ڈگری کالج سمیت چار تعلیمی اداروں میںتدریسی سرگرمیاں معطل

سری نگر:احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی کشمیر کے چار تعلیمی اداروں بشمول ایک ڈگری کالج میں منگل کے روز درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل رہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ’احتیاطی تدابیر کے طور پر شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ڈگری کالج ہندواڑہ، گورنمنٹ بوائز ہائر سکینڈری اسکول ہندواڑہ اور گورنمنٹ گرلز ہائر سکینڈری اسکول ہندواڑہ میں آج تدریس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رہیں گی‘۔
اس دوران ضلع انتظامیہ بڈگام کے مطابق گورنمنٹ بائز ہائر سکینڈری اسکول بڈگام میں آج درس وتدریس کی سرگرمیاں احتیاطی تدابیر کے طور پر معطل رکھی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ سیکورٹی فورسز نے پیر کے روز وادی کے متعدد علاقوں میں احتجاج کے مرتکب طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ دریں اثنا موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے منگل کے روز سری نگر کے مصروف ترین سڑک مولانا آزاد روڑ کی ذیلی سڑک ’ایکسچینج روڑ‘ پر جمع ہوکر سرکاری گاڑیوں پر پتھراو¿ کرنا شروع کیا۔
تاہم وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ طالب علموں کے احتجاج کی وجہ سے مولانا آزاد روڑ اور ایکسچینج روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت کچھ دیر تک متاثر رہی۔اگرچہ وادی میں ابتدائی طور پر طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 اپریل کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوا تھا، تاہم طالب علموں کے یہ احتجاجی مظاہرے اب ’آزادی حامی احتجاجی لہر‘ کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح سے کنٹرول میں ہے اور وادی کے بیشتر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو پرتشدد احتجاج کے مرتکب ہونے والے طالب علموں سے نمٹنے کے دوران حتی الامکان صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ کے طالب علموں نے کالج کے باب الداخلے کے سامنے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ناکہ بٹھانے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کالج احاطے کے اندر گھس کر شدید لاٹھی چارج، ٹیئر گیس اور پیلٹ کی شیلنگ کرکے قریب 60 طالب علموں کو زخمی کردیا تھا۔

Title: teaching work to remain suspended in some schools in kashmir valley | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply