کپواڑہ میں انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران بچی کی ہلاکت پر کشمیر میں غم وغصے کی لہر

سری نگر: شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران ایک 7 سالہ کمسن بچی کی ہلاکت اور اس کے 6 سالہ بھائی کے زخمی ہونے سے وادی کشمیر کے لوگوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جہاں کمسن بچن کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں واقع اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلباءنے جمعرات کو احتجاجی مظاہرہ کیا، وہیں سوشل میڈیا کے سہارے لوگوں نے اس ہلاکت پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے فیس بک اور ٹویٹر پر سخت مذمتی پیغامات تحریر کئے۔
خیال رہے کہ کپواڑہ کے ہایہامہ میں بدھ کے روز ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ تینانتہا پسندوں کے علاوہ ایک 7 سالہ کمسن بچی کنیزہ بھی جاں بحق ہوئی۔ جبکہ مذکورہ بچی کا 6 سالہ بھائی فیصل احمد زخمی ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کمسن بھائی بہن بھٹک کر آنے والی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے اگرچہ دونوں کو فوری طور پر نذدیکی اسپتال منتقل کیا گیا لیکن کنیزہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئی۔ کمسن کنیزہ کی ہلاکت پر عوامی حلقوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی زبردست برہمی کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر بعض کشمیری صارفین نے استفسار کیا کہ بھٹکی گولیاں ہر وقت صرف عام شہریوں کے جسموں کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ’حیران ہوں کہ یہ بھٹکیگولیاں ہر بار ایک عام شہری کے جسم کو ہی کیوں چھلنی کرتی ہیں۔ ہمارا ہر طرف سے نقصان ہورہا ہے‘۔ ایک نوجوان صحافی نے لکھا ’کپواڑہ تصادم میں آج لشکر طیبہ کے تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک” 7 سالہ دہشت گرد“ کو بھی ہلاک کیا گیا‘۔ نثار احمد نامی ایک ریسرچ اسکالر نے لکھا ’ایک سات سالہ دہشت گرد کو کل ہندوستانی فوج نے گھر میں، ماں کی گود میں مار ڈالا۔

Read all Latest kashmir news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from kashmir and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Students protest at iust against killing of minor girl in kupwara in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News

Leave a Reply