے شیخ العالم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیر نے کہا کہ حضرت نور الدین ولی نے اپنی اسلامی تعلیمات اور صوفی اقدار کی بدولت ریاست بالخصوص وادی میں خوشحالی ، استحکام اور آپسی روا داری کے جذبے کو عام کیا۔ فاروق اندرابی نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ چرارِ شریف میں ایامِ عرس کے دوران غذائی اجناس کی دستیابی کے ساتھ ساتھ بلا خلل بجلی اور پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیں۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Urs of sheikh noor ud din noorani ra in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply