وادی کشمیر میں جمعرات کو ایک بار پھر ٹرینوں کی آمد و رفت بند کر دی گئی

سری نگر:وادی کشمیر میں ریل خدمات جمعرات کو ایک بار پھر معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات 1931 کے 22 شہدائے کشمیر کی 86 ویں برسی کے موقع پر علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر معطل کی گئی ہیں۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر آج (جمعرات کو) تمام ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’اسی طرح صوبائی دارالخلافہ سری نگر اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر تمام ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا اقدام پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری پر عمل کے طور پر لیا گیا ہے۔ وادی میں گذشتہ دوہفتوں کے دوران یہ تیسری دفعہ ہے کہ جب ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر معطل کیا گیا۔ گذشتہ ماہ (جون) میں ریل خدمات کو مختلف وجوہات بالخصوص سیکورٹی وجوہات سے کم از کم چار مرتبہ معطل کیا گیا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 13 جولائی 1931 کو سنٹرل جیل سری نگر کے باہر ڈوگرہ پولیس کی فائرنگ میں 22 کشمیری مارے گئے تھے اور تب سے مسلسل جموں وکشمیر میں 13 جولائی کو سرکاری سطح پر ’یوم شہداء ‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 13 جولائی کشمیر کی گذشتہ 86برسوں کی تاریخ کا واحد ایسا دن ہیں جس کو سبھی مکتب ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتیں مناتی آئی ہیں۔ نہ صرف اِس دن جموں وکشمیر میں سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے بلکہ سرکاری سطح پر ہر سال پائین شہر میں واقع مزار شہداء واقع خواجہ نقشبند صاحب پر ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے جہاں سیاسی لیڈران کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Train sevice suspended in kashmir valley in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply