جموں کشمیر سے فوجی انخلا کے بعد ہی کوئی بات چیت ہوگی: سید علی گیلانی

سری نگر:(یو ا ین آئی) بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ہندوستان جب تک کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو غیر مبہم الفاظ میں تسلیم نہیں کرتا اور اپنی افواج کا جموں کشمیر سے انخلاشروع نہیں کرتا، تب تک اس کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت ہوگی اور نہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہوں گے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ مرکز میں برسراقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ لوگ سیاسی بالیدگی اور دور اندیشی سے محروم ہیں اور ان میں مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ حریت چیئرمین نے ونکیا نائیڈو اور مرکزی وزراء کے آئے روز کے بیانات پر اپنا پالیسی اسٹینڈ واضح کرتے ہوئے کہا ہے ’کشمیر اگرچہ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور یہاں کے لوگ پچھلے 70سال سے اپنے حق خودارادیت کے لیے ایک جائز جدوجہد کررہے ہیں، البتہ ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں نے اس کو ایک ہندو مسلم مناقشے کے طور لیا ہے اور انہوں نے نہتے کشمیری مسلمانوں کے خلاف باضابطہ جنگ چھیڑ رکھی ہے‘۔ا نہوں نے کہا ’ہندوستان کے یہ جنونی ہندو اگرچہ ہر مسلمان کو گردن زنی تصور کرتے ہیں اور اس کے خون کو حلال سمجھتے ہیں، البتہ اپنے ناپاک عزائم کو عملانے ہندوستان انہیں کشمیر ایک آسان ہدف نظر آتا ہے اور یہاں یہ شورش اور امن وامان کا بہانہ بناکر اپنے اس ایجنڈے کو روبعمل لانا چاہتے ہیں، جس کے تحت برصغیر کے تمام مسلمانوں کو یا تو گھر واپسی کے تحت ہندوبنانا ہے یا یہاں سے کھدیڑنا ہے، یا ان کا قتل عام کرنا ہے‘۔
مسٹر گیلانی نے یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا ’ ایسے جنونی لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہوکر کشمیری قوم سرینڈر کرے گی۔ مسٹر وینکیا نائیڈو اور دوسرے لیڈروں کے یہ بیانات مضحکہ خیز ہیں کہ آزادی پسندوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے‘۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ہم نے کب بات چیت کی بھیک مانگی تھی، جو یہ انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ آخر کیسے کوئی بات چیت ہوسکتی ہے، جو مسلم خون کے پیاسے ہیں، جن کے ہاتھ گجرات، آسام اور مظفرنگر کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جن کا آخری ہدف بالی سے بامیان تک ایک ہندو راشٹر بنانے کا ہے‘۔ حریت چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا ہے ’کشمیری مسلمانوں کے لیے ایک سخت امتحان کا وقت آگیا ہے۔ جن سنگھیوں کے ہاتھوں نہ صرف ان کے جان ومال غیر محفوظ ہیں بلکہ اب ان کا دین، ان کی مسلم شناخت اور مذہبی شعائر بھی خطرے میں پڑگئے ہیں۔ ہمارے سامنے ”آزادی یا موت“ کی صورت میں دو ہی متبادل ہیں، کیونکہ زندہ رہنے کی صورت میں وہ ہم سے تب تک راضی نہیں ہوں گے، جب تک ہم ماتھے پر ٹیکا نہیں سجاتے اور زعفرانی لباس نہیں پہنتے‘۔ مسٹر گیلانی نے البتہ امید ظاہر کی کہ کشمیری مسلمان ہر صورت میں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کریں گے اور وہ ذلت اور بے غیرتی کی وہ زندگی کبھی بھی قبول نہیں کریں گے، جو جَن سنگھیوں کی غلامی میں انہیں گزارنی پڑسکتی ہے۔ مسٹر گیلانی کے مطابق بھارت کے قبضے کے خلاف جدوجہد آج تک ایک فرض کی حیثیت رکھتی تھی، البتہ جن سنگھیوں کے آنے کے بعد یہ ”فرضِ عین“ بن گئی ہے اور اب کسی بھی مسلمان کا اس سے دور رہنا اس کے ایمان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا’پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کشمیر کی دوسری ہندنواز پارٹیوں کے لوگ بھی اب دوراہے پر آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایک راستہ سیدھا کاشی سے ہوتے ہوئے ناگپور کی طرف جاتا ہے اور ایک صورت ان کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ اپنی سابقہ غلطیوں کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ اور قوم سے معافی مانگیں اور جن سنگھیوں کے خلاف لڑائی میں اپنی مظلوم قوم کا ساتھ دیں‘۔ حریت چیرمین نے کہا ’ ان کی جو جن سنگھیوں کے ہاتھوں آئے روز بے عزتی اور درگت ہوجاتی ہے، اس کے بعد انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ ان میں ذرّہ بھر بھی غیرت یا ضمیر نام کی کوئی چیز موجود ہوتی، تو ان کے کرسیوں سے چمٹنے رہنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا تھا‘۔

Title: syed ali shah geelani | In Category: کشمیر  ( kashmir )

Leave a Reply