کل ہند اردو کتاب میلہ:اردو میں تمام علوم وفنون کے خزانے موجود :ڈاکٹر فاروق عبد اللہ

سری نگر:(پریس ریلیز)کشمیر یونیورسٹی میں 23ویں کل ہند اردو کتاب میلے کا افتتاح ڈاکٹر فاروق عبد اللہ(سابق وزیر اعلیٰ،جموں و کشمیر)،پروفسیر طلعت احمد( وائس چانسلر) اور قومی کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے اپنی تقریر مےںرےاست جموں وکشمیر مےں علاقائی زبانوں اور اردو کی موجودہ صورت حال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی تعلیم وتدریس پربھی زوردینا چاہیے۔ اردو ہندوستانی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سرکاری زبان بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی زبانوں سے ہمیں مرعوب ہونے کی قطعی ضرورت نہےں ہے کیوں کہ اردو مےںتمام علوم وفنون کا خزانہ موجود ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں اردو کتابوں کا تحفظ، فروغ اور اس کی اشاعت کی راہیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوگئی ہیں۔ اب نئی ٹیکنالوجی نے کتابوں تک عام قارئین کی رسائی آسان کردی ہے۔ پھر بھی بہت سے علاقے اچھی اور معیاری کتابوں سے اب بھی محروم ہیں۔ اسی لیے قومی ارد وکونسل ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کتاب میلے کا انعقاد کرتی رہی ہے۔ جنتِ ارضی کشمیر میں بھی کتاب میلے کے انعقاد کے پیچھے مقصد یہی ہے کہ عام قارئین تک کتابوں کی رسائی ہو اور ہماری کتابیں قارئین کے دروازے تک پہنچ سکیں۔

کشمیر چونکہ اردو کا مرکز ہے، علم و ادب کا گہوارہ ہے اور یہاں اردو کے چاہنے والو ںکی اچھی خاصی تعداد ہے، اس لیے قومی اردو کونسل نے اس بار کشمیر میں کتاب میلے کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور مجھے امید ہے کہ کشمیر کا یہ کتاب میلہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوگا۔ ان خیالات کا اظہارقومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے 23ویں کل ہند اردو کتاب میلے کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاست جموںکشمیر کی سرکاری زبان اردو ہے، یہاں اردو کے بڑے بڑے ادبااور شعرا پیدا ہوئے ہیں اور انھوں نے پورے ہندوستان میںاردو زبان و ادب کو نئی جہتوں سے آشنا کیا ہے۔

یہاں کے کئی شعرا اور ادبا کل ہند سطح پر شناخت اور شہرت رکھتے ہیں نیز کشمیری زبان سے اردو زبان کا بہت ہی گہرا رشتہ ہے۔ اس لیے امید ہے کہ اس کتاب میلے سے کشمیری زبان اور اردو زبان کے درمیان رشتوں میں اور مضبوطی پیدا ہوگی۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے توقع ظاہر کی کہ کتاب میلے کے توسط سے ہمیں کشمیری زبان و ثقافت سے بھی آشنائی ہوگی اور یہاں کے سماجی سروکار سے بھی ہم آگاہ ہوسکیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر ہمارے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور ہمیں کشمیر ی ادیبوں اور شاعروں سے اپنے رشتے کو اور بھی مضبوط کرنا ہے اور فروغ اردو کے منصوبوں میں کشمیری ادیبوں اور شاعروں کو خصوصی طور پر شامل کرنا ہے۔

اب تک قومی اردو کونسل کے زیراہتمام کل ہند سطح پر 22 کتاب میلوں کا انعقاد کیا گیاہے۔یہ کتاب میلہ15 جون سے23جون تک چلے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس میلے میں ہندوستان کے51 اہم اشاعتی ادارے مختلف موضوعات پر مشتمل کتابوں کے ساتھ شرکت کررہے ہیں۔ اس میلے میں مختلف ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس 9 نوروزہ کتاب میلے میں فن خطاطی کی نمائش کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کونسل کے تعاون سے اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے ہر نوع کے پروگرام کرنے کے لےے تےار ہے۔اردو زبان کی اہمےت سے کسی کو انکار نہےں ہے بالخصوص جموں و کشمیر مےں چونکہ اس کویہاں سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔

لہٰذااس کے فروغ کے لےے نہ صرف اعلیٰ سطح پر بلکہ پرائمری سطح پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے۔اس افتتاحی تقریب سے کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار اور علامہ اقبال لائبریری کے لائبریرین نے بھی خطاب کیا۔اس تقریب مےں اردو شائقین، شعبہ اردو کی صدر پروفیسر عارفہ بشریٰ کے علاوہ دیگر اساتذہ حضرات وادی کشمیر کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کثیر تعداد مےں موجود تھے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Urdu never belonged to particular faith farooq in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.