سیکورٹی فورسز کی کارروائی اور نوجوان کی حراستی گمشدگی کے خلاف شوپیان اور پلوامہ میں ہڑتال

سری نگر: جنوبی کشمیر کے قصبہ پلوامہ میں جمعرات کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے جھڑپوں کے دوران دکانداروں کی مبینہ مارپیٹ اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کے خلاف جمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی۔ دوسری جانب ضلع شوپیان میں زبیر احمد نامی ایک نوجوان کی زیر حراست گمشدگی کے خلاف جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ زبیر ایک جانا پہچانا سنگبازہے، جو یکم مئی کو پولیس تھانے سے فرار ہوا۔ قصبہ پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی کے خلاف جمعہ کو دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔تاہم اندرونی علاقوں میں کچھ مسافر و نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔
قصبہ پلوامہ کے دکانداروں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز نے جمعرات کو احتجاجی مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران نہ صرف متعدد دکانداروں کو زدوکوب کیا بلکہ دکانوں کی توڑ پھوڑ بھی کی۔ دکانداروں نے کل ایک احتجاجی ریلی نکال کر ملوث سیکورٹی فورس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔ دکانداروں کے ایک گروپ نے بتایا ’کل جب قصبے میں احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسزکے مابین جھڑپیں بھڑک اٹھیں تو ہم اپنی دکانوں کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے کچھ دکانوں کے اندر داخل ہوکر اشیا کی توڑ پھوڑ شروع کردی۔ جب ان دکانوں کے مالکان نے سیکورٹی فورسز کو اشیا کی توڑ پھوڑ سے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے اشتعال میں آکر دکانداروں کو بری طرح زد و کوب کیا۔

Title: total strike in shopian and pulwama | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply