کشمیر میں مختلف مقامات پر دہشت گرانہ حملوں میں دو پولس اہلکار سمیت 3ہلاک ،دو زخمی

سری نگر: وادی کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران فائرنگ کے چار مختلف واقعات میں دو پولیس اہلکار سمیت تین ہلاک اور ایک خاتون اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ ریاستی دارلخلافہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں گذشتہ رات اس وقت ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا جب دہشت گردوں نے پولیس کی ایک پارٹی پر حملہ کردیا۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے گذشتہ رات قریب پونے نو بجے حیدرپورہ میں جموں وکشمیر بینک شاخ کے نذدیک پولیس کی ایک پارٹی پر فائرنگ کی جس میں دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ دونوں پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر سری نگر کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم شہزاد احمد صوفی نامی پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ زخمی پولیس اہلکار منظور احمد کی حالت بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مہلوک پولیس اہلکار شہزاد احمد شمالی ضلع بانڈی کے اشٹنگو کا رہنے والا تھا۔
فائرنگ کے اس واقعہ سے قبل سری نگرکے مضافاتی علاقہ رنگریٹ میں احتجاجی نوجوانوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں نصیر احمد شیخ نامی عام نوجوان شدید زخمی ہوکر بعدازاں نصف شب کو سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں دم توڑ گیا۔ اتفاق سے رنگریٹ میں جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والا نوجوان نصیر احمد بھی ضلع بانڈی پورہ کے اشٹنگو کا ہی رہنے والا تھا۔.موصولہ اطلاعات کے مطابق کچھ نوجوانوں نے گذشتہ شام کو رنگریٹ چوک میں سشستر سیما بل (ایس ایس بی)کے قافلے پر پتھراؤ کیا جس کے باعث یہ قافلہ مین چوک میں ہی پھنس کر رہ گیا۔ اگرچہ ایس ایس بی اہلکاروں نے آنسو گیس چھوڑی تاہم ان کا احتجاجی نوجوانوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد ایس ایس بی اہلکاروں نے مبینہ طور پر احتجاجی نوجوانوں پر براہ راست فائرنگ کی جس میں ایک نوجوان گولی لگنے سے سڑک پر گر پڑا۔ زخمی نوجوان کو پہلے بمنہ علاقہ میں واقع جہلم ویلی میڈیکل کالج و اسپتال لے جایا گیا، جہاں سے اسے تشویشناک حالت میں شیر کشمیرانسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا۔
تاہم زخمی نوجوان نصف شب کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ گولی نصیر احمد کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق نصیر احمد پتھراو کرنے والوں میں شامل نہیں تھا بلکہ جس وقت اس پر گولی چلائی گئی اس وقت وہ ایک دکان کے نذدیک کھڑا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ شمالی ضلع بانڈی پورہ کے اشٹنگو کا رہنے والے نصیر رنگریٹ میں ایک فیکٹری میں بحیثیت مزدور کام کررہا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فائرنگ کے ان دو واقعات سے قبل جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں جمعرات کو مشتبہ انتہا پسندوں نے ایک پولیس کانسٹیبل پر گولیاں چلاکر اسے ہلاک کردیا۔ ضلع کولگام کے بوگنڈ میں مشتبہ انتہا پسندوں نے پولیس کانسٹیبل شبیر احمد ڈار پر نزدیک سے گولیاں چلائی تھیں۔ شبیر احمد چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ اگرچہ زخمی شبیر احمد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ مہلوک پولیس کانسٹیبل پولیس تھانہ دمہال ہانجی پورہ میں تعینات تھا۔ دریں اثنا ضلع کولگام کے کٹراسو نامی گاؤں میں گذشتہ شام نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک خاتون پر گولیاں چلاکر اسے زخمی کردیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کٹراسو میں نامعلوم اسلحہ بردار محمد شریف بٹ کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کی بیٹی ثریا پر گولیاں چلاکر فرار ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ گولی ثریا کی ٹانگ میں لگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ثریا کو پہلے ضلع اسپتال اور بعدازاں سری نگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم زخمی ثریا کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ وادی میں فائرنگ کے ان تازہ واقعات سے قبل 13 اور 14 جون کی درمیانی رات کو جنگجوؤں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے کیمپوں اور پولیس تھانوں پر پے درپے 6 حملے کئے گئے تھے ۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Two policemen killed in twin attacks in kashmir in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply