وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان پر جموں وکشمیر اسمبلی میں زبردست ہنگامہ

جموں:جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا بیان کہ ’دفعہ 370 کی منسوخی کا مطالبہ کرنے والے ملک مخالف ہیں‘ کو اسمبلی اسپیکر کویندر گپتا کی جانب سے ایوان کے ریکارڈ سے حذب کئے جانے کے خلاف ریاستی اسمبلی میں منگل کے روز شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد ایوان کی کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔ وقفہ صفر کے دوران کٹھوعہ سے بی جے پی ممبر اسمبلی راجیو جسروٹیہ نے محترمہ مفتی کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اٹانومی نیشنل کانفرنس کا ایجنڈا ہے جبکہ سیلف رول پی ڈی پی کا۔ جموں وکشمیر کو حاصل دفعہ 370 کو ختم کرنا بی جے پی کا بنیادی ایجنڈا ہے اور ہم ملک مخالف بھی نہیں ہیں‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دفعہ 370 سے متعلق ریمارکس ایوان کے ریکارڈ سے حذف کئے جائیں۔
اسپیکر کویندر گپتا نے مذکورہ رکن اسمبلی کے مطالبے پر محترمہ مفتی کے ریمارکس ایوان کے ریکارڈ سے حذف کئے جس کے بعد اپوزیشن کے اراکین نے شدید ہنگامہ آرائی شروع کی۔ انہوں نے اسپیکر کے اس اقدام کو غیرآئینی قرار دیا۔ اس کے بعد اسپیکر کویندر گپتا نے ایوان کی کاروائی پہلے 15 منٹ اور پھر 30 منٹ کے لئے ملتوی کی۔ اس دوران اگرچہ اسپیکر نے اس بات کی وضاحت کی کہ وزیر اعلیٰ کے ریمارکس کو حذف نہیں کیا گیا ہے ، تاہم اپوزیشن اراکین نے اپنا شدید احتجاج جاری رکھا۔ دوپہر پونے ایک بجے جب اپوزیشن کے تمام اراکین احتجاج کرتے ہوئے چاہِ ایوان میں پہنچ گئے تو اسپیکر نے ایوان کی کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔ نیشنل کانفرنس کے رکن دیویندر سنگھ رانا نے ایوان سے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ جب کسی وزیر اعلیٰ کے ریمارکس کو ایوان کے ریکارڈ سے حذف کیا گیا۔ مسٹر رانا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے یا استعفیٰ دے دینا چاہیے‘۔
کانگریس کے رکن نوانگ رگزن جورا نے کہا کہبی جے پی کے ایک رکن کے کہنے پر وزیر اعلیٰ کے ریمارکس حذف کئے گئے۔ ایسا ماضی میں کبھی بھی دیکھنے کو نہیں آیا‘۔ انہوں نے کہا ’اس معاملے پر ہم وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہیں، لیکن انہیں صفائی پیش کرنی چاہیے یا بحیثیت وزیر اعلیٰ مستعفی ہونا چاہیے‘۔ ایوان کی کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی کئے جانے کے بعد اپوزیشن کے تمام اراکین نے وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ کے باہر دھرنا دیا اور بی جے پی مخالف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن اراکین نے ’آر ایس ایس سرکار ہائے ہائے، بی جے پی سرکار ہائے ہائے، بجرنگی سرکار ہائے ہائے‘ کے نعرے لگائے۔ احتجاجی اراکین مطالبہ کررہے تھے کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جواب دیں کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں یا نہیں۔

Title: uproar in jk assembly over mehbooba mufti statement | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply